نور اللہ جاوید قاسمی
گولڈ میڈل حاصل کرنا کوئی معمول بات نہیں ہے، یہ کامیابی پورے خاندان کیلئے فخر کا لمحہ بن جاتا ہے۔ جادو پور یونیورسٹی میں شعبہ ” بین الاقوامی تعلقات “ میں پوسٹ گریجوٹ کی طالبہ دیبوس میتا چودھری کا گولڈ میڈل حاصل کرنا یقیناً پورے خاندان کیلئے فخرکا لمحہ رہا ہوگا۔ہروالدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کو گولڈ میڈل لیتے ہوئے کیمرے میں قید کرے۔ مگر دیبوس میتا چودھری نے کل جادو پور یونیورسٹی میں جلسہ تقسیم انعامات میں ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد جو کچھ کیا وہ کرنا ہرکسی کے بس کی بات نہیں اس کیلئے بہت ہی حوصلہ، عزم اور ملک کے آئین کے تئیں وفاداری کا جذبہ چاہیے۔ میتاچودھری نے ایوارڈکے حصول کو ذاتی جشن کا موقع نہیں بنایا بلکہ اس نے ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کرکے مجاہدین کے صف میں کھڑی ہوگئی۔وائس چانسلر اور پروائس چانسلر کی موجودگی میں ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد اس نے بولنے کی اجازت لیتے ہوئے کہا کہ
” میں یہاں گولڈ میڈل لینے تو آگئی ہوں مگر میرے کئی ساتھی شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی جیسے کالے قانون کے خلاف احتجاجاً ایوارڈ لینے کیلئے نہیں آئے ہیں میں بھی ان کے ساتھ کھڑی ہوں اور آج اس ایکٹ کی کاپی کو برسرعام پھاڑتی ہوں اور یہ عزم کرتی ہوں کہ میں شہریت کو ثابت کرنے کیلئے کاغذات نہیں دکھاؤں گی، انقلاب زندہ باد “۔
جادو پور یونیورسٹی ملک کی ان یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے جس کے طلباء نے ہمیشہ ملک کی رہنمائی کی ہے اور آئین و جمہوریت مخالف اقدامات کے خلاف سینہ سپر رہے ہیں۔
ایک طرف یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات ہیں تو دوسری طرف ہمارے اردوادب کے گورکھ دھندہ باز ہیں۔جنہیں ان حالات میں بھی شعر وشاعری اور جشن و طرب کی محفلیں سجانے کی فکر ہے۔ بقول شاہ رخ خان کے ” دھندہ ہے تو سب کچھ ہے اور دھندے سے بڑا کچھ نہیں ہوتا ہے “
کلکتہ کے مہاجاتی سدن میں آج ایک عظیم الشان مشاعرہ منعقد ہورہا ہے، جس میں ملک کے کئی نامور شعراء شرکت کررہے ہیں، میرے کئی احباب آج صبح سے ہی فون کرکے مشاعرے کے انعقاد پر ناراضگی ظاہر کررہے ہیں۔کئی دوستوں نے تو سماجی ویب سائٹ پر اس پرتبصرہ کرنے کی فرمایش کیاور جب میں نے یہ کہتے ہوئے معذرت کی کہ آج کل میں نے لکھنا بند کردیا ہے تو وہ ناراض ہوگئے اور ” خوف زدہ صحافی “ کا تمغہ دیدے کر فون کاٹ دیا۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ملک کی آزادی میں اردوادب نے تعمیری کردار ادا کیا ہے،اردو شاعری نے مجاہدین آزادی کے لہو کو گرمایا ہے۔ پابند سلاسل ہونے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے ہیں۔ظلم وستم کے خلاف احتجاج میں بھی اردو شاعری ایک عرصے تک رہنمائی ہے۔ مگروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اردوادب کا یہ کردار پس پردہ میں چلا گیا اور اردوادب ”ادب برائے ادب“ جیسے فضول گفتگو میں الجھ کر رہ گئی۔ چناں چہ طنزو مزاح کے بے تاج بادشاہ مجتبیٰ حسین نے تو پدم شری ایوارڈ واپس کرنے کا حوصلہ دکھلا دے مگر اردو شعراء کچھ بھی نہیں کرسکے۔
اردو ادب بالخصوص ہمارے شعراء کی سماج و معاشرہ سے کنارہ کشی ملاحظہ کریں کہ ” ملک کی نصف سے زاید آبادی شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی جیسے بدترین سیاہ قانون کے خلاف احتجاج کررہی ہے مگر اردو ادب کے فروغ کے ٹھیکداروں کو مشاعرہ اور ڈرامہ فیسٹول کے انعقاد سے فرصت نہیں ہے۔ طلباء اپنے مستقبل کی پرواہ کیے بغیر پڑھائی کا نقصان کررہے ہیں، یونیورسٹیوں کے اساتذہ اپنی نوکری اور ترقی کے امکانات کو معدوم کر رہے ہیں اور ملک کے سیکولر مزاج کے حاملین صحافی، دانشور اور دیگر شعبہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔ کیوں کہ سوال ذاتیات سے بڑھ ملک کے مستقبل کا ہوگیا مگر ہمارے ارد و کے شعراء اور ادباء کو اردو کے فروغ کیلئے اپنے جیبوں کو مالامال کرنے کی فکر لاحق ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پر لعنت بھیجنے کے علاوہ ہم کربھی کیا سکتے ہیں؟، مشہور فرانسیسی ادیب اور دانشور نے کہا تھا کہ جوادب سماج و معاشرہ کی ترجمانی کرنے سے قاصر ہوجائے تو وہ ادب معاشرہ کیلئے بوجھ بن جاتا ہے۔

Leave a Reply