نئی دہلی: (پریس ریلیز) اتر پردیش پولس کا رویہ جمہوریت کے خلاف اور انصاف کے منافی ہے ۔ یوپی کے مختلف اضلاع میں جس طر ح پولس مسلمانوں کی گرفتاری کررہی ہے ۔ جائیداد ضبط کررہی ہے اور احتجاج کرنے کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں کررہی ہے یہ قانون اور انصا ف کے خلاف ہے ۔ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ پورے معاملہ کی تحقیق کیلئے ایک آزادانہ کمیشن تشکیل دی جائے جہاں پورے معاملہ کی تحقیق ہو ۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا ۔ اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی کہاکہ متعد د رپوٹ آچکی ہے ،پختہ ثبوت مل چکا ہے کہ پولس کے ساتھ کچھ غنڈے بھی ہوتے ہیں جو ماحو ل خراب کرتے ہیں ۔ کچھ جگہوں پر پولس بھی نے بھی ماحول خراب کیا ہے ۔ گاڑیوں کو نذر آتش کیاہے ۔ اتر پردیش کی ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں دیکھا جارہاہے کہ پولس کی طرف کچھ سول لباس میں ہیں جو مظاہرین پر پتھر پھینک رہے ہیں ۔ یہ ساری بتارہی ہیں کہ پرامن احتجاج کو تشدد میں تبدیل کرنے کیلئے عوام سے زیادہ پولس ذمہ داری ہے اور معاملہ کی سچائی کیلئے انکوائری کمیشن کی تشکیل ضروری ہے ۔ انکوائری اور تحقیق کے بغیر حکومت اور انتظامیہ کو کاروائی کا کوئی حق نہیں ہے اور اس طرح کی سبھی کاروائی سراسر زیادتی ،ظلم اور عدالتی نظام کے خلاف ہے ۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے حوالے سے یوپی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے قدم کی بھی مخالفت کی اور کہاکہ بغیر کسی ثبوت کسی تنظیم پر تشدد بھڑکانے کا الزام عائد کرنا اور اس پر پابندی عائد کرنے کی بات کرنا آئین اور دستور کے خلاف ہے او ریہ ایک طرح کی تاناشاہی ہے جس کا یوپی سرکار ارتکا ب کررہی ہے ۔ہندوستان میں آئین ،دستور اور قانون ہے جس کو فلو کرنا اور اس کے مطابق چلنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے ۔

Leave a Reply