نئی دہلی: (پریس ریلیز)باہمی رابطے اور ایک سماج و کلچر کو دوسرے سے متعارف کرانے میں زبان کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو عربوں میں متعارف کرانے میں ہندوستانی راجاو ¿ں اور ویدوں کے ذریعہ عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے نمایاں کام لیا ۔ انہیں کے دور حکومت میں آیور ویدک طریقہ علاج کے ماہر منکہ ہندی اور اسٹرالوجی کے دیگر ماہرین کی تخلیقات کو عربی میں منتقل کرنے کا تاریخی کام ہوا۔ بعد کے ادوار میں یہ سلسلہ اور آگے بڑھتا رہا ،حتی کہ رامائن اور گیتا جیسی مذہبی کتابوں کے عربی تراجم منظر عام پر آئے۔ اس طرح اگر تاریخ کی گہرائی میں جھانکا جائے تو یقین ہوتا ہے کہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت اور عرب تہذیب کو ایک دوسرے سے متعارف کرانے لسانی روابط نے سنگ میل کا کام کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے ”عالمی کتاب میلہ“ میں سعودی عرب کے کلچرل اتاشی کے زیر اہتمام منعقدہ لیکچرز سیریز کی نظامت کے دوران کیا۔حسب پروگرام آج لیکچرسیریز کے تین خطابات ہونے تھے ،جن میں پہلا لیکچر مملکت سعودیہ عرب میں تعلیمی کے شعبے سرمایہ کاری کے امکانات کے موضوع پر عبدالرحمان بن سعد الھویمل کاہونا تھا۔ مگر کسی ناگزیر وجہ سے ان کا سفر ممکن نہیں ہوسکا ۔ جبکہ دوسرا لیکچر بعنوان ” انٹرنیشنل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز کے درمیا ن پارٹنر شپ “پرڈاکٹر صالح بن ضیف اللہ العمری کا تھا۔ اپنے لیکچر ڈاکٹر موصوف نے بتایا کہ اس وقت عالمی سطح پر اعلی تعلیم گاہیں ایک دوسرے سے شراکت داری کررہی ہیں،جس سے سائنس و تکنالوجی سمیت زبان وادب اور مذہب کی تعلیم کے بہتر ثمرات سامنے آ رہے ہیں۔اس منصوبہ کے تحت سعودیہ عرب کی متعدد یونیورسیٹیز دیگر ممالک امریکہ، برطانیہ ،اٹلی ، فرانس اور جرمنی وغیرہ سے اشتراک کرکے تعلیمی معیار کو بلند کرنے میں فعال کردار ادا کررہی ہیں۔ اس سلسلے کا تعلیمی اشتراک البانیہ، جاپان اور برصغیر کے درجنوں ممالک کے ساتھ حکومت سعودی عرب کرچکی ہے اور اس میں مزید وسعت دی جارہی ہے۔ خود ہندوستان جامعہ بنارس کے علاوہ دیگر کئی جامعات کے ساتھ ہمارا تعلیمی اشتراک ہے اور بعض جامعات سے الحاق کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

Leave a Reply