غیر بی جے پی حکومت والی ریاستیں این پی آر بھی نافذ نہ کرنے کا اعلان کریں ـ ممبئی کی تنظیموں کا مطالبہ ـ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
ممبئی ۹ جنوری انجمن اسلام کریمی لائبریری میں شہری ترمیمی بل، این آرسی اور این پی آر کے سلسلے میں ممبئی کی ملی تنظیموںنے اہم میٹنگ کی، جس میں متفقہ طور پر طے کیا گیا کہ پورے ملک میں طلبا اور برادران وطن کی سربراہی میں سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے لئے جو بھی احتجاجات ہورہے ہیں ان کو سپورٹ کیا جائے، ساتھ ہی عوام کے مختلف طبقات کے کے اندر اس سلسلے میں بیداری پیدا کرنے کی کوششوں کو تیز کیا جائے،
طے کیاگیاکہ خواتین میں بیداری پیدا کرنے کے لئے 17 جنوری کو وائی ایم سی اے گراونڈ ممبئی سنٹرل میں خواتین کی ایک بڑی ریلی کی جائے گی، جس میں ملک کی سرکردہ خواتین رہنما مثلا سپریہ سولے، بندرا کرات، ڈاکٹر اسما زہرہ، ٹیسٹا سیتلواد اور سورا بھاسکر وغیرہ خطاب کریں گی ـ
یہ بھی طے ہوا کہ این آرسی، سی اے اے کے لئے پہلے سے کام کررہی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اسی ماہ ایک بڑی ریلی کا اہتمام کرنے جارہی ہے، اس کا بھرپور تعاون کیا جائے گا ـ
اس سلسلے میں مختلف کمیٹییاں بنانا طے کیا گیا، غیر مسلم براداران سے رابطہ مزید مضبوط کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی نیز وہ علماء وائمہ جو این آرسی وغیرہ کی باریکیوں سے واقف نہیں ہیں ان سے رابطہ کیا جائے اور ان کی مناسب ٹرینگ کےانتظام کے لئے ایک کمیٹی، مسلم اداروں اسکولوں اور کالجوں میں جاکر طلبا کو ان قانونوں کی خرابیوں سے سے آگاہ کرنے کے لئے ایک کمیٹی اور قانونی کارروائی کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی، اس کے علاوہ دیگر ضروری امور کے لئے افراد کو متعین کیا گیا ـ
این پی آر کے سلسلے میں میٹنگ کے بیشترشرکاء نے یہ کہا کہ حکومت این آرسی سے متعلق ملگ گیر احتجاج سے گبھرا کر چور دروازے سے این پی آر کے نام پر این آرسی نافذ کرنے کی کوشش کررہی ہے، اس کے لئے تمام انصاف پسند برادران وطن کوساتھ لے کر سخت احتجاج کیا جائے گا، اسی کے ساتھ تمام انصاف پسندوں سے اپیل بھی کی گئی کہ وہ تمام ریاستیں جہاں غیر بی جےپی پارٹیوں کی حکومت ہے اور انھوں نے اپنے یہاں سی اےاے اور این آرسی کو اہنے یہاں نافذ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ان سے مطالبہ کریں کہ وہ اپنی ریاستوں میں این پی آر بھی نافذ نہ کرنے کا اعلان کریں ـ واضح رہے کہ اب تک صرف مغربی بنگال اور کیرالا حکومتوں نے ہی اپنے یہاں این پی آر نافذ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ـ
یہ بھی طے کیا گیا کہ ذمہ داروں کا ایک وفد مہاراشٹر کے وزیر اعلی سے ملاقات کرکے یہ مطالبہ کرے گا کہ این آر پی کے سلسلے میں بھی یہ صاف اعلان کریں کہ وہ مہاراشٹرا میں نافذ نہیں ہوگا ـ
میٹنگ میں سرکردہ علماء کرام، سماجی تنظیموں کے سربراہ، ماہرین تعلیم اور ذمہ داران شہر مثلا مولانا محمود دریابادی، مولاناسید اطہر علی، مولانا عبدالسلام سلفی، ڈاکٹر عظیم الدین، فرید شیخ، مولانا برہان الدین، مولانا انیس اشرفی، سلیم موٹر والا، کاظم ملک، مولانا اعجاز کشمیری، نورالدین نائیک، مولانا ذاکرقاسمی، قاری صادق، عامرادریسی، مولانا صغیرنظامی، سعید خان، یونس منیار، اسلم غازی، عبدالحسیب بھاٹکر، مفتی جنید، مولانا طہ قاسمی اور سید غفران وغیرہ بھی شریک تھے ـ

Leave a Reply