شاہین باغ کی طرز پر پٹنہ کے سبزی باغ میں بھی دھرنا اور احتجاج








مظاہرہ میں سیکڑوں مرد وخواتین اور طلبا شامل، ہندوستانیوں میں تفریق پیدا کرنے والے قانون کو واپس لینے کا مطالبہ، طلبا نے ’آر ایس ایس پر ہلہ بولا، جو سرکار نکمی ہے وہ سرکار بدلنی ہے‘ جیسے نعرے لگائے

سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر پٹنہ کے سبزی باغ میں بھی سیکڑوں مرد و خواتین اور طلبہ نے اتوار کو غیر معینہ مدت کا دھرنا اور احتجاج شروع کر دیا ہے۔ شدید سردی کے باوجود پیر بہور تھانہ سے صرف سو میٹر کی دوری پر شروع ہونے والے سبزی باغ کے اس دھرنا میں خواتین کی زیادہ تعداد راہگیروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ہاتھوں میں ترنگا لئے ہوئے مظاہرین ’این آر سی نہیں چلے گا‘،سی اے اے واپس لو، آر ایس ایس پر ہلہ بول، جو سرکار نکمی ہے وہ سرکار بدلنی ہے جیسے نعرے لگارہے تھے۔ یہاں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی۔

احتجاج کرنےو الوں میں 10سال کے بچوں سے لے کر 70 سال عمر تک کے بزرگ بھی شامل تھے ۔ سماجی ایکٹوسٹ روپیش کمار نے دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندو مسلم کی لڑائی نہیں بلکہ یہ آئین بچانے کی جدو جہد ہے ۔ مرکز کی حکومت نے ہندوستان کے آئین پر حملہ شروع کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہریت سے ہی دوسرے حقوق کی بازیابی ہوتی ہے جو ہمیں آئین نے پہلے ہی دے رکھا ہے ۔ اس لئے آئین پرکسی طرح کا حملہ ملک کے لئے نقصان دہ ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر احتجاج کریں ۔ پٹنہ یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے لیڈر منیش کمار نےکہا کہ جس طرح پرمذہب کی بنیاد پرشہریت قانون نافذ کیا گیاہے وہ آئین پربراہ راست حملہ ہے ۔ سماج کو ہندو مسلم یا ذات پات پر بانٹنے کی اس سازش کو ہمیں ناکام کرنا ہوگا۔ ہمیں سمجھنا چاہئے کہ آسام میں صرف مسلمان این آرسی سے باہر نہیں ہوئے تھے بلکہ 14؍لاکھ ہندو بھی باہر ہوگئے تھے۔ یہ لڑائی ہندو – مسلم کی نہیں بلکہ منووادیوں کے خلاف ہے جو 85؍فیصد آبادی کو غربت اور مفلسی میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے ووٹ کے اختیارات چھین کر انہیں غلام بنانا چاہتے ہیں ۔ حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم لوگ کسی بھی ایسے قانون کی مخالفت کرتے ہیں جو ہندوستانیوں کے خلاف ہو،غریب ، مزدور، کے خلاف ہو،جو کسی بھید بھاؤ کے ساتھ پاس ہوا ہو۔
یونیورسٹی کی طالبہ آکانچھا نے کہا کہ مرکزی حکومت لوگوں کو صرف ہندو مسلم میں الجھا کر رکھنا چاہتی ہے تاکہ عوام حکومت سے کوئی سوال نہ کرسکے ، بے روزگاری ، مہنگائی اور روزگار کے سوالات نہ پوچھے ۔ یہ حکومت نوکری کےمواقع پیدا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اس لئے حکومت نوجوانوں کو مذہب میں الجھانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ فاشسٹ حکومتیں جھکتی نہیں بلکہ عوام کو ہی جھکانا پڑتا ہے ۔ جس طرح ملک گیر سطح پر یہ تحریک چل رہی ہے اس سے یہ حکومت بوکھلا چکی ہے ، مگر ہم حکومت کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ جب تک سی اے اے این پی آراور این آر سی واپس نہیں لئے جاتے ہم اپنی تحریک واپس نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ این پی آر کے لئے گزٹ اور نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بجائے فی الوقت اس پر روک لگادینی چاہئے ۔ مردم شماری سے ہمیں گریز نہیں مگر اس میں آبا و اجداد کی پیدائش اور جائے پیدائش کے کالم پر از سر نو غور کیا جائے اور اس کالم کو حذف کیا جائے ۔ ایسے قانون کی ہم مخالفت کر تے ہیں۔
دھرنا سے خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر ریحان غنی ، شاہ حسین احمد روپیش ، آکانشا، افضل امام ، بھی شامل تھے ۔ اس کے علاوہ توفیق عالم، انجینئیر گلزار احسن، خطیب ، آفاق احمد خاں، بختیار التوحید، انجنئیر محمد حسین، اکبر رضا جمشید ،انوار الہدیٰ ، شہزاد انور انصاری، عارف باری، فضل احمد خاں، شاہد اکبر ، سید اسد رضا، شاداب حسین ، سوجنیہ اپادھیائے ، افضل حسین ، اکشے ، کومیل ، افضل رضوی وغیرہ بھی موجود تھے ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *