مؤ میں میں شہریت قانون کے خلاف سماج وادی پارٹی کا احتجاجی مارچ، متعدد کارکنان کو پولیس نے گرفتار کرلیا








گھوسی سے مظفر الاسلام کی رپورٹ

گھوسی/ (مؤ) : مقامی شہر میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سماجوادی پارٹی کے زیرقیادت سوموار کو نکل نے والے مظاہرے کو لیکر مقامی انتظامیہ نے صبح سے ہی بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کے ساتھ گشت کرتی نظر آرہی تھی۔
صبح سے ہی سپا رہنماؤں اور پولیس افسران کی چھپنے اور ڈھونڈنے کا کھیل جاری رہا۔ جہاں صبح 11 بجے سپا قائدین اور گھوسی بلاک کے سربراہ سوجت سنگھ ایس پی سٹی صدر خورشید خان ، سابقہ ​​شہر صدر شعیب نظامی ، سماجی کارکن عاقب صدیقی ، ریاض الحق، مننا کے ساتھ ساتھ درجوں لوگوں کو مدرسہ شمس العلوم ، مدھوبن موڑ سے جلوس نکالنے سے قبل پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا۔ وہیں مظاہرے میں شامل ہونے آرہے سلطان پور گاؤں کے پردھان مولانا شمش تبریز کو مدهوبن موڑ سے گرفتا کرلیا گیا۔
ان نتاؤں کی گرفتاری کے بعد پولیس دن بھر دوسرے رہنماؤں کی گرفتاری کے انکے ممکنہ اہداف پر چھاپے مارتی رہی وہیں پولیس کے سخت نگرانی کے باوجود ضلع پنچایت کے ممبر اودھیش باغی کی سربراہی میں ڈھائی بجے کے لگ بھگ شہر کے کریم الدین پور بگھی سے لوگوں نے مارچ نکالنے کی کوشش کی ، لیکن جلوس صرف چند قدم ہی چل پایا تھا کی گھوسی سی او ابھنو کانو جیہ اور کوتوال پر مانند مشرا اپنے پولیس اہلکاروں کے ساتھ پہنچے اور جلوس کو ختم کرنے کے لئے کہا۔ جس پر اودھیش باغی نے کہا کہ وہ ایک پرامن جلوس نکال کر تحصیل ہیڈ کوارٹر میں اپنا میمورنڈم جمع کروانا چاہتے ہیں۔ جیسے لیکر اودھیش نے باغی اور گھوسی سی او کے بیچ تیکھی نوک جھوک ہوگئی۔ لیکن انتظامیہ بھی اپنی ضد پے ڈ ٹا رہا اور صدر مملکت کو ایک پانچ نکاتی مطالبہ خط دے کر جلوس کا اختتام پذیر ہوا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *