احتجاج کے ۳۴/ویں دن بڑی تعداد میں چلو جامعہ مہم میں طلبہ و عوام کی شرکت، دہلی پولس کی بربریت کی مذمت، حکومتی پالیسی پر نکتہ چینی، اپنے عزائم پر ڈٹے رہنے کا اعلان
نئی دہلی: ( جامعہ کیمپس سے محمد علم اللہ کی رپوٹ ) قومی شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، قومی شہریت رجسٹر (این آرسی) اور قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کی جانب سے شروع کی گئی تحریک نے ایک قومی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس سلسلے میں ہر روز احتجاجی طلباء کو حمایت دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے جامعہ اور آس پاس علاقے میں احتجاجیوں کا جم غفیر نظر آرہا ہے۔ جامعہ میں سی اے اے کے خلاف ہو رہے احتجاج کا آج 34 واں دن تھا۔ 15دسمبر2019 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین کے خلاف پولس کے ذریعہ کئے گئے تشدد اور طلباء و طالبات کے ساتھ بربریت کی مناسبت سے ایک آج 15جنوری 2020 کو ماہ مکمل ہونے پر جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی نے ’ چلو جامعہ ‘ نام سے کال دی تھی جس میں دہلی سمیت ملک کی مختلف یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے طلباء اور ان کے لیڈروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی یونیورسٹی، امبیڈکر یونیورسٹی، ایمس، جامعہ ہمدرد سمیت کئی تعلیمی اداروں کے طلباء نے بڑی تعداد میں آئے اور طلباء تنظیموں کے لیڈروں نے مظاہرین کوخطاب کیا۔ آج آس پاس کے لوگوں نے بھی مظاہرے میں بڑی تعداد میں شرکت کی اور الگ الگ انداز میں سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف احتجاج کرتے دیکھے گئے۔
جامعہ کے سامنے روڈ پرجمع ہزاروں مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینس (سیٹو) کے سدھے شور شکلا نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صنعت کار، مزدور، طلباء سبھی بری حالت میں ہیں اور حکومت سورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم آپ کی حمایت میں کارخانے ٹھپ کر دیں گے۔ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یوآئی) کے قومی صدر نیرج کندن نے کہا کہ آج جو بھی آدمی سی اے اے اور این آرسی کی مخالفت کر رہا ہے اسے نکسلی کہا جا رہا ہے۔ حکومت عوام کو اصل مسائل سے بھٹکانا چاہتی ہیں، وہ بے روزگاری، غریبی اور معیشت کے مسائل پر بات نہیں کرنا چاہتی کیونکہ اس میں ان کی ناکامی نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایس یو آئی کا ہر کارکن آپ لوگوں کے ساتھ ہے اور ساتھ لڑے گا، میں ان سبھی ستیہ گرہ کرنے والوں کو انقلابی سلام کرتا ہوں جو بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سابق کابینہ رکن فرحان زبےری نے کہا کہ میں یہاں پر جمع ہوئے تمام لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں کیونکہ یہاں آپ سبھی اپنے حق کی لڑائی لڑنے آئے ہیں۔ اداکارہ دیپیکا پادکون کے جے این یو دورہ کے بعد فلم ’چھپاک‘ کے بائیکاٹ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کس طرح ’ چھپاک ‘ دیکھے بغیر اس کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم صدیوں سے قوم پرست رہے ہیں اور ہم نے اس ملک کو ’ انقلاب زندہ باد ‘ کا نعرہ دیا ہے مگر ایک طبقہ آج ہم سے شہریت کا ثبوت مانگ رہا ہے۔
راجیہ سبھا کے ممبر پارلیمنٹ بنی وشوام نے مظاہرین کےجم غفیرسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت طالب علموں کو طاقت کے بل پر روکنا چاہتی ہے لیکن طلباء جو حقیقی بھارت ہے، وہ انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مودی ہو، بی جے پی ہو یا آر ایس ایس ہو کوئی بھی ہندوستان کو شکست نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ یونیورسٹی اپنے آپ میں ایک تاریخ رقم کررہی ہے، ہم سب ساتھ مل کر اس سیاہ قانون کو شکست دیں گے۔ جامعہ کے سابق طالب علم عمیق جامعی نے کہا کہ آپ نے جامعہ کو ’ پریورتن چوک ‘ اور ’ تحریر اسکوائر ‘ میں بدل دیا ہے، جہاں سے بڑی بڑی تحریکوں اور انقلابات کا آغاز ہوا تھا۔ مظاہرے میں ہوئے تشدد کا ذکر کرتے ہوئے جامعی نے کہا کہ شام 6 بجے کے بعد 50 شرابیوں کا ایک گروپ آتا ہے اور پرامن مظاہرین پر پتھر پھینکنے لگتا ہے اور وہ لوگ جے این یو میں بھی آتے ہیں تب بھی پکڑے نہیں جاتے۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوگی ہی اس سب کے محرک ہیں۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلباء یونین کے سابق نائب صدر سجاد راٹھور نے کہا کہ یہ لڑائی ملک کو بچانے کی ہے اور آر ایس ایس اور بی جے پی مسلسل ہمیں توڑنے کی کوششیں کر رہے ہیں، ہم ملک کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ حکومت چاہتی ہے کہ عوام ان پڑھ ہی رہ جائے تاکہ مستقبل میں بھی وہ حکمران کے طور پر بلا مقابلہ منتخب ہوتے رہیں۔ تحریک کو حمایت دینے کےلئے تشریف لائے ایمس کے رضوان نے کہا کہ میں کیرالہ سے ہوں اور میری ہندی اتنی ہی بری ہے جتنی حکومت کی پالیسیاں ہیں۔ بانیان جامعہ کا ذکر کرتے ہوئے رضوان نے کہا کہ جب ادارے کے بانیوں نے اس یونیورسٹی کو قائم کیا تو انہوں نے نہ صرف ملک کے مستقبل کو محفوظ کیا تھا بلکہ اس ملک کے اصل اقدار کے دفاع کے لئے بھی ایک جگہ بنائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل اقلیتوں کیلئے پالیسیاں بدل رہی ہے، آج تبدیلی کی بنیاد ایشٹ ہے ،کل کوئی اور رنگ ہوگا، جلد ہو گی۔ بجنور تشدد کے شکار ہوئے یو پی ایس سی کی تیاری کر رہے سلیمان کے بھائی نے جامعہ کے گیٹ پرسی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف جاری احتجاج میں موجود طلباء و طالبات ، شہریوں، کارکنان کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا بھائی جمعہ کی نماز پڑھنے کےلئے گیا تھا ، جب وہ مسجد سے باہر نکلا تو وہاں موجود آر ایس ایس اور پولس کے لوگ اسے اپنے ساتھ لے گئے اور مار ڈالا۔ جب لوگوں نے اسے اسپتال لے جانے کی کوشش کی تو پولس نے لے جانے نہیں دیا الٹا انہوں نے لوگوں سے کہا کہ’ٹھوک دیں گے!‘۔ اس کے بعد ملکی اور غیرملکی میڈیا نے ہماری مدد کی۔ انہوں نے حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم یہ کیس لڑتے ہوئے ڈرتے ہیں۔
جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) طلباء یونین کی صدر آئیشی گھوش نے ’بلڈی سنڈے‘ پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء و طالبات اور عام لوگوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ شاہین باغ کی بہادر خواتین سے ترغیب لینے کی ضرورت ہے۔ جامعہ میں دہلی پولس کی طرف سے کئے گئے تشدد پر آئیشی نے کہا کہ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج میں پولس مسجد اور لائبریری کس طرح توڑ سکتی ہے؟ اس پر ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ وزیر داخلہ امت شاہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے آئیشی نے کہا کہ امت شاہ نے چند ماہ قبل کہا تھا کہ مسلم خواتین آزاد نہیں ہیں، آپ نے انہیں دکھا دیا کہ آپ کتنی طاقتور ہیں۔ کشمیر معاملے پر بیباکی سے اپنی بات رکھتے ہوئے آئشی گھوش نے کہا کہ ہم کشمیریوں کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ وہیں سے آئین پر حملہ شروع ہوا تھا۔ الہ آباد یونیورسٹی کے روی نے کہا کہ حکومت کو آخر مسلمانوں سے کیا پریشانی ہے ؟، اگر ہندو مسلم مل کر رہیں جیسے سب مل کر آزادی کےلئے لڑے تھے ویسے ہی آج ساتھ مل کر غریبوں کے حقوق کیلئے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں سی اے اے اور این آر سی مخالفت کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ بی جے پی کے ٹکڑے ٹکڑے ہوں گے۔ اس موقع پر طلباء کی حمایت میں بھارتیہ کسان یونین پنجاب کے وفدنے بھی مظاہرے میں شرکت اور طلباء کو اپنی حمایت دی۔

Leave a Reply