گیا کے شانتی باغ میں احتجاج مسلسل جاری، 19ویں دن 200 سے زیادہ خواتین نے روزہ رکھنے کا اہتمام کیا








گیا: شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت میں بہار کے شہر گیا میں گزشتہ 19 دنوں سے احتجاج مسلسل جاری ہے۔ اس غیرمعینہ دھرنا میں سیکڑوں خواتین ومردوں نے گذشتہ دن روزہ رکھ کر ملک میں امن وامان کے لیے دعائیں کی۔

ریاست بہار کے شہر گیا میں واقع شانتی باغ محلے کے وسیع میدان میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف روزانہ منفرد انداز میں احتجاج کیا جا رہا ہے، یہاں ‘سنویدھان بچاؤ مورچہ’ کی طرف سے گزشتہ 29 دسمبر 2019 سے غیرمعینہ احتجاج ودھرنا جاری ہے۔

شہریت ترمیمی قانون کو لیکر روزانہ ہزاروں خواتین نہ صرف دھرنے میں موجود ہوتی ہیں، بلکہ وہ اپنے جذبات و احساسات سے غور و فکر کرنے پر مجبور کردیتی ہیں۔دھرنے کے انیسویں دن خواتین نے روزہ رکھ کر منفرد انداز میں نہ صرف مخالفت درج کرائی بلکہ خدا سے غیبی امداد اور ملک و ریاست کی خوشحالی وخیرسگالی اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور حکومت کے ذریعے لائے گئے کالا قانون کو واپسی کے لیے دعائیں بھی مانگی۔دھرنا میں موجود روزہ دار خاتون فاطمہ خان نے بتایا کہ سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کی مخالفت میں قریب ڈھائی سو خواتین نے اجتماعی طورسے روزہ رکھا۔خواتین روزہ داروں نے دھرنے میں افطار کے وقت دعا کی، جس میں ملک و ریاست کی خوشحالی، خیرسگالی اور امن و امان برقرار رہنے کے ساتھ حکومت اپنے ارادے کوترک کردے اسکی بھی دعا کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے خلاف ہرطرح کی لڑائی جاری رہے گی۔نصرت حسن نے کہا کہ جب بھی کوئی مصیبت آئے توروزہ رکھنا چاہئے اور یہ وقت ہمارے لیے مصیبت کا وقت ہے۔ حکومت نے ہرشخص کو پریشان ومجبور کردیا ہے۔ ہم سے ہماری شہریت چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ (بشکریہ ای ٹی وی بھارت)

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *