تحریر : فاطمہ خان ، دہلی
ترجمہ: محمد علم اللہ، دہلی
اسدالدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے آئندہ ماہ بہار کے اسمبلی انتخابات میں تقریباً 50 نشستوں (یعنی کل نشستوں کے تقریباً پانچویں حصے) پر انتخاب لڑنے کے اپنے منصوبے کا اعلان کیا ہے ۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ناکامی کے باوجود، مجلس بہت پر امید ہے کہ اس بار وہ ریاستی سیاست میں اپنی موجودگی ضرور درج کرا پائے گی۔ لیکن اویسی کے اعلان کے فوراً بعد ہی حزب اختلاف راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنماؤں کی طرف سے کہا گیا کہ اویسی کی پارٹی ’بی جے پی کی بی ٹیم‘ ہے، جو ‘سیکولر’ ووٹوں کو تقسیم کرکے بی جے پی کو جیتنے میں مدد فراہم کررہی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اویسی کے اوپر حکمران جماعت کی بی ٹیم کا لیبل لگایا گیا ہو۔ ماضی میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے متعدد رہنماؤں نے ان کے اوپر ایسے ہی الزامات عائد کئے ہیں ۔ راہل نے 2018 میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’ اس پارٹی کا کام ہی بی جے پی مخالف ووٹوں کی تقسیم ہے۔‘ [دلسچسپ بات یہ ہے کہ) یہ الزام اسی وقت نمایاں طور پر سامنے آتا ہے جب مجلس اتحاد المسلمین کسی نئی ریاست میں قدم جمانے کی کوشش کرتی ہے۔
بہرحال مہاراشٹر، بہار ، اترپردیش اور جھارکھنڈ میں گذشتہ چھ سالوں میں مجلس کے ذریعے لڑی جانے والی نشستوں کے تجزیے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس تھیوری میں کچھ دم نہیں ہے کہ یہ جماعت ان نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے ووٹ کاٹتی ہو یا بی جے پی کی جیت میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہو۔
’سیکولر‘ پارٹیوں کو زک پہنچانے کی کہانی کی حقیقت
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے تلنگانہ / آندھراپردیش کے باہر پہلا الیکشن 2014 میں مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابات میں لڑا تھا ، جہاں اس نے 288 نشستوں میں سے 24 پر امیدوار کھڑے کیے تھے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پارٹی نے صرف دو سیٹیں حاصل کی تھیں۔ اورنگ آباد سینٹرل اور بائیکلہ ۔اورنگ آباد سینٹرل سے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے امتیاز جلیل نے شیوسینا کے پردیپ جیسوال کو ہرا یا تھا۔ بائیکلہ سے وارث پٹھان نے بی جے پی کے مدھو دادا چوان کو شکست دی تھی۔ وہاں اس پارٹی نے صرف دو حلقوں — ناندیڑ جنوبی اور مغربی بھیونڈی — میں ’ سیکولر ‘ پارٹیوں کے ووٹ کاٹے تھے۔ ان نشستوں پر شیوسینا اور بی جے پی کو جتانے والے ووٹوں کا فرق ان ووٹوں سے کم تھا جو شو سینا اور بی جے پی کے امیدواروں کو ’ سیکولر ‘ جماعتوں کے خلاف ملے تھے اور جو اے آئی ایم آئی ایم کے ملنے والے ووٹوں سے کم تھے۔
2019 کے مہاراشٹر کے ریاستی انتخابات میں، مجلس اتحاد المسلمین نے 44 نشستوں پر مقابلہ کیا تھا جو 2014 کی نسبت تقریباً دوگنی ہیں۔ اس الیکشن میں پارٹی اپنی سابقہ دو نشستیں برقرار نہیں رکھ پائی، مگر اس نے دو نئے حلقوں میں کامیابی ضرور حاصل کی – شاہ فاروق انور نے آزاد امیدوار کو ہرا کر دھولیہ کی نشست پر کامیابی حاصل کی ، جبکہ مالیگاؤں سنٹرل سے محمد خلیق نے کانگریس کے ایک امیدوار کو ہرا یا۔ پارٹی کو ملنے والے ووٹوں کی حصہ داری بھی 2014 میں 5 لاکھ ووٹوں سے بڑھ کر 2019 میں 7.5 لاکھ ووٹوں تک پہنچ گئی ۔ بہرحال 2019 میں شیوسینا اور بی جے پی کی جیت کا فرق مجلس اتحاد المسلمین کے سات حلقوں — بالا پور ، ناگپور وسط ، ناندیڑ شمال ، پونے چھاؤنی ، سانگولا ، چانڈیولی اور پیتھن — میں ملے ووٹوں سے کم تھا۔
تقریباً دیگران تمام حلقوں میں جہاں مجلس اتحاد المسلمین نے پنجہ آزمائی کی، وہاں دو ہی چیزیں دیکھنے کو ملیں —اول یہ کہ کانگریس یا این سی پی کی طرح ایک غیر بی جے پی / غیر شیوسینا پارٹی نے کامیابی حاصل کی ، جس کا مطلب یہ ہوا کہ مجلس اتحاد المسلمین نے کسی ’سیکولر‘ پارٹی کی جیت میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ دوسرے یہ کہ بی جے پی / شیوسینا کو جتانے والے ووٹوں کا فرق مجلس اتحاد المسلمین کے ووٹ سے زیادہ تھا، یعنی ’ سیکولر ‘ جماعتوں کی کامیابی کے امکانات ہی نہیں تھے۔
اے آئی ایم آئی ایم نے 2017 کے اتر پردیش کے انتخابات بھی لڑے تھے اور ریاست کی 403 میں سے 38 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے۔ جن میں سے ایک پر بھی اسے کامیابی نہ مل سکی ۔ چونکہ بی جے پی نے 325 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے زبردست فتح حاصل کی تھی ایسے میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین پر ایک بار پھر ریاست میں ’ سیکولر ‘ ووٹ کی تقسیم کا الزام عائد کیا گیا۔ لیکن اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی نے 38 نشستوں میں سے صرف چار سیٹوں پر ہی ایسا کیا یعنی کانت، ٹنڈا، شراوستی اور گیینساری میں، جہاں بی جے پی کے جیتنے کا فرق مجلس کے ذریعے حاصل کئے گئے ووٹوں سے کم تھا۔
سیکولر جماعتوں پر بہار جھارکھنڈ میں مجلس کا اثر
مجلس اتحاد المسلمین نے 2015 بہار کے اسمبلی انتخابات میں چھ نشستوں پر انتخابات لڑے تھے- یہ سبھی نشستیں سیمانچل خطے سے تھیں، جس میں ایک بڑی مسلم آبادی ہے۔ یہاں سبھی چھ امیدوار ہار گئے تھے، ان میں سے صرف ایک اپنی ضمانت بچانے میں کامیاب ہو سکا تھا۔
مجلس نے یہاں ‘سیکولر’ پارٹیوں کے ووٹوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا یا، کیونکہ ان چھ سیٹوں میں سے جہاں ان کے امیدوار اپنی قسمت آزما رہے تھے، پانچ نشستوں ( کشن گنج ، بسی ، امور ، کوچھا دھمن اور رانی گنج ) پر اس وقت کے کانگریس – آر جے ڈی-جنتا دل (متحدہ) کے الائنس کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی۔ چھٹی سیٹ (بلرام پور) سے سی پی آئی (ایم ایل) کے امیدوار کو حاصل ہوئی تھی۔
دسمبر 2019 میں، ہندی بیلٹ میں پھر سے اپنے آپ کو وسعت دینے کی کوشش میں، اے آئی ایم آئی ایم نے جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات میں 81 میں سے 16 نشستوں پر مقابلہ کیا، لیکن اسے کسی بھی سیٹ پر کامیابی ہاتھ نہ لگی۔ جہاں جھارکھنڈ مکتی مورچہ-کانگریس-آر جے ڈی اتحاد نے 47 نشستوں پر جیت درج کر کے اکثریت حاصل کی، وہیں مجلس نے غیر بی جے پی ووٹوں کو تقسیم کر کے اپنے اوپر ’بی جے پی کی ہم نوا‘ ہونے کا لیبل لگا لیا۔ تاہم ، اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مجلس صرف دو سیٹوں ( بشرم پور اور منڈو) پر بی جے پی کے جیتنے والے فرق سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
تجزیہ کاروں کے بقول ووٹ کاٹنے والی بات میں دم نہیں
اگرچہ اعداد و شمار سے یہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے کسی غیر بی جے پی پارٹی کے برسوں سے ہونے والے نقصان میں کوئی اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن تجزیہ کاروں نے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں احتیاط سے کام لیا ہے کہ پارٹی لازماً سیکولر پارٹیوں کے ووٹ کاٹنے کا کام کرے گی۔
مہاراشٹر کے سیاسی تجزیہ نگار دھول کلکرنی کے مطابق ’اےآئی ایم آئی ایم کچھ حلقوں میں کانگریس / این سی پی کے ووٹوں کی کٹوتی کرتی ہے، مگردوسرے حلقوں میں ’’ بھگوا ‘‘ جماعتوں کی لڑائی کے نتیجے میں ووٹوں کی کٹوتی کے سبب یہ انہیں فائدہ بھی پہنچاتی ہے۔ لیکن اس (دوسری بات) پر کوئی گفتگو نہیں کرتا۔‘
بی جے پی اور شیوسینا 2014 میں اتحاد پر متفق نہ ہوسکیں، لہذا دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کیے۔ اس کے بعد ، کچھ نشستوں پر شیوسینا کے اندر بھی لڑائی دیکھنے کو ملی ، جس کی وجہ سے پارٹی کے ممبر نے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب میں حصہ لیا ۔ کلکرنی نے مزید کہا کہ یہی وہ وجہ تھی جو زعفرانی ووٹوں کے کٹنے کا باعث بنی ، اور جس سے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین براہ راست مستفید ہوئی۔
اے آئی ایم آئی ایم نے مہاراشٹر میں داخلے کے پانچ سال بعد ، پرکاش امبیڈکر کی ’ ونچیت بہوجن آگاڈی ‘ (وی بی اے) کے ساتھ 2019 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لئے 48 نشستوں پر اتحاد کیا؛ لیکن اس نےصرف اورنگ آباد سیٹ پر ہی اپنا ا میدوار(پارٹی کے مہاراشٹر صدر امتیاز جلیل)کو کھڑا کیا،جبکہ وی بی اے ’ ونچیت بہوجن آگاڈی ‘ تمام 47 نشستوں پر ہار گئی ، جلیل نے شیوسینا کے ’ چندرکانت کھیر ‘ کو شکست دی ، جو 1999 سے اورنگ آباد کے رکن پارلیمنٹ تھے۔ جلیل کا کہنا تھا ’ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات دونوں کے لئے میری حکمت عملی آسان تھی۔میں نے مسلمانوں سے کہا کہ آپ اتنے عرصے سے کانگریس جیسی نام نہاد سیکولر جماعتوں کو ووٹ دے رہے ہیں ، اور اس کے باوجود شیوسینا گذشتہ دو دہائیوں سے (اورنگ آباد میں) اقتدار میں آرہی ہے۔ آپ ہمیں ووٹ دیں اور پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے۔‘ جلیل کی فتح نے ایک اہم تبدیلی کا عندیہ پیش کیا – وہ 15 سالوں میں مہاراشٹر سے پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بنے ، آخری سابق وزیر اعلی اور مرحوم بیرسٹر اے آر آنتولے 2004 کے انتخابات میں رائے گڈھ سے تھے۔ 1980 میں کانگریس کے قاضی سلیم کے بعد اورنگ آباد حلقہ سے منتخب ہونے والے وہ پہلے مسلمان رکن پارلیمنٹ بھی بنے ، اس حقیقت کے باوجود کہ اس حلقے کی مسلم آبادی 30 فیصد سے زیادہ ہے۔
اپنے حق کا احساس
اس سال جنوری میں، ریاست میں شیوسینا ’ این سی پی ‘ کانگریس اتحاد کے اقتدار میں آنے کے چندمہینوں کے بعد، این سی پی (نیشنل کانگریس پارٹی) کے صدر شرد پوار نے ایک متنازعہ بیان میں کہا تھا کہ ’ اقلیتیں یہ فیصلہ کر لیتی ہیں کہ انہیں کسے ہرا نا ہے، اور وہ صرف انہی (پارٹیوں) کو ووٹ دیتی ہیں، جو بی جے پی کو دھول چٹانے کی اہلیت رکھتی ہوں۔‘ جلیل نے شرد پوار کے بیان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’یہ بیان اس بات کی دلیل ہے کہ سیکولر جماعتیں اقلیتوں کے بارے میں کیا سوچتی ہیں‘۔ ماہرین کے مطابق، مہاراشٹر، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لئے ایک ’ زرخیز ‘ زمین ہے ۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں اس (محرومی) کا احساس تیز تر ہو چلا ہے کہ ریاست کی سیاسی جما عتیں ان کا ’ استحصال ‘ کر رہی ہیں۔ کلکرنی کہتے ہیں: ’ مہاراشٹر کے مسلمانوں میں ایک جائز تاثر یہ ہے کہ محض ووٹوں کی خاطر ان کا استحصال کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے کا ایک خاص طبقہ، خاص طور پر نوجوان، اویسی کو اپنا آئیڈیل مانتا ہے۔ یہ نسل اپنی شناخت پر شرمندہ نہیں ہے بلکہ اس کا فخریہ اظہار کرتی ہے اور اپنے رہ نماؤں سے جواب بھی مانگتی ہے۔‘ ’ اویسی ایک بیرسٹر ہیں ۔ اس وجہ سے ان کی نظر میں ان کا قد اور بھی بڑا ہے۔ اویسی کا مسلسل آئین کے حوالے کے ساتھ بات کرنا ان کے لئے اور بھی اہمیت کا حامل ہے۔ لہذا ان کے لئے اویسی ایک قابل تقلید شخصیت بن گئے ہیں۔‘
سینٹر فار پالیسی اینڈ ریسرچ کے ریسرچ ایسو سی ایٹ، عاصم کا کہنا ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم پر ووٹ کاٹنے کے الزامات کے ذریعے سیکولر جماعتیں مذہبی اقلیتوں کے ووٹوں پر ’ حق ‘ کا تاثردیتی ہیں۔
’ ایک کثیر الجماعتی جمہوریت میں اس طرح کے الزامات کو نفرت کی نظر سے دیکھا جانا چاہئے۔ نئی پارٹیاں صرف اپنے علاقوں سے باہر نکل کر اور انتخابات لڑکرہی آگے بڑھ سکتی ہیں۔ اس سے پارٹی کو اپنی تنظیم سازی میں مدد ملتی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ اس کی ’’جیت‘‘ کے امکانات وسیع ہوتے ہیں اور نئی ریاستوں میں اتحاد کے قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھرنے میں مدد ملتی ہے‘۔ علی نے پرنٹ سے بات چیت کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں ۔ علی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ کانگریس پارٹی ، جو اکثر اس طرح کے الزامات لگاتی ہے، اس پرخود یہ تنقید کی جا چکی ہے کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں یوپی کی تمام نشستوں پر امیدا وار کھڑے کرکے سماج وادی پارٹی -بہوجن سماج پارٹی اتحاد کو کم از کم آٹھ نشستوں پر نقصان پہنچایا تھا‘۔ ووٹ کاٹنے کا الزام مایاوتی کی بی ایس پی پر بھی لگایا جا چکا ہے ، جس نے دہلی ، جھارکھنڈ ، مہاراشٹر اور ہریانہ کے حالیہ انتخابات میں حصہ لیا اور ہار گئی۔
علی کہتے ہیں’لیکن جب یہ الزام مسلم جماعتوں پر لگایا جاتا ہے تو لہجہ اور رویہ خاص طورپر تند اور جارحانہ ہوجاتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پچھڑی ذاتوں کی جماعتوں کے لئے پسماندہ ذاتوں کو ووٹ دینے کا نظریہ عام طور پر کئی دہائیوں سے معمول کی بات سمجھا جانے لگا ہے مگرمسلمانوں کا مجلس کو ووٹ دینا اب بھی بہت سے مبصرین کے سیاسی احساس کو مجروح کرتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’اس کے علاوہ ضروری نہیں کہ ووٹ ڈالنے کے اس طرز عمل کی بنیاد فرقہ پرستی اور کلیتاً مذہبی اپیلوں کے تئیں ان کا رد عمل ہو بلکہ یہ مادی تقاضوں پر مبنی ہے تاکہ وہ وسائل تک رسائی حاصل کرسکیں اور ان کو معقول نمائندگی حاصل ہو سکے۔ بجائے اس کے کہ خارجی اور مذہبی اپیلوں کی بات کی جائے۔‘
ہندی بیلٹ میں اویسی کی اپیل
مجلس کے رہنماؤں کے مطابق ، پارٹی پر عزم ہے کہ وہ آئندہ بہار کے انتخابات میں حصہ لے گی کیونکہ ریاست بہار میں انھیں کشن گنج کی ضمنی جیت سے کافی حوصلہ ملا ہے۔ اکتوبر 2019 کے اسمبلی نشست کے لئے ہونے والی ضمنی انتخاب میں ، مجلس کے قمرالہدیٰ نے 10،000 سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی اور کانگریس ، جو اس وقت تک اس نشست پر قابض تھی ، کو تیسرے مقام پر دھکیل دیا تھا۔ سینئر سیاسی تجزیہ کار بدری نارائن کا کہنا تھا کہ ’اے آئی ایم آئی ایم آہستہ آہستہ لیکن یقینی طور پر مسلمانوں کی اس بے اطمینانی سے فائدہ اٹھائے گی جو وہ ہندی بیلٹ میں محسوس کررہے ہیں۔ ‘ وہ مزید کہتے ہیں،’مسلمانوں کے ایک طبقے میں امتیازی سلوک اور بے اطمینانی کا احساس موجود ہےَ۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اس سے فائدہ اٹھائے گی۔ وہ حکمراں بی جے پی کے خلاف اس عدم اطمینان والے رویے سے اپنی سیاست کو مضبوط بنانے کی کوشش کرے گی۔ ‘ انہوں نے مزید کہا ، ’لیکن جن نشستوں پر یہ امیداوار کھڑے کرے گی ان میں سے اکثر پر دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہی رہے گی فی الحال اس کے بہت کم امیدواروں کے جیتنے کے امکانات ہیں۔‘
نارائن کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے مختلف ریاستوں کے انتخابات میں حصہ لینے کے ارادے میں بی ایس پی کے بانی کانسی رام کی منطق کی بازگشت سنائی دیتی ہے یعنی: ’پہلا چناؤ ہوتا ہے ہارنے کے لئے، دووسرا چناؤ ہوتا ہے ہرانے کے لئے اور تیسرا چناؤ ہوتا ہے جیتنے کے لئے۔‘

مجلس کے ’’ ووٹ کٹوا ‘‘ پارٹی ہونے کی حقیقت کیا ہے؟
by
Leave a Reply