کسانوں اور حکومت سے زرعی سائنسدانوں نے کی تعطل ختم کرنے کی اپیل








سینئر زرعی سائنسدانوں نے ایک آن لائن میٹنگ میں کہا کہ اگر حکومت زرعی قوانین میں ضروری ترمیم کر رہی ہے اور انہیں فی الحال ملتوی رکھ رہی ہے تو کسانوں کو اپنی ضد چھوڑ دینی چاہئے۔

متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف گزشتہ دو مہینوں سے دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کی تحریک جاری ہے۔ کسان تنظیموں کے نمائندوں اور مرکزی حکومت کے درمیان کئی دور کی بات چیت کے باوجود کوئی حل نہیں نکل سکا۔ ایک طرف کسان تینوں قوانین کی واپسی کے مطالبہ پر قائم ہیں، اور دوسری طرف مرکزی وزراء کا کہنا ہے کہ قانون کا جائزہ لے کر اس میں ترمیم کے لیے تو وہ تیار ہیں، لیکن قانون واپسی نہیں ہوگی۔ اس تعطل کی وجہ سے حالات ناگفتہ بہ ہوتے جا رہے ہیں۔ حالات کچھ ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ ملک کے سینئر زرعی سائنس دانوں کو اس سلسلے میں سامنے آنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسانوں اور مرکزی حکومت کے درمیان جاری تعطل کی وجہ سے ملک کے حالات بگڑ رہے ہیں اور یہ تشویش کا موضوع ہے۔

ہریانہ زرعی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر کے ایس کی قیادت اور سینئر زرعی سائنس داں ڈاکٹر نیپال سنگھ ورما کے تعان میں منعقد آن لائن میٹنگ میں سائنس دانوں نے دونوں فریقوں کو نرم رویہ اپناتے ہوئے بات چیت کے ذریعہ فوراً حل تلاشنے کی اپیل کی ہے۔ سائنس دانوں نے 26 جنوری کے واقعات اور کسان تحریک کے دوران مارے گئے 100 سے زیادہ کسانوں پر گہری تشویش اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت زرعی قوانین میں ضروری ترمیم کررہی ہے اور انہیں فی الحال ملتوی رکھ رہی ہے تو کسانوں کو اپنی ضد چھوڑ دینی چاہئے۔

زرعی سائنسدانوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ کسانوں کے اطمینان ہونے کے بعد ہی ان قوانین پر کارروائی کریں۔ حالیہ حالات سے نمٹنے کےلئے حکومت کو کم از کم امدادی قیمت کو قانونی درجہ فوراً دے دینا چاہئے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کی بنیادی سہولیات نہ چھینے اور کسان چکہ جام سے بچیں۔ حکومت کسانوں کو بات چیت کےلئے بلائیں اور کسان رہنما میٹنگ میں جائیں۔ دونوں فریقوں کے اڑنے سے ملک کا ماحول خراب ہورہا ہے اور غلط لوگ اس کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں،اس لئے حال کےلئے دونوں فریق مناسب فیصلہ لیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *