نئی دہلی: (ملت ٹائمز) آسام اسمبلی انتخابات 2021 کو کانگریس نے آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ اور بایاں محاذ کی پارٹیوں کے ساتھ ملکر لڑنے کا فیصلہ کیاہے۔ خاص طور پر مولانا بدر الدین اجمل کی پارٹی اے آئی یو ڈی ایف کے ساتھ کانگریس کے اتحاد کو بہت اہم مانا جارہاہے کیوں کہ یو ڈی ایف آسا م میں تیسری سب سے بڑی پارٹی ہے اور کانگریس کے سا تھ اتحاد ہونے کے بعد بی جے پی کیلئے مشکلیں کھڑی ہوگئی ہیں ۔
گذشتہ شب دہلی میں لوک سبھا ایم پی اور پارٹی سپریمو مولانا بدر الدین اجمل کی سرکاری رہائش گاہ پر آل انڈیا کانگریس کمیٹی میں اقلیتی امور کے چیرمین ندیم جاوید کے ساتھ ان کی طویل میٹنگ ہوئی جس مین دونوں رہنماؤں نے انتخابا ت کی حکمت عملی ، امیدوار کے سلیکشن اور دیگر امور پر تفصیلی بات چیت کی ۔ میٹنگ کے بعد ملت ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ندیم جاوید نے کہاکہ آسام انتخاب ہمارے لئے بہت اہم ہوگا کیوں کہ اس مرتبہ دو سیکولر پارٹیاں ایک ساتھ چناؤ لڑیں گی جس کی وجہ سے عوام کا ووٹ منتشر نہیں ہوگا اور دوسری طرف بی جے پی فرقہ پرست اور نفرت کے ایجنڈا کو بروئے کار لانے میں بھی کامیا ب نہیں ہوسکے گی ۔ میٹنگ کے حوالے سے انہوں نے مزید کہاکہ مولانا اجمل اور کانگریس دونوں کا نظریہ ایک ہی ہے ۔ ایک ہی مشن ،جذبہ اور مقصد ہے ۔ دونوں پارٹیاں چاہتی تھی کہ سیکولر ووٹ تقسیم نہ ہواور اب عملی طور پر ہمارا اتحاد ہوگیاہے جو آسام کے باہر دوسر ی جگہوں کیلئے بھی ایک نظیر بنے گا اورفرقہ پرستوں کو شکست دینے میں ہم کامیاب ہوں گے ۔
آل انڈیا یونانئٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے قومی صدر اور آسام کے ڈھبری سے ایم پی مولانا بدر الدین اجمل نے کہاکہ دیر سے صحیح لیکن گانگریس نے اتحاد کا فیصلہ کرکے صحیح کیا ہے ۔ اب ہم ملکر لڑیں گے اور سیکولرووٹوں کو منتشر نہیں ہونے دیں گے ۔ ہمارا بنیادی مقصد یہی رہاہے کہ سیکولر سرکار بنے اور انشاء اللہ اب آسام میں ایک سیکولر سرکار بنے گی ۔ سیٹوں کی تقسیم کے حوالے سے پوچھے جانے پر مولانا نے کہاکہ ابھی اس معاملے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے ۔ اگلی میٹنگ میں سیٹوں کی تقسیم پر فیصلہ ہوگا ۔ ابھی ہماری کوشش یہی ہے کہ یہ اتحاد زیادہ سے مضبوط اور دائمی ثابت ہو ۔بی جے پی اس اتحاد سے خوفزدہ ہے اس لئے نے اس ہمیں ای ڈی اور دیگر ذرائع سے ڈرانا شروع کررکھاہے لیکن ہم ڈرنے والے نہیں ہیں ۔ ہمیں صرف اللہ تعالی کا خوف ہے ۔ ہمارا آئین سب سے اہم اور امید ہے کہ آسام کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے ہماری جدوجہد کامیابی سے دوچار ہوگی ۔

Leave a Reply