کسان تحریک: کسانوں کے چکہ جام کے پیش نظر ہائی الرٹ، دہلی کی سرحدوں اور لال قلعہ پر سخت حفاظتی انتظامات، 40 ہزار جوان تعینات








کسانوں کے چکہ جام کے پیش نظر غازی پور بارڈر اس وقت بھاری پولیس فوسز کی موجودگی کی وجہ سے چھاونی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ یہاں پر چاروں طرف بندشیں نصب کر دی گئی ہیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال پر قابو پانے کے لیے واٹر کینن بھی تیار رکھی گئی ہے۔

لال قلعہ پر بھی سخت حفاظتی انتظامات

کسانوں کے چکہ جام کے پیش نظر کسی بھی ناخوش گوار واقعہ کو روکنے کے لیے لال قلعہ پر بھاری تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گیے ہیں۔

سنگھو، ٹیکری اور غازی پور بارڈر پر سخت حفاظتی انتظامات

چکہ جام کے پیش نظر دہلی پولیس کے ڈی سی پی کرائم چنموئے بسوال نے بتایا کہ سنگھو، ٹیکری اور غازی پور بارڈر پر سکورٹی کے پختہ انتظامات کیے گیے ہیں۔ دہلی کے اندر بھی سخت حفاظتی انتظامات کیے گیے ہیں۔ نئی دہلی کے ڈی سی پی نے دہلی میٹروں کے افسران کو خط لکھ کر ضرورت پڑنے پر 12 میٹرو اسٹیشنوں کو فوری طور پر بند کرنے کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے۔ 

راجدھانی میں ہائی الرٹ، دہلی کی سرحدوں پر 40 ہزار جوان تعینات

مرکزی حکومت کے تینوں زرعی قوانین کی واپسی اور کم از کم سہارا قیمت (ایم ایس پی) کی گارنٹی کے مطالبہ پر کسانوں کی دہلی کی سرحدوں پر تحریک لگاتار جاری ہے۔ کسانوں نے آج دوپہر 12 بجے سے 3 بجے تک ملک بھر میں چکہ جام کا اعلان کیا ہے۔ کسان تنظیموں نے اگرچہ اس چکہ جام سے دہلی اور این سی آر کو مستثنیٰ رکھا ہے، تاہم دہلی پولیس الرٹ پر ہے۔ 26 جنوری کو کسان پریڈ کے دوران ہونے والے تشدد کے سبب اس مرتبہ دہلی پولیس کوئی نرمی برتنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ دہلی پولیس نے سنگھو اور غازی پور بارڈر پر حفاظت کے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ جبکہ دہلی کے اندر بھی بڑی تعداد میں سکورٹی اہلکار تعینات کیے گیے ہیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *