کسانوں کے چکہ جام کے پیش نظر غازی پور بارڈر اس وقت بھاری پولیس فوسز کی موجودگی کی وجہ سے چھاونی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ یہاں پر چاروں طرف بندشیں نصب کر دی گئی ہیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال پر قابو پانے کے لیے واٹر کینن بھی تیار رکھی گئی ہے۔
Delhi: Extensive barricading measures undertaken at Ghazipur border with water cannon vehicles deployed, as a preemptive measure to deal with possible disturbances resulting from 'Chakka Jaam' calls by farmer unions protesting farm laws
Visuals from the Delhi side of the border pic.twitter.com/wQcfu5CTDN
— ANI (@ANI) February 6, 2021
لال قلعہ پر بھی سخت حفاظتی انتظامات
کسانوں کے چکہ جام کے پیش نظر کسی بھی ناخوش گوار واقعہ کو روکنے کے لیے لال قلعہ پر بھاری تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گیے ہیں۔
Delhi: Heavy deployment of police personnel at the Red Fort as a preventive measure to dispel actions resulting from calls for 'Chakka Jaam' by farmer unions protesting the farm laws pic.twitter.com/IgHF11YWyg
— ANI (@ANI) February 6, 2021
سنگھو، ٹیکری اور غازی پور بارڈر پر سخت حفاظتی انتظامات
چکہ جام کے پیش نظر دہلی پولیس کے ڈی سی پی کرائم چنموئے بسوال نے بتایا کہ سنگھو، ٹیکری اور غازی پور بارڈر پر سکورٹی کے پختہ انتظامات کیے گیے ہیں۔ دہلی کے اندر بھی سخت حفاظتی انتظامات کیے گیے ہیں۔ نئی دہلی کے ڈی سی پی نے دہلی میٹروں کے افسران کو خط لکھ کر ضرورت پڑنے پر 12 میٹرو اسٹیشنوں کو فوری طور پر بند کرنے کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے۔
Delhi: Security tightened, in the light of 'Chakka Jaam' appeals by farmer unions protesting the farm laws
Visuals from the ITO area with barbed wires placed over police barricades pic.twitter.com/4RcDLVv4ZZ
— ANI (@ANI) February 6, 2021
راجدھانی میں ہائی الرٹ، دہلی کی سرحدوں پر 40 ہزار جوان تعینات
مرکزی حکومت کے تینوں زرعی قوانین کی واپسی اور کم از کم سہارا قیمت (ایم ایس پی) کی گارنٹی کے مطالبہ پر کسانوں کی دہلی کی سرحدوں پر تحریک لگاتار جاری ہے۔ کسانوں نے آج دوپہر 12 بجے سے 3 بجے تک ملک بھر میں چکہ جام کا اعلان کیا ہے۔ کسان تنظیموں نے اگرچہ اس چکہ جام سے دہلی اور این سی آر کو مستثنیٰ رکھا ہے، تاہم دہلی پولیس الرٹ پر ہے۔ 26 جنوری کو کسان پریڈ کے دوران ہونے والے تشدد کے سبب اس مرتبہ دہلی پولیس کوئی نرمی برتنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ دہلی پولیس نے سنگھو اور غازی پور بارڈر پر حفاظت کے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ جبکہ دہلی کے اندر بھی بڑی تعداد میں سکورٹی اہلکار تعینات کیے گیے ہیں۔
Protesters demonstrating against the farm laws continue their agitation at the Ghazipur(Delhi-UP) border
Visuals from the site from the Uttar Pradesh side of the border pic.twitter.com/9f7oDl8MEe
— ANI UP/Uttarakhand (@ANINewsUP) February 6, 2021

Leave a Reply