مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے طلباء نے کیا آن لائن کلاسس کا بائیکاٹ ، کہا – ہم یونیورسٹی میں آکر پڑھیں گے!








حیدر آباد: کورونا بحران کے سبب گذشتہ سال سے ساری اجتماع گاہیں اور یونیورسٹیز، کالجز و اسکولس وغیرہ معطل و مقفل ہیں_ لیکن اب جب بوجہ احتیاط کورونا پر کچھ قابو پالیا گیا تو ملک کو اور تمام اجتماع گاہوں کا ایک طویل لاک ڈاؤن کے بعد از سر نو افتتاح کیا گیا۔
جس میں شہروں کی گہما گہمی، نکڑوں پر لوگوں کا جماوڑا، میٹرو و بسوں میں لوگوں کا ٹھٹھ و ازدحام واپس آچکا ہے۔ علاوہ ازیں سینیما حال اور سیاسی پارٹیوں میں نشست و برخاست مکرر بحال ہوچکی ہیں۔ لیکن حکومت ابھی تک سینٹرل یونیورسٹیز کو بند کئے ہوئے ہے جسکی بنا پر وہ تمام طلباء و طالبات جو کسی سینٹرل یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں وہ کافی خشم و رنجش کے شکار ہیں، کیوں کہ سالوں سے وہ گھر بیٹھے تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کی بنا پر کافی دشواریوں کا سامنا کررہے ہیں، کبھی نیٹورک پروبلم تو کبھی ڈیٹا کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔
اب جب ساری چیزیں بحال ہو چکی ہیں تو طلباء بھی یونیورسٹیز کی بحالی چاہ رہے ہیں، اور حکومت سے یہ مانگ کر رہے ہیں کہ وہ جلد از جلد سینٹرل یونیورسٹیز کا از سر نو افتتاح کرے ۔ اسی بنیاد پر کئی یونیورسٹیز کے طلباء نے سینٹرل یونیورسٹیز نہ کھلنے کی بنا پر آن لائن کلاسس کا بائیکاٹ کیا ہے جس میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے طلباء پیش پیش ہیں۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے طلباء تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اس بات کو لیکر کئی دونوں سے کشمکش میں ہے کہ آخر مانو کو اور اسکے علاوہ دوسری سینٹرل یونیورسٹیز کو کیوں نہیں بحال کیا جارہا ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مانو ایڈمنسٹریشن سے اس تعلق سے بات بھی کی لیکن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کوئی بھی تسلی بخش جواب موصول نہ ہوا جس سے طلباء کی ناراضگی دور ہو، اسی بنیاد‌ پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی (سی ایف آئی،انسا،اے یو ایس ایف، اے ایس ایل، ایم ایس او,ایس آئی او) نے اس بات کا فیصلہ کیا تھا کہ وہ 15 اور 16 فروری کو یونیورسٹی (مانو) نہ کھلنے کی بنا پر آن لائن کلاسس کا بائیکاٹ کرے گی۔
یہی وجہ رہی کہ مانو کے سارے طلباء نے جوائن کمیٹی کے فیصلے پر عمل‌ کرتے ہوئے ساری آن لائن کلاسس کا جم کر بائیکاٹ کیا۔ اور مانو کی تمام طلباء تنظیموں نے متحدہ میل کر انتظامیہ کو اپنی مانگ بھی سونپی ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *