ایم پی/ایم ایل اے کورٹ کے خصوصی جج نے امت شاہ کو سمن جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ 22 فروری کی صبح 10 بجے تک بذات خود یا پھر وکیل کے ذریعہ پیش ہوں۔
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کی ہلچل کے درمیان لیڈران کا مخالف پارٹی لیڈران پر الزامات لگانے کا سلسلہ بھی تیز ہوتا جا رہا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سابق قومی صدر امت شاہ بھی بنگال دورہ پر لگاتار مخالف پارٹی لیڈران کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ خصوصی طور پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کے بھتیجے و ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی کو انھوں نے اپنی ریلیوں میں خوب نشانہ بنایا۔ لیکن کچھ بیانات کی وجہ سے وہ مشکل میں پھنستے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ دراصل ابھشیک بنرجی نے امت شاہ کے خلاف ہتک عزتی کا معاملہ درج کرایا ہے جس پر اسپیشل کورٹ نے انھیں سمن جاری کر دیا ہے۔
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کی ہلچل کے درمیان لیڈران کا مخالف پارٹی لیڈران پر الزامات لگانے کا سلسلہ بھی تیز ہوتا جا رہا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سابق قومی صدر امت شاہ بھی بنگال دورہ پر لگاتار مخالف پارٹی لیڈران کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ خصوصی طور پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کے بھتیجے و ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی کو انھوں نے اپنی ریلیوں میں خوب نشانہ بنایا۔ لیکن کچھ بیانات کی وجہ سے وہ مشکل میں پھنستے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ دراصل ابھشیک بنرجی نے امت شاہ کے خلاف ہتک عزتی کا معاملہ درج کرایا ہے جس پر اسپیشل کورٹ نے انھیں سمن جاری کر دیا ہے۔
اس معاملہ میں ایم پی/ایم ایل اے کورٹ کے خصوصی جج نے امت شاہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ 22 فروری کی صبح 10 بجے تک بذات خود یا پھر وکیل کے ذریعہ پیش ہوں۔ جج نے یہ بھی کہا ہے کہ امت شاہ کا بذات خود یا پھر وکیل کے ذریعہ عدالت میں پیش ہونا ضروری ہے تاکہ تعزیرات ہند کی دفعہ 500 کے تحت داخل ہتک عزتی کے کیس میں جواب دیا جا سکے۔
اس معاملہ میں ایم پی/ایم ایل اے کورٹ کے خصوصی جج نے امت شاہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ 22 فروری کی صبح 10 بجے تک بذات خود یا پھر وکیل کے ذریعہ پیش ہوں۔ جج نے یہ بھی کہا ہے کہ امت شاہ کا بذات خود یا پھر وکیل کے ذریعہ عدالت میں پیش ہونا ضروری ہے تاکہ تعزیرات ہند کی دفعہ 500 کے تحت داخل ہتک عزتی کے کیس میں جواب دیا جا سکے۔
اپنے اوپر لگائے جا رہے الزامات کی ابھشیک بنرجی کئی مواقع پر تردید بھی کر چکے ہیں اور بی جے پی لیڈروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ گزشتہ مہینے جنوبی دیناج پور میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ابھشیک بنرجی نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ’’اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ میں وصولی باز بھتیجا ہوں، تو مجھے پھانسی کے تختے تک لے چلو میں خود پھانسی لگا لوں گا۔ آپ کو ای ڈی اور سی بی آئی کی بھی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

Leave a Reply