منصب قضاء پر فائز کہنہ مشق قاضی سے ہم محروم ہو گئے: قاضی عتیق اللہ رحمانی








قاضی شریعت مولانا عبد الجلیل قاسمی کے انتقال پر دارالقضاء امارت شرعیہ ارریہ میں تعزیتی نشست کا انعقاد

ارریہ: 19مارچ بروز جمعہ بعد نماز جمعہ باحاطہ دفتر دارالقضاء امارت شرعیہ ارریہ میں مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ پٹنہ کے قاضی شریعت حضرت مولانا قاضی عبد الجلیل قاسمی کی انتقال پُرملال پر تعزیتی نشست منعقد ہوا۔
نشست کی صدارت الحاج اکرام الحق صاحب نے کی جبکہ نظامت کے فرائض دارالقضاء امارت شرعیہ ارریہ کے قاضی شریعت مفتی عتیق اللہ رحمانی نے کی۔
نشست کا آغاز حافظ شبیر احمد کی تلاوت قرآن سے ہوا
تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ کے استاد مفتی انعام الباری قاسمی نے کہا کہ حضرت قاضی صاحب ہمارے مشفق استاد تھے کتاب معین الحکام مجھے ان سے پڑھنے کا شرف حاصل ہے ان کے پڑھانے کا انداز بہت نرالا تھا وہ چٹکیوں میں پیچیدہ سے پیچیدہ عبارت کو حل کر دیا کرتے تھے۔
الحاج اکرام الحق نے کہا کہ ان کی شخصیت پر روشنی ڈالنا سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ہے۔ مجھے ان سے کافی قلبی لگاؤ تھا ان کے گزر جانے پر مجھے ذاتی صدمہ ہوا ہے۔
قاری نیاز احمد قاسمی نے کہا کہ قاضی شریعت مولانا عبد الجلیل صاحب کی وفات ملت کیلئے اک عظیم سانحہ ہے۔ مولانا مدثر صاحب قاسمی ڈائریکٹر الغزالی انٹر نیشنل اسکول نے کہا کہ قاضی صاحب کی زندگی سے بہت ساری چیزیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔
خاص طور سے الجھنوں میں مبتلا رہتے ہوئے اپنے اصلی مقصد میں قائم رہنا اور اپنی ذمہ داریوں سے منھ نہ پھیرنا ان کا خاص وصف تھا۔ مولانا اکبر صادق امام و خطیب مسجد یتیم خانہ نے کہا کہ یقیناً اک عالم کی موت اک عالم کی موت ہے۔ حضرت مولانا انتخاب قاسمی نے کہا کہ ان کا رویہ سب کے ساتھ بہت ہی مشفقانہ تھا۔
صحافی عارف اقبال نے حضرت قاضی صاحب کے حالات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قاضی صاحب سادگی کے پیکر تھے۔ قاری جسیم الدین حسامی نے کہا کہ حضرت قاضی صاحب علمی اور عملی دونوں میدان میں یکساں مقبول تھے وہ ہمارے لئے علمی ذخیرہ چھوڑ گئے ہیں جو ہمارے لئے عظیم سرمایہ ہے۔
قاضی شریعت ارریہ جناب قاضی عتیق اللہ رحمانی صاحب نے حضرت مولانا عبد الجلیل صاحب رحمۃ اللہ کے خدمات کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ان کے خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے ہمیشہ چھوٹوں پر شفقت فرماتے تھے قضا کے تعلق سے ہمیں استفادہ کا موقع ملا جس سے آج ہم محروم ہو گئے۔
اس موقع پر دیگر احباب نے بھی حضرت قاضی صاحب کی شخصیت پر روشنی ڈالی۔ مفتی انعام الباری قاسمی کی رقت آمیز دعا پر نشست کا اختتام ہوا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *