جمیعت العلماء سکرہنا کا اصلاح معاشرہ کانفرنس اختتام پذیر، چمپارن کے درجنوں علمائے کرام سمیت کثیر تعداد میں لوگوں نے کی شرکت








 جمعیت علماء ہند کی عظیم خدمت ہے جس کی کوئی نظیر نہیں: مولانا مشہود قادری ندوی 
اسلام نے عورت کو وہ مقام بخشا ہے جس کی وہ حقدار تھیں: مفتی جنید عالم ندوی قاسمی 

موتیہاری: (ملت ٹائمز – فضل المبین)  جمیعت العلماء سکرہنا ڈھاکہ کے زیر اہتمام اصلاح معاشرہ و خدمات جمیعت کانفرنس کا انعقاد ڈھاکہ حلقہ کی مردم خیز بستی چندن بارہ میں کیا گیا ۔ جسمیں چمپا رن کے علماء کرام ، مختلف مدارس کے زمہ دران ، درجنوں مساجد کے آئمہ کرام سمیت تقریبا 10 ہزار فرزندان توحید نے شرکت کی۔
اس موقع پر اجلاس کے مہمان خصوصی ، جمیعت علماء بہار کے جنرل سکریٹری و مدرسہ شمس الھدی پٹنہ کے پرنسپل مولانا مشہود احمد قادری ندوی نے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: جوقوم اپنے اسلاف اپنے آباء و اجداد کی تاریخ بھلادیتی ہے، وہ قوم دنیا کے صفحہ ہستی سے مٹا دی جاتی ہے ۔جمعیت علماء ہند ہمارے اسلاف کی قائم کردہ ملک کی عظیم و قدیم تنظیم ہے ۔ جس نے ملک کو آزاد کرانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے ۔ حضرت شیخ الہند کی سرپرستی میں قائم ہونے والی اس عظیم تحریک نے ہی موہن داس کرم چند گاندھی کو ’’ مہاتما گاندھی ‘‘ کا لقب دیا اور جمعیت نے اپنے خرچ سے مسلسل تین سال تک سارے ملک میں انہیں لیکر جلسے کرائے ۔ آج ضرورت ہے کہ اس تحریک سے اپنا رشتہ قائم کیا جائے ۔
اُنہوں نے جمیعت علماء ہند کے خدمات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: ملک کی آزادی کے بعد سے تقریباً ۷۰ سال جمعیت علماء ہند نے مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لئے صحیح ترجمانی کرکے ہمیشہ تعمیری کاموں پر زور دیا۔ تقسیم ہند کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ان کے دین کی حفاظت تھی کیونکہ شمالی ہندوستان کی بعض ریاستوں سے مسلمان بڑی تعداد میں پاکستان چلے گئے تھے۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اسی موقع پر فرمایا تھا کہ اگر آپ نے مسلمانوں کے دین کی حفاطت کرلی تو آپ نے اس ملک کے اندر بڑا کام کرلیا۔ چنانچہ جمعیت علماء ہند نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ جمعیت علماء ہند نہ صرف قرآن و حدیث کی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کرتی ہے بلکہ کالج ویونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے مسلم طلبہ وطالبات کو وظائف دے کر ان کو عصری علوم کے حصول کے مواقع بھی فراہم کراتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مظفر نگر اور شاملی کے دیہاتوں میں فساد سے متاثرین کے لئے کئی سو مکانات تعمیر کراکر سینکڑوں خاندانوں کے رہنے کا بندوبست کیا۔ ہندوستان میں کسی بھی علاقہ میں سیلاب یا طوفان یا زلزلہ یا دیگر آفات آنے پر جمعیت علماء ہند مصیبت زدہ افراد خاص کر مسلمانوں کی مدد کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے۔ ہندوستان میں موجود دیگر ملی تنظیمیں بھی مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے میں کوشاں ہیں، مگر وہ سینکڑوں بے گناہ مسلمان جو سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، مکمل اخراجات برداشت کرکے ہندوستانی عدالتوں میں جاکر اچھے وتجربہ کار وکیلوں کی مدد سے ان کے کیس کو لڑنا، جمعیت علماء ہند کی ایک ایسی عظیم خدمت ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ سینکڑوں بے گناہ مسلمان آج جمعیت علماء ہند کی مسلسل تگ ودو اور جد وجہد کے بعد جیلوں سے باعزت رہا ہوکر آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ غرضیکہ آزادی سے قبل جمعیت علماء ہند کی ۲۸ سالہ ملک کی آزادی کے لئے خدمات اور آزادی کے بعد۶۹ سالہ تعلیمی، اصلاحی اور رفاہی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ وہیں اجلاس کے مہمان ذی وقار ، دار العلوم الاسلامیہ مجھو لیا کے سیکریٹری و معہد الدرسات العلیا کے صدر مفتی ، مولانا مفتی جنید عالم ندوی قاسمی نے بھی جمیعت کی تاریخ پر مختصر گفتگو کی اور اصلاح معاشرہ کو اپنا موضوع سخن بنایا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ : ہمارے اکابر و اسلاف نے جس طرح کی قربانیاں دی ہیں اور جس طرح اذیت وتکلیف کو برداشت کر کے دین کو اپنا شعار بنایا ہے ۔ وہیں لوگوں کی گلیاں سن سن کر حق داروں کے حقوق ادا کیا ہے ۔  جمیعت کے مشن میں یہ بھی ہے کہ حق داروں کے حقوق کو ادا کیا جائے ۔ مطلب صاف ہے کہ جس کا بھی ہمارے اوپر حق ہو ہم ان کے حق کو ادا کریں ۔ اور خاص طور سے سے اپنے بہنوں کے حق کو ہر صورت ادا کریں تاکہ کہ ہماری بہنیں اپنے حقوق سے محروم نہ رہ سکیں ۔
ہمارے معاشرے میں جہیز کے علاوہ بہت سی غیراسلامی رسمیں پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے سماج میں زبردست بے چینی بڑھ رہی ہے۔ امراء کیلئے کوئی بات نہیں لیکن غریبوں کیلئے بیٹیاں مصیبت ثابت ہو رہی ہیں اور ہزاروں لڑکیاں اس ناسور کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔ جہیز کا لین دین غیراسلامی ہے۔ اس گھناؤنی غیراسلامی رسم کو ختم کرنے میں نوجوان اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب آج کی نسل جہیز کا لالچ اپنے دلوں سے نکال دیں اور معاشرے میں اپنے اس مخلصانہ عمل سے انقلاب برپا کریں ۔
انہوں نے  کہا کہ موجودہ وقت میں جہیز نے معاشرے کو تباہ و برباد کر دیا ہے اور اور آج کا یہ سماج زمانہ جاہلیت کے جیسے عورتوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے ۔ زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا تھا لیکن آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بچے کو پیٹ میں ہی مار دیا جاتا ہے ۔ آج کے وقت میں جہیز کی رسومات و خرافات کی بنیاد پر لڑکی خودکشی پر مجبور ہو جاتی ہے ۔ حالانکہ اسلام نے عورت کو وہ مقام بخشا ہے جس کی وہ حقدار تھی اوراسلام ان تمام الزامات کا بھی رد کرتا ہے جو دوسرے لوگوں کی طرف سے یا مستشرقین کی طرف سے اسلام پر لگائے جاتے ہیں کہ وہ عورتوں کے حقوق کو پامال کرتا ہے۔اسلام نے نہ صرف ان تمام الزامات کا رد فرمایا بلکہ دنیا کے سامنے عورت کو وہ مقام مرتبہ فراہم کیا جس کی نظیر دنیا کے کسی بھی مذہب میں موجود نہیں ۔
آج نوجوانوں کو عہد کرنا چاہئے اور جہیز کی سخت مخالفت کرنی چاہئے تاکہ شادی بیاہ کے موقع پر کو سماج میں پھیلی برائیاں ہیں اُس کا خاتمہ ہوسکے ۔
جمیعت علماء مشرقی چمپا رن کے جنرل سکریٹری مولانا جاوید قاسمی نے جہیز پر روشنی ڈالی اُنہوں نے کہا کہ :  اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سر بلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ دنیا کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہوگئے۔ آج ہندوستان میں تعلیمی ادارے دشمن طاقتیں کے نشانہ پر ہے، جو تعلیم کی طرف سے مسلمانوں کو بد گمان کرکے قوم مسلم کو کمزور کرنے کے در پہ ہیں۔ہمیں ان کے مقابلے کے لیے کام کرنا ہوگااور اپنے تعلیمی نظام کے مقاصد کو واضح کرنا ہوگا۔
موتی ہاری جامع مسجد کے امام و خطیب قاری جلال الدین قاسمی نے کہا کہ :  جمعیۃ علماء ہند ملک اور مسلمانوں کے مسائل کے حل اور حقوق کے حصول و ادراک تعلق سے بالخصوص اور ملک کی دیگر اقلیتوں کے مسائل پر توجہ دینے والی ایک ایسی غیر سیاسی تنظیم و تحریک ہے جو کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ مگر چونکہ عوام کا ایک بڑا طبقہ اس تنظیم اور اس کی بے پایاں کوششوں سے ناواقف ہے ، اس لئے آج وقت کی ضرورت ہے کہ جمیعت کے پیغام امن, پیغامِ محبت کو ملک کے ہر خاص وعام تک پہنچایاجائے-
اجلاس کی صدارت جمعیت علماء مشرقی چمپا رن کے صدر مولانا عبد السلام قاسمی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض کو جمیعت علماء مشرقی چمپا رن کے نائب صدر ، ڈھاکہ جامع مسجد کے امام و خطیب مولانا نذر المبین ندوی نے بحسن و خوبی اختتام تک پہنچایا۔اجلاس کا آغاز قاری آفتاب عالم  نے تلاوت کلام اللہ سے کیا.وہیں قاری مجیب اللہ نے نعت نبی کا بہترین گلدستہ عقیدت پیش کیا.جبکہ مولانا صدر عالم ندوی جنرل سکریٹری کے ذریعہ خطبہ استقبالیہ پیش کیا گیا ۔ موقع پر پروفیسر سید نسیم احمد جمیعت علماء سکرہنا کے صدر مولانا امان اللہ مظاہری ، نائب سیکریٹری مولنا عبد اللہ مظاہری ، نائب سیکریٹری مولانا جاوید مظاہری ، معاون سیکریٹری مولانا مجیب الرحمٰن ، میڈیا انچارج مفتی محمد احمد قاسمی ، جمیعت علماء مشرقی چمپا رن کے نائب صدر مولانا بہاؤ الدین قاسمی ، مدرسہ تجوید القرآن خیروا کے استاذ مولانا عبد الرؤف قاسمی ، قاری انعام الحق ، مولانا حسین اختر ، مکھیا زعیم الرحمن ، مولانا رضوان ندوی ، مولانا نیاز احمد ، مفتی نثار احمد ، قاری علاء الدین ایمانی ، حاجی اسید ، مفتی ظفیر احمد جنیدی ، مولانا اکرم جنیدی ، مولانا سراج الحق ، ڈاکٹر طارق انور ، مولانا محب اللہ ، مولانا سعد احمد قاسمی ، مولانا سعید احمد قاسمی ، مفتی انیس الرحمن ندوی ، قاری علاء الدین ، قاری سراج ، شمس تبریز ، کالو بابو ، نور عالم خان ، حامد رضا راجو خان ،  سمیت سیکڑوں علمائے کرام اسٹیج کی زینت بنے تھے ۔جبکہ ہزاروں کی تعداد میں سامعین نے شرکت کی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *