زندہ قوم اپنی زبان اور تہذیب و ثقافت کو برقرار رکھتی ہے: مولانا ولی رحمانی








سرزمین چمپارن پر امیر شریعت کا والہانہ استقبال ، ترغیب تعلیم و تحفظ اردو کانفرنس کا انعقاد 
  نئی نسل میں دینی تعلیم کے فروغ کے لئے مسلم آبادی میں مکاتیب کے  کے جال بچھانے پر زور 
موتیہاری: (ملت ٹائمز-فضل المبین)  زندہ قوم اپنی تہذیب و ثقافت ،  اپنی زبان ، اپنے مزاج اور مذہب کو برقرار رکھتی ہیں۔ اگر آپ اپنی زبان کی حفاظت نہیں کرسکتے ہیں تو پھر خود ہی فیصلہ کریں کہ آپ زندہ ہیں یا مردہ۔ مذکورہ  باتیں بہار اڑیسہ جھارکھنڈ کے امیر شریعت  اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے موتیہاری میں منعقد ترغیب تعلیم و تحفظ اردو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا  ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ شکایت نہیں ہے کہ لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں لیکن ہمیں شکایت ہے کہ ہم زندگی کے لئے اس روشنی میں سفر نہیں کرنا چاہتے جو ہمیں علم کے نتیجے میں ملا ہے ۔ بچوں کے کردار کی تعمیر پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے اچھے ہوں تو انہیں اچھی تربیت دینی ہوگی تاکہ وہ اچھی کار کردگی کا مظاہرہ کر سکیں ۔  مولانا رحمانی نے کہا کہ نئی نسل مذہبی تعلیم سے دور ہوتی جارہی ہے۔ جس کے نتیجے میں ان کا کردار نہیں بنتا ہے۔ انہوں نے نئی نسل میں دینی تعلیم کے فروغ کے لئے مسلم آبادی میں مکاتیب کا جال بچھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس برادری نے پوری دنیا کو محنتی رہنے کا درس دیا ، خود کو دیانتداری ، کھلے دل سے اور مستقل محنت کی تعلیم دی ، آج وہی برادری نہ تو مسلسل کام کر سکتی ہے اور نہ ہی توجہ مرکوز کر سکتی ہے اور نہ ہی کسی کام پر توجہ دے سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں نتیجہ کیسے آئے گا ، ترقی کیسے ہوگی؟ انہوں نے گھر گھر علم کا چراغ جلانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ : پہلے گھر میں علم کا چراغ جلائیں اور چراغ سے سماج اور معاشرہ کو روشن کریں۔  مادری زبان میں بچوں کی تعلیم کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بچوں کو مادری زبان کی تربیت دی جائے تو وہ تیزی سے ترقی کریں گے اور چیزوں کو آسانی سے سمجھنے کے قابل ہوں گے۔ موقع پر خطاب کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے نائب ناظم مفتی سہراب ندوی نے کہا ، “ہر آبادی میں ایسے تعلیمی ادارے قائم کریں جہاں آپ اپنے مذہب ، اسلامیات کے ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم حاصل کرسکیں۔” ۔ اسی دوران ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ تعلیم کے معاملے میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تاریخ ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں وہ تعلیم و تربیت کے کے لحاظ سے پیچھے ہیں۔ برادری کی سطح پر عوامی سطح پر آگاہی کی کوشش ہونی چاہئے ۔ اس موقع پر مولانا جمال الدین قاسمی ، مولانا مشکور اعظم  ،عزیر انجم ، قاضی اطہر جاوید وغیرہ نے خطاب کیا۔ موقع پر ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور ، سابق ڈپٹی چیف کونسلر محیب الحق خان ، ساجد رضا ، جامعہ ڈائریکٹر عبدالرحمن رہبر تیمی ، ڈاکٹر ایم یو اختر ، ڈاکٹر ایس ایم منت اللہ ، ڈاکٹر نوشاد ، جامعہ زکریا ڈھاکہ کے مہتمم مفتی محمد ابو سلمان احمد قاسمی ، سید ساجد حسین ، عرفان شکوہ ، مولانا ارشد ، حاجی رفیع احمد ،وصیل احمد خان ، طارق انور چمپارنی ، آل بہار اردو اساتذہ ایسوسی ایشن کے سکریٹری امان اللہ ، فیروز عالم ، عزیر سالم ، نعیم الدین سلفی ، طارق انور ، انیس الحق شمسی ، آصف رضا ، نیر اعظم وغیرہ سمیت کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *