معراج عالم بیورو رپورٹ
وسیم رضوی کے”توہین قرآن اقدام”مسلمانوں کے درمیان فتنے کی آگ بھڑکانے کی ایک منصوبہ بند سازش ہے اور ایک خاص مکتب فکر کو بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے ، وہ ہمیشہ سے اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار رہا ہے تاکہ مسلمانوں میں فتنہ و فساد کے بیج بوئے جاسکیں ۔ ان خیالات کا اظہار ملک کے معروف عالم دین ، ممتاز ماہر تعلیم ، چیرمین انڈین کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ ٹرسٹ بنگلور ، کرناٹک و جامعہ فاطمہ للبنات مظفرپور نے مخلتف اخبار کے صحافیوں کے درمیان ایک پریس کانفرنس میں کیا۔
انہوں نے حکومت سے اس کی گرفتاری کا پزور مطالبہ کیا ہے۔مولانا نے کہا کہ وسیم رضوی نے قرآن پاک سے 26 آیتوں کو حذف کرنے کے لئے عدالت عظمیٰ میں ایک عرضی دائر کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ وسیم رضوی قرآن کی تعلیمات سے مکمل طور پر نابلد اور جاہل ہے۔انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی کی یہ حرکات ناقابل قبول اورسراسر توہین آمیز ہیں۔ وسیم رضوی قرآن سمجھنے سے قاصر ہے ، انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی اسلام دشمن طاقتوں کا زر خرید آلہ کار ہے ، انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی نے اعلانیہ طور پر اپنی ارتدادی فکر کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی کئی لوگوں نے تحریف قرآن کرنے کی کوشش کی لیکن وہ سب اپنے مکروہ عزائم میں ناکام ہو گئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود تحفظ قرآن کی ذمہ داری لے لی ہے۔
انہوں نے وسیم رضوی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے آقاؤں کو خوش کرنے اور وقف بورڈ گھوٹالہ سے توجہ ہٹانے کے لئے اس طرح کے شیطانی حربے اور ہتھکنڈے آزما رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ امت مسلمہ کے مابین پھوٹ ڈالنے کی ایک انتہائی ناپاک کوشش ہے ، اوردرحقیقت اس شخص کا ملت تشیع سے بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔
انہوں زور دے کر کہا کہ رضوی کا اسلام سےکوئی تعلق نہیں ہے ، وہ ایک ملعون اور مرتد شخص کے حکم میں ہے۔
مولانا موصوف نے کہا وسیم رضوی کی عرضی پر اگر غور کیا جائے تو چند باتیں جو سمجھ میں آتی ہیں وہ درج ذیل ہیں :
(1) قرآن پاک تحریف سے پاک نہیں ہے ( نعوذ باللہ)
(2) قرآن پاک میں تحریف صحابہ کرام رضی الله عنہم نے کی ہے اس لئے انہیں امانت دار نہیں سمجھا جاسکتا۔
(3) قرآن پاک تشدد پر اکساتا ہے
(4) قرآن پاک کے تشدد کے درس کے نتیجے میں اسلام کو بزور طاقت پھیلایا گیا ہے ۔
(5) قرآن پاک کی تعلیم چونکہ مدارس میں دی جاتی ہے اس لئے مدارس کے طلبا میں کٹّر پن آتا ہے ، مدارس سے اسی لئے آتنک وادی نکلتے ہیں ، یہ آتنک وادی ، مدارس کے یہ فارغین ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں ، مطلب یہ کہ مدارس کو بھی بند کیا جائے ۔
قرآن پاک چونکہ تشدد کا درس دیتا ہے اس لئے اس سے فرقہ پرستی پروان چڑھ سکتی ہے۔
اور فرقہ پرستی پروان چڑھی تو ملک غیر محفوظ ہوسکتاہے ۔
گویا یہ کہ ایک جاہلانہ پی آئی ایل کے ذریعے ،یہ ملک کے سارے مسلمانوں اور ملک کے دیگر شہریوں کو ایک دوسرے کے مدّ مقابلِ کھڑا کرنے کی ایک شرمناک ، گھناؤنی اور منصوبہ بند سازش ہے ۔ یہ مسلکی تنازعے کو گرم کرنے کی بھی کوشش ہے ۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ وسیم رضوی کے ماضی میں ہمیں جھانکنے کی ضرورت نہیں ہے ، اس ملک میں ایسے مسلمانوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو سکّوں کی جھنکار پر ہرطرح کا سودا کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ رضوی کی یہ خباثت ایک ایسے موقع پرسامنے آئی ہے جب ملک ایک دوراہے پر کھڑا ہوا ہے ، کسان پوری طاقت کے ساتھ فاسشت مودی حکومت کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔
مودی سرکار اپنے خلاف بڑھی ہوئی بے چینی اور بیزاری کو دبا نہیں سکی ہے ۔ رضوی کی یہ کمینگی شاید لوگوں کا دھیان بھٹکادے۔ ایسا کہا جارہا ہے ۔۔۔ تو کیا پھر اس طرح کے معاملات ہوں ، قرآن پاک پر حملے کیے جائیں ، حضرت محمد صلی الله عليه وسلم کی پاک ذات کو نشانہ بنایا جائے اوراسلامی شعائر پر پابندی کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے جائیں ، مدارس پر پابندیاں بڑھائی جائیں ، اے ایم یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو چھیننے کی ہر ممکنہ کوشش کی جائے ، اسکولی بچوں پر گیتا کا پاٹھ اور وندے ماترم کا پڑھنا جبراً تھوپا جائے ، یوگا کو تہذیب کا ایک لازمی جزوبنادیا جائے اور صرف اس لئے یہ سب ’نظر انداز‘ کیا جائے کہ کہیں لوگوں کی توجہ ان ’حقیقی قومی موضوعات‘سے جو سامنے آئے ہیں ہٹ نہ جائے ؟ میرے خیال میں یہ بھی درست نہیں ہے ، کیونکہ ’ نظرانداز‘ کیے جانے کے نتائج ہمارے سامنے ہیں ۔ صرف ایک بابری مسجد ہی اور صرف طلاقِ ثلاثہ کی شرعی اجازت ہی نہیں، مسلمانوں سے بہت کچھ چھن چکا ہے۔ بالخصوص اسلامی تہذیب ۔۔۔ اب کوشش ہیکہ مسلمانوں سے ان کی دوقیمتی متاع چھین لی جائیں ’ حبِ قرآن ‘ اور ’حبِ رسول صلی الله عليه وسلم ۔۔۔ قرآن پاک کی محبت سے دل خالی ہوئے کہ سارا ایمان گیا اور اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی الله عليه وسلم کی توہین پر ہم خاموش رہے تو ہم کہاں مسلمان رہ گئے ؟ کوئی نہ کوئی راہ تو نکالنی ہی پڑے گی ۔ ایک درمیان کی راہ ۔ کوئی ایسی راہ کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی بچ جائے ۔ اس کی ایک ہی راہ ہے ، علماء کرام اور دانشورانِ عظام ایسے معاملات میں عوام تک یہ پیغام پہنچائیں کہ اس مسئلے کا حل ہم قانونی سطح پر تلاش کررہے ہیں لہٰذا کوئی سڑک پر نہ اُترے ، کوئی احتجاج نہ کرے ، کوئی مظاہرہ نہ کرے ، کم از کم اس وقت تک جب تک کہ انہیں ایسا کرنے کے لئے نہ کہا جائے ۔۔۔ یہ پیغام دیا جائے کہ سوشل میڈیا پر عام مسلمان اور خواص بھی کوئی ایسی بات نہ کریں جو معاملے کو بگاڑ دے ، مثلاً یہ کہ ’جوابی اقدام‘ کی بات ، یامسلکی انتشار کی بات۔ یہ واضح پیغام جائے کہ علماء کرام اور دانشورانِ عظام اس طرح کے معاملات کو برادرانِ وطن اور دیگر مسالک کے علماء وقائدین کے ساتھ مل کر حل کرنے کی سعی کریں گے ۔۔۔ اور پوری طاقت کے ساتھ قانونی لڑائی لڑی جائے ۔۔۔ وسیم رضوی کی جہالت کے خلاف ایسا ہی ہوتا نظر آرہا ہے۔ شیعہ مسلک کے جیّد علماء نےقرآن پاک کی تحریف کے عقیدے سے انکار کرکے سُنّی علماء کرام کے ساتھ پورے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ اسی طرح کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری کا بہت ہی مناسب بیان سامنے آیا ہے ، ایسا بیان جو عام مسلمانوں کو حوصلہ بخشتا ہے ۔۔۔ رضا اکیڈمی کے سربراہ نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے ۔ علمائے دیوبند نے وسیم رضوی کی جہالت کا جواب صاف اور واضح دلیلوں سے دیا ہے۔
دریدہ دہن وسیم رضوی کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسلامی اداروں کے سامنے 26سورتیں بھیج کر اعتراضات رکھے تھے اور ان سے جواب طلب کیا تھا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا ۔۔۔ جھوٹے ہمیشہ جھوٹ ہی بولتے ہیں ، رضوی کو تقریباً ہرادارے نے جواب دیا ہے ۔

Leave a Reply