یوپی پولیس کے ذریعہ اپنے ممبر کی گرفتاری کی پاپولر فرنٹ نے کی مذمت








نئی دہلی: پاپولر فرنٹ آف انڈیا اپنے ایک ممبر راشد احمد کی اتر پردیش انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) کے ذریعہ گرفتاری کی مذمت کرتی ہے۔ راشد ممبئی میں کام کرتا ہے اور دو دن پہلے جب وہ اتر پردیش میں اپنے اہل خانہ سے مل کر واپس ممبئی لوٹ رہا تھا، اسی وقت سے وہ لاپتہ ہے۔ پچھلے دو دونوں سے اس سے کوئی بات چیت نہ ہونے پر اہل خانہ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں شکایت درج کرائی۔ یہ بات واضح ہے کہ اے ٹی ایس نے دو روز قبل اسے حراست میں لیا ہے اور آج جب اس کے گھروالوں نے ہائی کورٹ کا رخ کیا، تو اے ٹی ایس نے اس کی گرفتاری درج کر کے فرضی الزمات لگا کر اسے میڈیا کے سامنے پیش کر دیا۔
وہ پاپولر فرنٹ کا ایک ممبر ہے اور اے ٹی ایس کے ذریعہ اس پر لگائے گئے الزامات فرضی ہیں۔ یہ تنظیم کے خلاف اتر پردیش حکومت کی انتقامی سیاست کا حصہ ہے۔ یوپی حکومت کا یہ سیاسی فیصلہ ہے کہ صرف اس تنظیم کا ممبر ہونے کی وجہ سے ایک شخص کے ساتھ مجرموں سے جیسا سلوک کیا جائے گا اور تنظیم کی سرگرمیوں میں تعاون کرنے کی وجہ سے لوگوں کو سزا دی جائے گی۔ یوپی میں سی اے اے مخالف احتجاجات کے بعد، پاپولر فرنٹ کی ریاستی ایڈہاک کمیٹی کے تین ممبران کو فرضی الزامات میں گرفتار کرکے انہیں حراست میں زدوکوب کیا گیا۔ ایڈہاک کمیٹی کے ایک اور ممبر کو اس لئے گرفتار کیا گیا کیونکہ اس نے مفاد عامہ کی عرضی داخل کرکے سی اے اے مخالف مظاہروں پر پولیس کی زیادتیوں کی وجہ سے ہونے والی اموات کی عدالتی تفتیش کا مطالبہ کیا تھا۔
پاپولر فرنٹ یہ واضح کر دینا چاہتی ہے کہ تنظیم اس قسم کی اَوچھی انتقامی سیاست سے ڈرنے والی نہیں ہے اور ہم جمہوری و قانونی طریقے سے اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ ہم یوگی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں وہ ہمارے ممبران کو فوری طور پر رہا کرے اور بے قصور مسلم نوجوانوں کو قید میں ڈالنا اور زدوکوب کرنا بند کرے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *