رضوی کے خلاف تعزیرات ہند کے دفعہ 153(اے) کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ
سمری بختیارپور: (جعفرامام قاسمی) قرآن مقدس کی 26 آیتوں کو حذف کرنے کے تعلق سے سپریم کورٹ میں اپیل اور صحابۂ کرامؓ پرالزامات عائد کر نے جیسی گستاخی کے مرتکب وسیم رضوی کے خلاف ملک وبیرون ملک میں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے۔اسی ناراضگی اوربرہمی کا نتیجہ ہےکہ وسیم رضوی کے خلاف پورے ملک میں مقامی تنظیموں کے ذمہ داران کی جانب سے متعلقہ پولیس اسٹیشنوں میں وسیم رضوی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۵۳( اے) کے تحت ایف آئی آر درج کرکے اسے گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔آج سمری بختیارپور کے عوام نے بھی بختیارپور پولیس اسٹیشن پہنچ کر تھانہ انچارج سدھاکر کمار کے سامنے وسیم رضوی کے خلاف تحریری شکایت درج کرائی،جس میں کہاگیاہے کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے جہاں ہر شخص کو کوئی بھی مذہب اپنانے اور اس مذہب کی کتاب کے مطابق زندگی گزارنے کی پوری آزادی ہے،مذہب اسلام سے جڑے لوگ بھی اپنی مذہبی کتاب قرآن کریم کو چودہ سو سالوں سے مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں ،وسیم رضوی نے اس بابرکت کتاب کے خلاف اور اسلام کی تین عظیم بابرکت شخصیات حضرت ابوبکر حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنھم کے خلاف زہرافشانی کر سماج میں فتنہ پھیلانے کی کوشش کی ہے ،اس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو کاری ضرب لگی ہے ،اگر اسی طرح مذہبی کتابوں پر انگلیاں اُٹھتی رہیں تو پھر کوئی بھی شخص کسی مذہبی کتاب پر کچھ بھی بولنے میں کوئی خوف نہیں کرے گا،اور اس کی وجہ سے ایک پرامن معاشرہ نفرت و عداوت کا شکار ہو جائے گا۔اس لئے سماج اور ملک کی خیر سگالی اور بہتری کے لیے وسیم رضوی کے خلاف ایف آئی آر درج کر سخت قانونی کاروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی اس طرح کی مذموم حرکت نہ کر سکے۔تحریری شکایت درج کرانے والوں میں عقیل احمد عرف چاند بابو، اے ایم یو اسٹوڈنٹ لیڈر ابوالفرح شاذلی،تحسین رضا ،تسلیم گوہر، شمشاد عالم، جیلانی،عبداللہ،ایم عالم وغیرہ کا نام قابل ذکر ہے۔

Leave a Reply