نئی دہلی: (پریس ریلیز) انڈین یونین مسلم لیگ دہلی پردیش کے صدر مولانا نثار احمد نقشبندی کی قیادت میں آج جوشی کالونی میں پارٹی کی ہنگامی میٹنگ ہوئی جس میں پارٹی کے آل انڈیا جنرل سکریٹری خرم انیس عمر، دہلی پردیش کے سکریٹری شیخ فیصل حسن ، محمد عارف، فیصل بابو ، سی کے زبیر یوتھ لیگ آل انڈیا جنرل سکریٹری ، معین الدین انصاری نائب صدر ، محمد نظام ، نور الشمس ، آصف انصاری ، مفتی فیروز الدین مظاہری سکریٹری ،عبد الحمید انصاری خزانچی ، محمد زاہد نائب خزانچی ، مدثر الحق ، شہزاد احمد یوتھ لیگ ، اتیب خان ایم ایس ایف کنوینر، شفیق احمد ، مصطفی منصوری، مولانا رحمت اللہ فاروقی، ارشاد احمد، مولانا دین محمد قاسمی، مولانا الطاف الرحمن، حافظ محمد اسلام وغےرہ شامل ہوئے۔
اس میٹنگ میں پارٹی نے طے کیا ہے کہ قرآن الکریم کے 26آیتوں کے خلاف آواز اٹھانے والے وسیم رضوی کے خلاف پارٹی قانونی کارروائی کرنے کے سلسلے میں لائحہ عمل تیار کررہی ہے تاکہ اسے عبرت ناک سزا ملے ۔ اس موقع پر دہلی پردیش کے صدر مولانا نثار احمد نقشبندی نے کہا کہ ”قرآن کریم ہمیں امن اور رحم دلی کا درس دیتا ہے۔ دنیا میں آنے کے بعد سے اس کے ایک لفظ میں بھی رد و بدل نہیں ہوئی ہے اور ایسا کرنے کی گنجائش بھی نہیں ہے قرآن کی 26 آیات کو حذف کرنے کا مطالبہ کرنے والے کے خلاف ملک بھر کے مسلمانوں میں سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ایسے شخص کو ہندوستانی مسلمان میں برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ جس طرح تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی کو ملک بدر کیا گیا اسی طرح وسیم رضوی کو بھی ملک بدر کرانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ پھر کوئی ایسی ناپاک حرکت نہ کرسکے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تو اس کے خاندان ، اہل خانہ اور تمام احباب نے رشتہ توڑا ہے ۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ وسیم رضوی کو اب لوگ ملک میں برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ لہذا انڈین یونین مسلم حکومت ہند سے مطالبہ کرتی ہے کہ اسے ملک بدر کیا جائے ۔ اس کے لئے پارٹی قانونی لڑائی لڑسکتی گی ۔
اس موقع پر پارٹی کے جنرل سکریٹری خرم انیس عمر نے وسیم رضوی کو ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے زبردست مذمت کی ہے۔ ”قرآن کریم ہمیں امن اور رحم دلی کا درس دیتا ہے۔ دنیا میں آنے کے بعد سے اس کے ایک لفظ میں بھی رد و بدل نہیں ہوئی ہے اور ایسا کرنے کی گنجائش بھی نہیں ہے۔‘ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وسیم رضوی کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ان لوگوں کا مقصد ملک کے اتحاد اور امن و آستی کی فضا کو آلودہ کرنا ہے۔ حکومت کو ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانی چاہیے۔ ہمیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ سپریم کورٹ اس عرضی کو مسترد کر دے گا۔“ انہوں نے مسلمانوں سے اس معاملہ میں صبر و تحمل سے کام لینے کی بھی اپیل کی ہے۔

Leave a Reply