شمال مشرقی دہلی فساد سے متعلق پولس کا کردار بے نقاب ، عدالت نے ایس ایچ او کو رپورٹ ڈائری کے ساتھ حاضر ہونے کا دیا حکم








 دہلی کی عدالت نے پھٹکار لگاتے ہوئے ڈی سی پی کو اسٹیٹس رپورٹ جمع کرنے اور ایس ایچ او کو ڈائری کے ساتھ عدالت میں حاضری کا حکم دیا۔ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے پولس کے رویہ پر حیرانی کا اظہار کیا اور کہا کہ جمعیۃ جو شروع سے کہہ رہی تھی، اب عدالت کے سامنے آشکارہ ہو چکا ہے ۔
نئی دہلی: (ملت ٹائمز) دہلی فساد سے متعلق پولس انتظامیہ کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ دہلی پولس، فساد کے نام پر کمزور طبقات اور اقلیتوں کو نشانہ بنار ہی ہے اور کسی کا مقدمہ کسی پر تھوپ رہی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند یہ بات اول دن سے کہہ رہی ہے، لیکن اب یہ معاملہ عدالتوں میں بے نقاب ہوچکا ہے۔ اس کی تازہ مثال حاجی محمد ہاشم کا مقدمہ ہے جس کی پاداش میں ان کو کافی دنوں تک جیل میں بند رہنا پڑا تھا۔
واضح ہو کہ دہلی پولس نے مدینہ مسجد میں توڑ پھوڑ اور آگ زنی کے معاملے میں شکایت کرنے والے حاجی محمد ہاشم کو ہی الٹے جیل میں بند کردیا تھا، شکایت کنندہ حاجی ہاشم نے اپنے گھر کو نذر آتش کرنے کی بھی شکایت کی تھی۔ پولیس نے اس شکایت کو نریش چند نامی شخص کی شکایت کے ساتھ ضم کردیا۔ پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرکے ہاشم علی کو گرفتار کرلیا تھا۔ وہ فی الحال ضمانت پر باہر ہیں۔
بدھ کو جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد کی قانونی پیروی کے بعد ایڈیشنل سیشن جج ونود یاود نے پولس کے اس طرح کے رویہ کو غیر معقول قرار دیتے ہوئے سخت پھٹکار لگائی اور شمال مشرق دہلی کے ڈی سی پی کو اسٹیٹس رپورٹ عدالت میں داخل کرنے کی ہدایت دی ہے، ساتھ ہی کراول نگر کے ایس ایچ او کو ڈائری کے ساتھ ۲۵/مارچ کو عدالت میں حاضر ہو نے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کراول نگر تھانہ میں ہاشم علی اور نریش چند کی علیحدہ شکایتوں کو ایک ایف آئی آر میں جوڑنا اور اس میں ہاشم علی کو گرفتار کرنا حیران کن ہے۔ اس طرح سے وہ شکایت کنندہ اور ملزم دونوں بنا دئیے گئے۔ پولس کا یہ عمل واضح طور پر بے وقوفی پر مبنی ہے۔
عدالت نے یہ تبصرہ مجسٹریٹ کورٹ کے یکم فروری کے حکم کے خلاف پولیس کی اپیل پر کیا ہے جس میں حاجی ہاشم علی کی شکایت پر نچلی عدالت نے مسجد کی بے حرمتی کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے اپنے تبصرے میں نوٹ کیا کہ پولیس نے مجسٹریٹ عدالت کو مسجد آگ زنی کیس میں درج ایف آئی آر کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ عدالت نے کہا کہ مجسٹریٹ کے ذریعے یکم فروری کا دیا گیا حکم، شیو وہار میں 25 فروری 2020 کو مدینہ مسجد جلانے اور اس کی بے حرمتی کے سلسلے میں ہے۔ پولیس کے مطابق، اس معاملے میں 26 فروری 2020 کو ایف آئی آر درج کی گئی تھی، لیکن پولیس کی جانب سے عدالت کو مطلع نہیں کیا گیا۔
ان تمام معاملات پر جمعیۃ علماء ہند کے قانونی معاملوں کے نگراں اور سکریٹری جمعیۃ علماء ہند ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی نے کہا کہ دہلی فساد سے متعلق بہت سارے معاملوں کو پولس نے حل کرنے کے بجائے مزید الجھا دیا ہے، جمعیۃ علماء ہند دہلی فساد متاثر ین کی بازآباد کاری میں شب و روز مصروف ہے۔ ساتھ ہی تقریباً تین سو مقدمات میں پیروی کررہی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے ہی مدینہ مسجد کی تعمیرِ نو کی ہے، اب اس کو نقصان پہنچانے والے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے۔ جمعیۃ کے وکیل ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد کی کاوشوں سے یہ معاملہ با معنی حد تک آگے بڑھا ہے، امید ہے کہ آگے کی کارروائی میں بہت ساری باتیں سامنے آئیں گی۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *