امام بخاری یونیورسٹی – تاریکی میں روشنی کا منار






کشن گنج: ۴ اپریل ۲۰۲۱ کو امام بخاری یونیورسٹی، کشن گنج بہار,کی تقریب سنگ بنیاد میں شرکت کرنے کا موقع ملا,صحرا میں ریت پر پھول کھلانے کا جگر رکھنے والے یونیورسٹی کے بانی وسرپرست اعلی جناب مولانا مطیع الرحمن بن عبدالمتین صاحب اس یونیورسٹی کے قیام کےلیے پچھلے کئی برسوں سے کوشش کررہے ہیں,آپ کی انتھک محنت وکوشش مطلوبہ کامیابی سےہمکنار ہونے لگی ہے,آپ کا عزم مصمم ایسا مضبوط ہے کہ آپ نہ تو طوفان اور آندھیوں کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ ہی راستے میں پیش آنے والی مشکلات کی , بلکہ اس پھول کی طرح خوشبو بکھیرتے رہتے ہیں جو آندھیوں اور طوفانوں میں بھی کھلتے اور مشام جاں کو معطر کرتے ہیں۔ سچ کہا ہے کسی نے:
ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے مباکباد پیش کرتا ہوں۔ ہماری نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں,ہم دعا کرتے ہیں کہ آپ مطلوبہ مدت میں ضروری کاغذی کارروائی اور انفراسٹرکچر کی شرائط پوری کرلیں اور یونیورسٹی کو حکومت بہارسے حتمی منظور ی مل جائے ان شاء اللہ۔ وما ذلک على اللہ بعزیز, میں آپ کے جذبات کو سلام کرتا ہوں جو موجِ حوادث کو شوق سے گلے لگانے کا ہنر جانتےہیں اور ہرطرح کی دشواریوں کو آسان کرنے کا سلیقہ رکھتے ہیں:
چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موجِ حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے
سنگ بنیاد تقریب میں ہندوستان کی کئی اہم شخصیات اور حکومت بہار کے وزراء شریک تھے, حکومت بہار کے وزیر تعمیرات ڈاکٹر اشوک چودھری , وزیر برائے اقلیتی امور جناب زمان خان, مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر جناب اصغر علی امام مہدی صاحب کے علاوہ درجنوں شخصیات رونق بزم تھے۔ افتتاحی تقریب میں مہمانوں نے اپنے خیالات کا ا ظہار کیا, میسکو کے ڈائرکٹر جناب فخر الدین صاحب, القلم انٹر نیشنل اسکول کے ڈائرکٹر جناب منظر احسن سلفی صاحب, الہدی انٹرنیشنل اسکول کے ڈائرکٹر جناب ذکی احمد مدنی صاحب, مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم عمومی جناب ہارون سنابلی صاحب, کربس ہاسپیٹل کے بانی وچیرمین جناب امتیاز نورانی صاحب, آل انڈیا کانگریس کمیٹی, اقلیتی سیل بہار کے چیرمین جناب منت رحمانی صاحب, الفیض انٹرنیشنل اسکول کے ڈائرکٹر جناب امان اللہ مدنی صاحب, کشن گنج کے ایم پی جناب جاوید صاحب, اور درجنوں علمی , ادبی, سیاسی , سماجی اور فکری شخصیات نے بیک زبان بانی یونیورسٹی کے حوصلوں کو سراہا اور انہیں اس عظیم مشن پر مبارکباد پیش کیا اور اپنے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یہ یونیورسٹی سیمانچل کے کشن گنج میں واقع ہے, یہ علاقہ تعلیمی اعتبار سے کافی پچھڑا ہوا ہے, سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق یہ ضلع تعلیمی اعتبار سےنہایت پچھڑا ہےجہاں مسلمانوں کی تعلیمی حالت سب سے زیادہ خراب ہے, یہاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا سنٹر بھی ہے, یہاں کئی سارے دینی وتعلیمی ادارے ہیں, کئی سارے اسکول ہیں, لیکن ان سب سے کے باوجود اب بھی یہاں تعلیم کی صورت حال نہایت ابتر ہے اور ضرورت ہے کہ بڑے پیمانہ پر تعلیمی بیداری کےلیے کام کیا جائے, جناب مطیع الرحمن صاحب کا تعلیمی مشن اورامام بخاری یونیورسٹی کا قیام اس خلا کو پر کرنے میں سنگ میل کا کام کرے گا ان شاء اللہ۔
میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہوگی آہ میری نفس میرا شعلہ بار ہوگا
صوبہ بہار میں تین سنٹرل یونیورسٹیاں ہیں, ۱۹ صوبائی یونیورسٹیاں, دو ڈیمڈ یونیورسٹیاں, ۵ پرائیوٹ یونیورسٹیاں اور ایک اسٹیٹ اوپن یونیورسٹی ہے,یہاں ۳انسٹی ٹیوٹ برائے نیشنل امپورٹنس ہیں, ایک انسٹی ٹیوٹ برائے انڈر اسٹیٹ لیجسلیٹو ہے, جہاں تک کالجز کی بات ہے تو بہار میں ۷۱۶ کالجز, دو اگری کلچر کالجز, ۲۴ انجینیرنگ کالجز, ۳۲ مینجمنٹ کالجز, ۱۰ لا ء کالجز, ۴۳ ٹیچرس ٹریننگ کالجز,۲ فیزیکل ایجوکشن کالجز اور ۱۵ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ہیں, اگر یہ یونیورسٹی منظور ہوجاتی ہے ہے تو یہ بہار کی چھٹی پرائیوٹ یونیورسٹی ہوگی انشاء اللہ۔
تقریب سنگ بنیاد میں ڈاکٹر اشوک چودھری صاحب نے تعلیم اور بہار میں تعلیمی بیداری مہم اور حکومتی کارگردگی کا جائزہ لیا اور مطیع الرحمن مدنی صاحب کو مکمل بھروسہ دلایا کہ وہ اس یونیورسٹی کے ساتھ ہمیشہ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہیں گے اور اس مشن کا بھرپور ساتھ دیں گے, وہیں جناب اصغرعلی امام مہدی سلفی صاحب نے اپنی تقریر میں اہل حدیث علماء کی تاریخی خدمات کی مختصر اورجامع جھلک پیش کی اور اس یونیورسٹی کو تعلیمی میدان کی اہم پیش رفت قرار دیا۔امیر محترم کی تقریر نہایت پر مغز تھی اور جماعت کی تاریخ اور تعلیم ودعوت اور ملکی آزادی میں جماعتی قربانیوں کو اس خوبصورتی سے بیان کیا کہ وزارء سمیت تمام سامعین اش اش کرنے لگے۔
جناب مطیع الرحمن صاحب نے سیکڑوں مہمانوں کو اس سنگ بنیاد تقریب میں شرکت کےلیے دعوت دی تھی, ان کے رہنے سہنے اور کھانے پینے کا خوب سے خوب تر انتظام کیا تھا, جامعہ امام بخاری کے اساتذہ وذمہ داران مہمانوں کے لیے پلکیں بچھائے ہوئے تھے, کشن گنج کا دفتر پیلیس ہوٹل مہمانوں کےلیے بک کیا گیا تھا جو یہاں کا سب سے بہتر ہوٹل ہے , مہمانوں کے کھانے کےلیے ہوٹل اور جامعہ کےمطبخ میں نہایت شاندار انتظام تھا, ہمیں یقین ہےکہ امام بخاری یونیورسٹی کی نور بیز کرنوں سے صوبہ بہار کے گوشے گوشے بطور عام اور سیمانچل کے علاقے بطور خاص منور ہوں گے اور بنگا ل وجھارکھنڈکے نونہالوں کو بھی یہاں سےکسب فیض کا بھرپور موقع ملے گا اور یہ یونیورسٹی تاریکی میں روشنی کا مینار ثابت ہوگی ان شاء اللہ۔
وہ کونسا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا
ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *