مدھوبنی: (ملت ٹائمز) نوجوان عالم دین اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے رکن مفتی اعجاز ارشد قاسمی کی تجہیز وتکفین ان کے آبائی وطن مدھوبنی بہار کے چندر سین پور گاﺅں میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں آج بعد نماز عصر ہوئی۔ مفتی اعجاز ارشد قاسمی کی وفات 17اپریل 2021 بروز سنیچر کو دہلی این سی آر کے فرید آبادمیں واقع پون ہسپتال میں علاج کے دوران ہوگئی تھی جس کے بعد دیر رات ان کی لاش ہسپتال سے آئی ٹی او پر جمیعت علماء کے مرکزی دفتر میں لائی گئی جہاں کچھ لوگوں نے پہلی نماز جنازہ ادا کی ۔ اس کے بعد ان کے جسد خاکی کو دہلی سے بہار کے مدھوبنی میں ایمبولینس کے ذریعہ لے جایا گیا ۔ ساتھ میں مفتی قاسمی کے پندرہ سالہ بیٹے طارق ، ان کی اہلیہ ، بہن اور دیگر لوگ موجود تھے ۔ 18اپریل کو مدھوبنی کے چندر سین پور گاؤں میں بعد نماز عصر مفتی اعجاز ارشدقاسمی کی تجہیز وتفکین ہوئی ۔ چچا زاد بھائی قاری سیف الرحمن نے نماز جنازہ کی امامت کی اور گاؤں کی قبرستان میں تدفین ہوئی ۔
تفصیلات کے مطابق مفتی اعجاز ارشد قاسمی کو پہلے 10اپریل کو نزلہ بخار ہوا ، 15اپریل کو انہیں سانس کی پروبلم ہونے لگی جس کے بعد ہسپتال میں داخل کرانے کی کوشش ہوئی تاہم دہلی کے کسی بھی ہسپتال میں بیڈ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے کافی تاخیر ہوگئی، تقریباً 20 ہسپتال سے رابطہ کیا گیا لیکن کہیں بھی خالی نہیں ملا۔بہت مشکل سے فرید آباد کے پون ہسپتال میں انہیں داخل کیا گیا ۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے انہیں آسی یو وارڈ میں شفٹ کرنا ضروری ہوگیا تھا لیکن ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں بیڈ خالی نہیں تھا جس کی وجہ سے ڈسچارج کرکے فرید آباد کے ایشین ہسپتال میں لایا گیا لیکن یہاں ایڈمٹ کرنے سے ڈاکٹروں نے انکار کردیا اور کہا کہ ہمارے یہاں بیڈ خالی نہیں ہے حالاں کہ اس ہسپتال نے پہلے یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے یہاں آئی سی یو میں بیڈ دستیاب ہے ۔ اس کے بعد جی ٹی بی ہسپتال میں لے جایا گیا لیکن وہاں بھی بیڈ خالی نہیں تھا۔ دیرات کو تقریباً 2بجے شاہین باغ کے گرپس ہیلتھ سینٹر میں لایا گیا لیکن یہاں آئی سی یو وارڈ نہیں تھا اور نہ ہی ڈاکٹر موجود تھے ۔17اپریل کو صبح آٹھ بجے تک فرید آباد میں ہی پون ہسپتال کی دوسری برانچ میں پہونچایا گیا جہاں آئی سی یو میں بیڈ مل گیا ، طبعیت بھی تقریباً ٹھیک تھی ۔ دس بجے کے قریب وہاں موجود اپنے بیٹے سے انہوں نے کچھ بات بھی کی تاہم گیارہ بجے ان کی موت ہوگئی۔
مولانا مرحوم کی کرونا رپوٹ پازیٹیو آئی تھی ۔ ہسپتال کے انچارج آر پی سنگھ نے ملت ٹائمز سے بتایاکہ آکسیجن کی قلت کی وجہ سے لنس بہت کمزور ہوگیا تھا جس کی وجہ سے ریکوری نہیں ہوسکا ۔
مفتی اعجاز ارشدقاسمی کا وطن بہار کے مدھوبنی میں چندر سین پور گاؤں تھا تاہم گذشتہ بیس سالوں سے وہ دہلی میں مقیم تھے اور یہاں متعدد طرح کی سرگرمیاں انجام دے رہے تھے ۔ پیس فاﺅ فاؤنڈیشن سمیت کئی ساری تنظیموں کے وہ بانی بھی تھے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن تھے ۔ دہلی وقف بورڈ میں دو مرتبہ ممبر رہ چکے تھے ۔ مرحوم دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور مفتی تھے علاوہ ازیں انہوں نے جے این یو سے پی ایچ ڈی بھی کی تھی ۔متعدد کتابوں کے مصنف اور معروف تجزیہ نگا ر تھے۔ ان کی وفات پر ملک کی سرکردہ سیاسی سماجی شخصیات نے تعزیت کا اظہار کیا ہے جس میں ڈاکٹر شکیل احمد سابق مرکزی وزیر ، علی اشرف فاطی سابق مرکزی وزیر حکومت ہند ، ڈاکٹر فیاض احمد سابق ایم ایل اے ، مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ، ایڈوکیٹ محمود پراچہ ، مفتی محفوظ الرحمن عثمانی ، ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی ، ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر ظفر صدیقی قاسمی ۔ مولانا اظہار الحق ویشالوی ۔ مولانا عظیم اللہ صدیقی قاسمی ۔ مولانا عبد السبحان قاسمی ۔ قاری عبد الخالق استاذ اشرف العلوم کنہواں وغیرہ کے نام سر فہرست ہیں ۔

Leave a Reply