امت شاہ نے کہا کہ امید کرتا ہوں کہ دو مئی تک دیدی (ممتا بنرجی) کے پیر کی چوٹ ٹھیک ہوجائے گی تاکہ جب وہ اپنا استعفی دینے گورنر کے پاس جائیں تو اپنے پیروں سے چل کر ہی جائیں
پورے ملک میں کورونا کا قہر جاری ہے اور کئی شہروں اور ریاستوں میں مکمل کرفیو اور ویک اینڈ کرفیو نافذ ہے یعنی حکومتوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کورونا وبا کی چین کو توڑنے کے لئے کرفیو اور لاک ڈاؤن کے نفاذ کی ضرورت ہے۔ اس خوفناک صورتحال میں بھی ملک کے ذمہ دار سیاست داں بھیڑ والے انتخابی اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے تمام انتخابی اجلاس منسوخ کر دیئے ہیں۔
کورونا وبا کے اس دور میں وزیر داخلہ اور خود وزیراعظم مغربی بنگال میں انتخابی جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں اور وہاں بڑی تعداد میں لوگوں کی ان اجلاس میں شرکت کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔اپنےسیاسی حریف پر حملے کرنا اور ان پر طنز کرنا ان انتخابی اجلاس میں ایک عام سی بات ہے لیکن ملک میں وبا نے جو خوف پھیلایا ہوا ہے اس میں پہلے تو کسی بھی جگہ لوگوں کی بھیڑ جمع ہونے کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور اگر اتنا بھی نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم سیاسی حملوں میں تھوڑی حساسیت ہونی چاہیے۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے ان سب پہلوؤں کو خاطر میں لانا ضروری نہیں سمجھا اور وزیراعلی ممتا بنرجی پر سیاسی حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کی ہار یقینی ہے اور خود ممتا بنرجی نندی گرام سے ہار جائیں گی۔ یہاں تک بھی ٹھیک ہے، لیکن امت شاہ نے کہا کہ ’’امید کرتا ہوں کہ دو مئی تک دیدی (ممتا بنرجی) کے پیر کی چوٹ ٹھیک ہو جائے گی تاکہ جب وہ اپنا استعفی دینے گورنر کے پاس جائیں تو اپنے پیروں پر جانے کی اہل ہو جائیں۔‘‘ ایسے ماحول میں ذاتی حملے کرنا عوام کو شائد اچھے نہیں لگیں۔ امت شاہ نے مزید کہا کہ ممتا بنرجی کے پاس حکومت کرنے کے لئےکوئی ایجنڈا نہیں ہے اگر وہ بارہ منٹ عوام سے خطاب کرتی ہیں تو اس میں سے دس منٹ تو وہ وزیر اعظم اور ان کےخلاف ہی بولتی ہیں۔

Leave a Reply