نئی دہلی: (پریس ریلیز) نوجوان عالم دین اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے رکن مفتی اعجاز ارشدقاسمی کی وفات پر اپنے شدیدرنج وغم کا اظہا رکرتے ہوئے ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی نے کہاکہ وہ ہمہ جہت خوبیو ں کے حامل اور نوجوانوں کیلئے آئیڈیل تھے ۔ بیک وقت ان میں کئی ساری خوبیاں موجود تھے ،ملی کاموں میں دلچسپی لیتے تھے اوربلاتفریق مذہب وملت سبھی کے کام آتے تھے ۔ سرکاری محکموں ، وزارات اور سیاسی معاملوں میں مضبوط گرفت ہونے کی وجہ سے متعدد ملی تنظیموں کیلئے وہ معاون اور مددگار ثابت ہوتے تھے اور بڑے بڑے مسائل بآسانی ان کی کوششوں سے حل ہوجاتے تھے ۔دارالعلوم دیوبند ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ، جمعیت علماء ہند سمیت متعدد تنظیموں کیلئے کئی مرتبہ اہم مسائل میں وہ معاون مددگار ثابت ہوئے ۔دہلی وقف بورڈ میں ممبر رہتے ہوئے انہوں نے متعدد ا ہم کام کیا ۔کئی ساری مسجدوں کو آباد کرایا ۔ ناجائز قبضہ چھڑایا ۔
شمس تبریز قاسمی نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے مزید کہاکہ مفتی اعجاز ارشد قاسمی نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد وہاں کے شعبہ انٹرینٹ اور میڈیا ترجمان کی ذمہ داری نبھائی ۔ دہلی آنے کے بعد انہوں نے آن لائن دارالافتا شروع کیا اور جواہر لال نہرویو یونیورسیٹی میں داخلہ لیکر تعلیم بھی حاصل کی جہاں سے انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی ۔ ان کی کتاب من شاہ جہانم صحافت کے موضوع پر جرنلزم کے طالب علموں میں بیحد مقبول ہے اس کے علاو ہ جہاد اور دہشت گردی اور اسلام اور دہشت گردی بھی ان کی مقبول ترین کتاب ہے ۔ علاوہ ازیںانہوں نے سماجی اور سیاسی سرگرمیاں بھی شروع کی اورغیر فعال سیاست میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کرتے رہے ۔ 2009 میں انہوں نے یوٹیوب ، فیس بک سمیت کئی سوشل سائٹ کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں کیس کیا اور یہاں سے اسلام اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مواد کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جس میں انہیں کامیابھی ملی ۔ اسی طرح انہوں نے تین طلاق بل کے وقت کانگریس اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں اور ایم پی سے مسلم پرسنل لاءبورڈ کے ذمہ داروں کی ملاقات کرانے میں اہم کردار نبھایا ۔ دہلی کے رام لیلا میدان میں خواتین کا تاریخی احتجاج بھی انہیں کی کوششوں کا نتیجہ تھا ۔ سیاسی سطح پر ان کی گرفت بہت مضبوط تھی اور مختلف پارٹیوں کے اہم رہنماؤں سے ان کے گہرے روابط تھے اور مختلف لوگوں کو اپنے تعلقات کے ذریعہ وہ مختلف مواقع پر فائدہ بھی پہونچاتے رہتے تھے ۔ٹی وی ڈبیٹ میں بھی انہو ں نے جانا شروع کیا اور کئی لوگوں کو وہاں کا راستہ بھی دکھایا ۔ گذشتہ مہینہ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل محمود پراچہ کے ساتھ مل کر انہوں نے دہلی میں ملک کے صف اول کے مسلم قائدین کی ایک میٹنگ بھی منعقد کرائی تھی جس کا مقصد مسلمانوں کے مختلف مسائل کا حل اور درپیش چیلنجز کا سامنا کرنا تھا اور ایک ایسا گروپ تشکیل دینا تھا ہمہ وقت مسلمانوں کیلئے فعال اور متحرک رہے۔
پریس کلب آف انڈیا کے سابق ڈائریکٹر اور ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی نے مزید کہاکہ ذاتی طور پر بھی میرے ان سے گہرے مراسم اور تعلقات تھے ۔ شروع سے ملت ٹائمز کو ان کا تعاون بھی حاصل رہا ۔ ملت ٹائمز کے اکثر پروگروم اور میٹنگ میں وہ شریک رہتے تھے اور ایک آواز پر حاضر ہوجاتے تھے ۔مجھے ہمیشہ عزیز رکھتے تھے اور چھوٹے بھائی کی طرح مانتے تھے ۔ہر قدم پر رہنمائی کرتے تھے اور بے دریغ مدد کرتے تھے ۔ ان کی وفات سے ملت ٹائمز کے سبھی اراکین کو شدید اور گہرا دکھ پہونچا ہے اور سبھی غمزدہ ہیں ۔دعاءگو ہیں کہ اللہ تعالی ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔
واضح رہے کہ مفتی اعجاز ارشد قاسمی کی وفات 17اپریل 2021 کو فرید آباد کے پون ہسپتال میں دوران علاج ہوگئی جس کے بعد ان کے جسد خاکی کو بہار کے مدھوبنی لے جایا گیا اور وہیں آبائی وطن چندر سپین پورمیں ان کی تدفین عمل میں آئی ۔
(آمین )

Leave a Reply