تمام انسان لائق اکرام ہیں، سماج ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے بین المذاہب مکالمہ وقت کی اہم ضروروت

آئی او ایس اور اور جی ایم وویمن کالج ممبئی کے سمینار میں شری شری روی شنکر سمیت مختلف مذاہب کے سرکردہ علماء، اسکالرس اور دانشوران کا خطاب

ممبئی: ( پریس ریلیز) مختلف مذاہب کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے کیلئے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز اورجی ایم وویمن کالج بھیونڈی ممبئی کے اشتراک سے بین المذاہب مکالمہ برائے فروغ امن وسلامتی کے عنوان پر دورزہ سمینار کا آج سے آغاز ہوگیا ہے۔ افتتاحی اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے آرٹ آف لیونگ کے سربراہ گرو دیو شری شری روی شنکر نے کہاکہ پوری دنیا کے انسان ایک شخص کی اولاد ہیں ، دنیا میں الگ الگ مذہبوں پر عمل کرتے ہیں ،لہذا ان کے آپس میں مذہب ، علاقہ اور خطہ بدلنے کی وجہ سے کوئی رنجش نہیں ہونی چاہیئے ، آپسی بھائی چارہ ، محبت اور اخلاق کے ساتھ سماج میں رہنا چاہیے ۔ شری شری روی شنکر نے مزید کہاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مختلف ذات ،مذاہب کے ماننے والوں کا ایک ساتھ رہنا ہی ہندوستان کی اصل خوبصورتی ہے ۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے سکریٹری جنرل مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے خصوصی خطاب میں کہاکہ پوری دنیا ،تمام کائنات اور سبھی انسانوں کے خالق اللہ تعالی ہیں ،اسلام سے قبل بھی کفار مکہ میں ایک خدا کا تصور تھا اور آج بھی مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے درمیان بھی یہ تصور پایا جاتاہے ، مسلمانوں اور برادران وطن کے درمیان بہت سارے امور مشترک ہیں ، مذہب اور دین میںکوئی زور زبردستی نہیں ہے ، نہ ہی مذہب کی بنیاد پر نفرت اور تعصب کی اجازت دی گئی ہے ، قرآن کریم میں اللہ تعالی کے نزدیک مقبولیت کی بنیاد تقوی کو دیاگیا ہے ، تمام انسانوں کو مکرم کہاگیاہے ، تمام نسل انسانی کی شرافت او رتعظیم کا تذکرہ کیاگیاہے اور یہ اکرام انسانیت بغیر کسی مذہبی تفریق کے ہے ، سبھی انسان لائق تعظیم ہے ، میدان جنگ میں بھی دشمنوں کا احترام کرنے کا سبق دیاگیاہے ا س لئے مذہب کی بنیاد پر کسی کے خلاف نفرت اور تعصب کی گنجائش نہیں ہے اور یہ اسلامی کے بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے کہ ہم مذہب نہ ہونے کی بنیاد پر کسی سے نفرت کی جائے ۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور یکجہتی کو فروغ دینے کا ذکر موجود ہے اور سبھی انسانوں کو لائق تعظیم قرار دیا گیا ہے ۔

معروف اسلامی اسکالر پروفیسر اختر الواسع سے اپنے خطا ب میں کہاکہ جس طرح مسلمانوں کو اپنے مذہب اور دین پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے اسی طرح مسلمانوں کے علاوہ کو بھی اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تشہیر کا حق حاصل ہے ، اسی طرح دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ مسلمانوں کو بھی اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تشہیر کا مکمل حق حاصل ہے ۔ہندوستان کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں صدیوں سے مختلف مذاہب کے ماننے والے رہتے آئے ہیں اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں ۔

پروفیسر ڈاکٹر پرمویر سنگھ ( شعبہ ہربن سنگھ برائے انسائیکلوپیڈیا برائے سکھ مت ، پنجاب یونیورسیٹی پٹیالہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ انسانوں کو مذہب کی بنیاد پر اپنے درمیان میں کسی طرح کا بھید بھاؤ نہیں کرنا چاہیے ، مذہب انسان کو سیدھے اور سچے راستے کی رہنمائی کرتاہے ، مذاہب پر عمل کرنے والوں کی پہلی ذمہ داری دوسرے مذاہب کا احترام ہے ۔

پروفیسر امتیاز یوسف اسوسی ایٹ پروفیسر آئی ایس ٹی ایس ملیشیا نے آئن لائن خطاب کرتے ہوئے کہاکہ امن وسلامتی ، معاشرہ کی ترقی اور ہم آہنگی کیلئے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان اتحاد ویکجہتی ضروری ہے ۔ اسلام تمام مذاہب کے احترام کی تلقین کرتاہے ، سبھی مذاہب کے ماننے والوں کا احترام کرنے کا سبق سکھاتاہے ، اسلام کے سیاسی نظام میں واضح طور پر تمام اقلیتوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے ان کے سبھی سماجی ، مذہبی ، معاشی اور معاشرتی حقوق فراہم کرنے اور اس کے تحفظ کا پابند بنایا گیا ہے ۔

پروفیسر افضل وانی وائس چیرمین آئی او ایس نے اپنی صدارتی خطاب میں کہاکہ اسلام مذاہب کے احترام کا حکم دیتاہے ، قرآن کریم میں اللہ تعالی نے تمام اولاد آدم کو مکرم اور لائق احترام قرار دیاہے اور واضح پیغام ہے کہ مذہب کے نام کسی بھی طرح کی تفریق درست نہیں ہے ۔

پروفیسر جون دیا ل رکن نیشنل انٹیگریشن کونسل نئی دہلی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہندوستان کی پہچان مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی رہی ہے ، مختلف تہذیب ، رنگ کلچر اور مذہب یہاں کی پہچان ہے لیکن حالیہ دنوں میں مذہب کے نام پر غنڈہ گردی اور نفرت بڑھتی جارہی ہے جو بیحد شرمناک ہے اور کوئی بھی مذہب کسی انسان سے نفرت کرنا نہیں سکھاتاہے ۔

اس موقع پر آئی او ایس کے وائس چیرمین پروفیسر افضل وانی کی کتاب ” پرنسپل فاؤنڈیشن فور گلوبل پیس“ ۔ انٹر ریلیجیئس انڈراسٹینڈنگ فار ایڈوانسمینٹ آف ہیومن رائٹس “کا اجراءبھی عمل میں آیا ۔

پروفیسر زیڈ ایم خان سکریٹری جنرل آئی او ایس نے اپنی گفتگو میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کا تفصیلی تعارف کرایا۔ ڈاکٹر نصار شیخ پرنسپل جی ایم مومن کالج بھیونڈی ممبئی نے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالات میں بین المذاہب ہم آہنگی اور گفتگو کو فروغ دینا اور اہل علم کو اس جانب متوجہ کرنا بہت ضروری ہے۔ اس کی اسی اہمیت اور ضرورت کے پیش نظر اس موضوع پر یہ کانفرنس منعقد کی جارہی ہے ۔ مولانا حسان ندوی نے کہاکہ تمام مذاہب کا احترام ہی مذہب پر حقیقی عمل ہے۔ قبل ازیں قرآن کریم کی تلاوت سے کانفرنس کا آغاز ہوا جبکہ ڈاکٹر تبسم شیخ نے نظامت کا فریضہ انجام دیا۔ پروفیسر حسینہ حاشیہ اسسٹنٹ جنرل سکریٹری آئی او ایس نے تمام مہمانوں اور شرکاءکا شکریہ ادا کیا۔ بزنس سیشن میں ملک بھر کے اسکالرس اس موضو ع پر اگلے دو دنوں میں متعدد نشستوں کے تحت اپنا مقالہ پیش کریں گے۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *