جامعہ ہمدرد میں 24 ویں تقریب شمع و حلف برداری کا انعقاد

نئی دہلی: رفیدہ کالج آف نرسنگ نے 23 مارچ، 2022 کو بوقت 3 بجے شام کنوینشن سینٹر جامعہ ہمدرد میں ڈپلوما ان جنرل نرسنگ اینڈ مڈوائفری (ڈی جی این ایم) اور بی ایس سی (آنرز) نرسنگ کے طلباء وطالبات کی 24 ویں تقریب شمع و حلف برداری منعقد کی۔

جدید نرسنگ کی بانی فلارینس نائیٹینگل کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقد کی جانے والی تقریب شمع ہر نرس کی زندگی میں ایک مبارک موقعے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تقریب کے ذریعے نرسنگ کی نوخیزطلباء و طالبات زندگی میں پہلی بار اپنے یونیفارم میں ملبوس ہو کر باضابطہ طور پر اس پیشے میں داخل ہوتی ہیں۔ یہ شمع اس روشنی کی علامت ہے جو ایک نرس اپنے مریضوں کے لئے ثابت ہوتی ہے اور بیماریوں سے دوچار لوگوں کے لئے امید اور راحت کی علامت بنتی ہے۔طلباء و طالبات اس شمع کو ایک عزم کی علامت کے طور پر روشن کرتی اور نرسنگ خدمات کا عہد لیتی ہیں۔

اس موقعے پر پولس فیمیلی ویلفیر سوسائیٹی کی صدر محترمہ انو استھانا نے مہمان خصوصی، جب کہ کالج آف نرسنگ آرمی ہوسپیٹل ریسرچ اور ریفرل، دہلی کی پرنسپل کرنل ریکھا بھٹاچاریہ نے مہمان اعزازی کے طور پر شرکت کی۔ دیگر معززین میں ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن کے سیکریٹری اور ہمدرد ایجوکیشن اور کلچرل ایڈ کے سی ای او جناب ساجد احمد، جامعہ ہمدرد کے رجسٹرار جناب سید سعود اختر، ایس این ایس اے ایچ کی ڈین پروفیسر (ڈاکٹر) منجو چھوگانی، اور رفیدہ کالج آف نرسنگ، جامعہ ہمدرد کی پرنسپل محترمہ وینا شرما شامل رہیں۔ پروگرام کی صدارت جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر عالی جناب پروفیسر (ڈاکٹر) محمد افشار عالم نے کی۔

کل 135 طلباء و طالبات نے نرسنگ کے پیشے میں اپنی سینیر محترمہ سومی بالا ٹحوکوم اور محترمہ فریحہ خان اسسٹنٹ پروفیسر رفیدہ کالج آف نرسنگ سے شمع حاصل کی۔ محترمہ بندو شیجو، ایسو شی ایٹ پروفیسر رفیدہ کالج آف نرسنگ جامعہ ہمدرد نے طلباء وطالبات کو حلف دلوایا۔

ایس این ایس اے ایچ، جامعہ ہمدرد کی ڈین نے سامعین کا استقبال کیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ نرسنگ صحت خدمات کا لازمی حصہ ہے۔ طبی سہولیات کے ساتھ مریضوں کو نرسوں کی ہمدردی اور محبت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

مہمان خصوصی نے اپنی تقریر میں نرسنگ کا پیشہ منتخب کرنے کے لئےطلباء و طالبات کو سراہا۔ انھوں نے طلباء و طالبات کو اپنے پیشے کے تئیں پر عزم، مخلص اور منضبط ہونے پر آمادہ کیا۔ انھوں نے تاکید کے ساتھ یہ بات کہی کہ یہ نوخیز نرسیں مریضوں کے لئے اہم سرمایہ ہیں۔

مہمان اعزازی نے اپنے بیان میں اس بے لوث خدمت پر زور دیا جو ہر نرس کو اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی میں پیش کرنی چاہیے۔ انھوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ہر نرس کو لازمی طور پر ترسیل کی مہارت، جذباتی استحکام، ایک صلاح کار اور معلم جیسی بنیادی خوبیوں سے لیس ہونا چاہیے۔ٹیکنالوجی اور بدلتے ہوئےرجحانات کی بنیاد پر انھوں نے کہا کہ نرسوں کو اپنی معلومات اور مہارت کو مطالعے اور تعلیم جاری رکھ کر تازہ کرتے رہنا چاہیے۔ انھوں نے مریض کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

اپنے خطبہ صدارت میں وائس چانسلر نے اس بات کو واضح کیا کہ طلباء و طالبات نرسوں کو پر عزم ہونے اور ذہنی طور پر صحت مند اور مشاہدے میں تیز ہونے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اس معزز شعبے میں پیشہ ورانہ ادب اور تواضع کو داخل کرنے پر بھی زور دیا۔

پرنسپل نے ان نوخیز نرسوں کو مبارکباد پیش کی اور ان کو اس پیشے کے تقدس کو اپنی زندگی میں بسانے پر اکسایا۔ انھوں نے تجسس، انکساری اور مریضوں کی نگہداشت کے لئے جذبہ پیدا کرنے پر زور دیا۔ انھوں سابقہ دو برسوں کی رپورٹ پیش کیا۔ انھوں نے کووڈ 19 وہبا کے دوران متعدد آؤٹ ریچ پروگرام کے ذریعے اور ہوسپیٹل میں صحت خدمات سے تعلق رکھنے والی دیگر ٹیموں کو تربیت دے کر کالج کے اساتذہ اور طلباء وطالبات کے بے مثال کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انھوں دہلی پولس فیمیلی ویلفیر سوسائیٹی، بال آروگیہ، ہیومن سولیڈاریٹی فاؤنڈیشن نیز سوسائیٹی آف نرسنگ پریکٹس جیسے تنظیموں کے اشتراک کے ساتھ کالج کے جاری پروگراموں پر بھی روشنی ڈالی۔

جامعہ ہمدرد کے رجسٹرار نے کلمات تشکر پیش کیے اور قومی ترانے کے ساتھ اس عظیم الشان پروگرام کا اختتام ہوا۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *