اردو کو اس کا واجب حق دلانے کیلئے سڑک سے سنسدتک لڑائی لڑنی ہوگی ، کسی بھی رہنما نے اردو کے ساتھ انصاف نہیں کیا

اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے پر پریس کلب آف انڈیا کے پروگرام میں شرکاء کا اظہار خیال 

نئی دہلی: (محمدغفران آفریدی) 27 مارچ 2022 کو اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے کی مناسبت سے پریس کلب آف انڈیا نے اپنے یہاں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں مختلف زبانوں کے سرکردہ صحافیوں نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔سہارانیوز نیٹ ورک کے سی ای او اور روزنامہ راشٹر یہ سہارا کے ایڈیٹر ان چیف اوپیندررائے نے’ تعمیرہند میں اردو میڈیا کا کردار ‘ کے عنوان پر منعقد ایک پروگرام میں کہاکہ اردو ہندوستان کی ترقی پسند زبان ہے،سبھی ہندوستانیوں کی زبان ہے اور اردو زبان نے جنگ آزادی میں نمایاں کردار ادا کیاہے ، اسکی خدمات ناقابل فراموش ہے۔انہوں نے کہاکہ اردو زبان میں ہندی ، فارسی ، عربی ، ترکی ، سنسکرت ، ترکی کے الفاظ ہیں، اردوکی پیدائش ہندوستان میںہوئی ہے ،مگر تقسیم وطن میںاردوزبان کو نقصان ہوا ہے ۔ پریس کلب آف انڈیا کے زیر اہتمام اردو صحافت کے 200سال کی تکمیل پر منعقد کا نفرنس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک اوپیندررائے خطاب کررہے تھے۔

سہارا انڈیا میڈیا کے چیف اوپیندررائے نے اپنی پُر مغز گفتگو میں جہاںاردو زبان سے انثیت ولگاﺅ کے حوالے سے مختلف خیالات کا اظہار کیا، وہیں اردو زبان کو اس کا بہتر و مناسب درجہ نہ ملنے پر گہرا افسوس جتایا۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ میرا 25سالہ صحافتی سفر نومبر میںمکمل ہو جائے گا ، مگر اردو سے میرا شروع سے ہی لگاؤ تھا۔انہوں نے مزید کہاکہ زبانیں صرف اسی وقت زندہ رہتی ہیں جن میں تجربات کی جگہ ہو،یعنی ان میں مزید ریسرچ ہو اور وقت کی رفتار کے ساتھ جدیدیت سے جوڑا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ساتویں صدی میں جب دوسرے ممالک سے لوگ تجارت کے لیے ہندوستان آنا شروع ہوئے تو اس دوران ہندوستان میں ایک نئی زبان نے شکل اختیار کی، شروع میں اس زبان کواردو کہا گیا اور پھر یہ اردوبن گئی۔ انہوں نے کہا کہ اردو کی سرزمین ہندوستان ہے جہاں اردو نے جنم لیااور آج یہ خوب پھل پھول رہی ہے۔ اوپیندررائے نے یہ بھی کہا کہ وطن عزیز کی آزادی کے لیے لڑنے والے تمام مجاہدین نے بھی اردوزبان کا استعمال کیا ہے اور یہ جہاں انقلابی زبان ہے، وہیں پیار و محبت و عشق کی زبان ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی سے قبل ملک میں کل 415 اخبارات تھے جن میں سے 70 اخبارات نے پاکستان جانا قبول کیا، باقی یہی رہے۔ انہوں نے کہا کہ آج انگریزی زبان اسلئے موثر ہے کہ انگریزی دنیا میںکاروبار و روزگار کی زبان بن گئی ہے جبکہ اردو زبان پسماندہ ہے کیونکہ اردو نہ تو کاروبار کی زبان بنی، نہ اس زبان میں کتابیں لکھی گئیں، نہ دفاعی جریدے لکھے گئے۔ ہندی کا بھی یہی حال تھا، جبکہ دونوں کا بھائی بہن والا رشتہ ہے۔اوپیندررائے کا یہ بھی کہناتھا کہ اردو زبان آج بھی روز مرہ کے استعمال میں بول چال کی زبان ہے لیکن اس زبان کو استعمال کرنے کے قابل نہیں ہے، البتہ نئی چیزیں بنانے کے لیے لمبی چھلانگ لگانی پڑتی ہے،وقت ختم ہو رہا ہے اور ہم پیچھے رہ رہے ہیں، ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا اور لمبی چھلانگ لگانی ہوگی۔

قبل ازیںمعروف شاعر احمد علی برقی اعظمی نے اردو صحافت کے 200سالہ جشن کے موقع پر نظم پیش کی اور شرکا نے اردو کے معروف صحافی وشہید مولانا محمد علی باقر کی تصویر پر گلہائے عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر سابق ایم .پی شاہد صدیقی نے اپنی تقریرمیں کہاکہ اردو نے یقینی طور پر ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں بے پناہ واہم رول ادا کیا ہے، اسکے علاوہ ہندوستان کو قوم بنا نے میں بھی اردو کا اہم کردار ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ پوری تحریک اردو سے ہی بنی تھی،یہی نہیں بھگت سنگھ کی جوتحریریںتھیںوہ سب اردو میں ہی تھیں ، انڈین نیشنل آرمی بننے میں اردو کا بڑا رول تھا ،نیز نیشن بلڈنگ میں بھی اردو نے نمایاں رول ادا کیا ہے، مگر اردو کی بدقسمتی یہی ہے کہ اس کو ایک طبقہ یا مذہب کی زبان کی طر ح تسلیم کیا گیا ۔شاہد صدیقی نے یہ بھی کہاکہ 1947سے بڑا برا دور اردوزبان کیلئے کوئی نہیں ہو سکتا ہے ،مگر 1950کے بعد کافی حالت بہتر ہوئے ، لیکن آج اردو کا ایک اہم مقام ہے اور اسکا ڈنکا پوری دنیا میں بج رہا ہے۔ راشٹر یہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر عبد الماجد نظامی نے اردو زبان کی ترویج واشاعت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قومی آواز کے بعد ’اردو روزنامہ راشٹریہ سہارا‘ لانچ ہوا، یہ سہارا شری صاحب کی طرف سے ایک نا قابل فراموش کا رنامہ ہے ،کیو نکہ کسی بھی سرکاروں کی طرف سے اردوکے فروغ کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ،مگر روزنامہ راشٹریہ سہارا اردو نے لوگوں کے دلوں میں ایک خاص جگہ بنائی اور پھر بعد میں اوپیندر رائے جی کی سرپرستی میں ہندوستان میں اردو کا سب سے بڑا چینل عالمی سہارا کا افتتاح عمل میں آیا۔ عبد الماجد نظامی نے مزید کہاکہ اردوصحافت نے بیش بہا خدمات انجام دی ہے ، موجودہ وقت میں بھی بخوبی خدمت کر رہا ہے ،مزید نئی نسل کو اردو سے جوڑنے کی ضرورت ہے ۔ راجیہ سبھاٹی . وی کے سینئر جرنلسٹ راجیش پاٹھک نے کہاکہ اردو اپنے آپ میں ایک بہت بڑا مضمون ہے،اردو زبان میں گنگا جمنی تہذیب کا ایک بہت بڑا نمو نہ نظر آتا ہے اور ایک مٹھا س ملتی ہے ،اردو صحافت کی یقینی طور پر ایک تاریخ رہی ہے اوراسکی اپنی ایک اہمیت بھی ہے نیز آزادی سے قبل اردو زبان ہی تھی ،کیو نکہ وہی ایک زبان تھی ،مگر آج سیاست کی وجہ سے حالات خراب ہوئے ہیں، اس میں سبھی میڈیا متاثر ہوا ہے۔ را جیش پاٹھک نے مزید کہاکہ نظمی صحافت میں ریسرچ ہو نا چاہئے ،یعنی یو نیورسٹی کو چاہئے کہ اردو جر نلزم میں نظمی صحافت کو بھی جوڑا جائے ۔سینئر صحافی قربان علی نے اردو صحافت کے 200سالہ جشن کے موقع پرتقریب منعقد کر نے پر پریس کلب آف انڈیا کے ذمہ داروں کو مبارکبا دپیش کرتاہوں۔ انہوں نے افسوس کے ساتھ بتایاکہ ملک کے بڑے بڑے لیڈران اردوزبان سیکھتے تو ہیں ، مگر جب اردو کو درجہ دلا نے کی بات کی جاتی ہے توعملی اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں۔قربان علی نے مزید کہاکہ سابق وزیر اعظم 10 سال تک اردوزبان میں تقریریں کرتے تھے ، لیکن انہوں نے بھی اردو زبان کے فروغ کیلئے کوئی بہتر و مثبت قدم نہیں اٹھائے ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ ایسے میںضروری ہے کہ اردو زبان کو اسکا واجب حق دلا نے کیلئے سڑک سے سنسد تک لڑائی لڑی جائے ۔ صحافیہ روشنی سنگھ نے بتایا کہ آج بھی ہندوستان کا بہت سارا لٹریچر اردو زبان میں ہے ، یہی نہیں سکھوں کی مقدس کتاب بھی اردو میں ہی ہے اور یہ پوری طرح سے ایک ہندوستانی زبان ہے ، لیکن افسوس اردو کو مسلمانوں کی زبان بنا کر اسکے ساتھ سوتیلاسلوک کیا گیا ،جو واقعی افسوسناک ہے۔ صدارتی خطبہ میںپی سی آئی کے سربراہ اوما کانت لکھیرا نے کہاکہ اردو کے ساتھ پر مقام پر ناانصافی کی جارہی ہے، مگرپریس کلب یقین دلاتا ہے کہ اس کو بہتر مقام دلا نے کیلئے ہر طرح سے تیارہے، کیونکہ جو اردو زبان میں مواد ہے ، وہ کسی دیگر زبان میں نہیں ہے ۔ اس دوران مسلم مجلس مشاور ت کے قومی صدر نوید حامد ۔ سینئر صحافی احمد جاوید ، شیخ منظور ظہور ،راجیش بادل، سوشل ورکر ہدیت اللہ جینٹل ،خالد مُلا، صحافیہ ڈاکٹر ناہید ،ڈاکٹر عارف اقبال ،عرفان وحید ودیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ نظامت کے فرائض بزرگ صحافی اے . یو آصف نے بحسن وخوبی انجام دئے، جبکہ اخیر میں شمس تبریز احمد قاسمی نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *