نئی دہلی: اردو صحافت کے دوسوسالہ جشن کی مرکزی تقریب 30 مارچ کو راجدھانی دہلی میں ہوگی جس میں سابق نائب صدر جمہوریہ محمدحامدانصاری اور سابق مرکزی وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد بطور مہمان شریک ہوں گے۔ نئی دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقد ہونے والی اس اہم تقریب میں جن دیگر مہمانوں نے شرکت کی منظوری دی ہے ،ان میں’ ہندسماچار‘ جالندھر کے ایڈیٹر وجے کمار چوپڑا، پدم شری پروفیسر اخترالواسع، آل انڈیا اردو ایڈیٹرس کانفرنس کے صدر م۔ افضل ، ممبر پارلیمنٹ ندیم الحق، سینئر صحافی اور شاعر حسن کمال، پروفیسر شافع قدوائی اور ڈاکٹر سید فاروق کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس تقریب میں ملک بھر سے جو نامور صحافی شریک ہورہے ہیں، ان میں روزنامہ ’آگ ‘ لکھنؤ کے سابق ایڈیٹر احمد ابراہیم علوی ، روزنامہ ’ سیاست ‘ حیدرآباد کے نیوز ایڈیٹر عامرعلی خاں، روزنامہ ’قومی تنظیم ‘پٹنہ کے ایڈیٹر اشرف فرید، روزنامہ’ ندیم ‘ بھوپال کے نیوزایڈیٹر عارف عزیز، ’ قومی آواز‘ کے ایڈیٹر ظفرآغا ، روزنامہ ’ انقلاب ‘ نارتھ کے ایڈیٹر ودودساجد، ہمارا سماج کے ایڈیٹر ڈاکٹر خالدانور اورسینئر صحافی وبراڈکاسٹر قربان علی کے نام شامل ہیں ۔ یہ اطلاع آج یہاں دوسوسالہ تقریبات کمیٹی کے کنوینر معصوم مرادآبادی نے دی۔
انھوںنے مزید بتایا کہ تقریب میں جدوجہد آزادی کے دوران اردو صحافیوں کی عظیم قربانیوں کو بھی یاد کیا جائے گا۔ شرکائے تقریب اردو صحافت کو درپیش موجودہ مسائل اور آزمائشوں پر بھی گفتگو کریں گے۔اس موقع پر اردو کے نایاب اور پرانے اخبارات کے نسخوں کی نمائش کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اردو صحافت کی تاریخ پر ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی جائے گی۔ تقریب کے دوران اردو کے کئی بزرگ اور نامور صحافیوں کو’ کارنامہ حیات ایوارڈ ‘ سے سرفراز کیا جائے گا۔ یہ اعزازات اردو صحافت کو وجود بخشنے والے جن صحافیوں کے نام سے منسوب کئے گئے ہیں ان میں مولوی محمد باقر، پنڈت ہری ہردت، منشی نول کشور، مولانا ابوالکلام آزاد، حسرت موہانی، مولانا محمد علی جوہر، ظفر علی خان، مولانا عبدالماجد دریابادی، محمد عثمان فارقلیط ، عبدالوحید صدیقی ،حیات اللہ انصاری ، جی ڈی چندن اور نشتر خانقاہی شامل ہیں۔ اس موقع پر ایک یادگاری مجلہ کا اجراءبھی عمل میں آئے گا۔
معصوم مرادآبادی نے بتایا کہ اردو صحافت نے ہندوستان میں اپنی صحافت کے آغاز کے فوراً بعد استعمار مخالف جذبات کا اظہار کرنا اور جامع قوم پرستی کو فروغ دینا شروع کر دیا تھا۔ جہاں تک اردو کے پہلے اخبار کا تعلق ہے، یہ ’جامِ جہاں نما ‘ تھا جسے کلکتہ سے پنڈت ہری ہر دت نے مارچ 1822 میں شائع کیا تھا۔ جام جہاں نما کے ایڈیٹر پنڈت سدا سکھ لال تھے۔ فرقہ وارانہ تصورات کے برعکس اردو اخبارات کا آغاز ہندوؤں نے کیا تھا۔ یہ بھی درست ہے کہ اردو صحافت میں غیر مسلموں کا تعاون مسلمان صحافیوں سے کم نہیں ہے۔
اردو صحافت نے ہندوستان میں اپنی صحافت کے آغاز کے فوراً بعد غیر ملکی حکمرانی کے خلاف اپنے اختلاف کا اظہار کرنا شروع کر دیا تھا۔ دہلی اخبار کے ایڈیٹر محمد مولوی باقر نے استحصالی برطانوی حکمرانی کے خلاف دلیری سے لکھا اور 1857 کی بغاوت کے دوران حریت پسندوں کا ساتھ دیا۔ برطانوی حکومت نے اختلاف کی بلند ہوتی آواز کو دبانے کے لئے مولوی محمد باقر کو توپ کے دہانے سے باندھ کر اڑا دیا تھا۔ یہی حال ’ پیام آزادی ‘ کے ایڈیٹر مرزابیدار بخت کا ہوا۔باوجودیکہ اردو صحافیوں کی ہمت نہیں ٹوٹی اور وہ ملک کی آزادی کی جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔معصوم مرادآبادی نے اس موقع پر اردو صحافت سے دلچسپی رکھنے والوں کو دوصد سالہ تقریبات میں دل کی گہرائیوں سے مدعو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئیے اردو صحافت کے فروغ کے لئے ہم سب مل کر کام کریں۔

Leave a Reply