گجرات فسادات پر ذکیہ جعفری کی عرضی مسترد کیے جانے کے بعد امت شاہ نے تیستا سیتلواڑ اور میڈیا کو ٹھہرایا ذمہ دار

نئی دہلی: (محمد نیر اعظم) گزشتہ روز وزیر داخلہ امت شاہ نے گجرات فسادات پر نیوز ایجنسی اے این آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے بڑے انکشافات کئے۔ شاہ نے کہا کہ ہمیں عدالتی عمل پر پورا بھروسہ ہے، اسی لیے ہم نے 20 سال تک خاموشی سے اس کا انتظار کیا اور ایک ساتھ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے ہمارے لیڈر نریندر مودی پر فسادات میں ملوث ہونے کا الزام اپوزیشن کی طرف سے لگایا جا رہا تھا، وہ آج سپریم کورٹ نے بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔

کانگریس پر مزید نشانہ سادھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مودی جی سے بھی پوچھ گچھ ہوئی، لیکن انہوں نے کبھی ڈرامہ نہیں کیا اور نہ ہی اپنے ایم ایل ایز ، ایم پیز کو یکجہتی کے لیے سڑکوں پر لایا۔ ہماری حکومت نے میڈیا کے کام میں کبھی مداخلت نہیں کی۔

 جب ان سے ایس آئی ٹی کی تحقیقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں کچھ چھپانا نہیں تھا تو ہم اس تحقیقات کی مخالفت کیوں کریں؟ اور دیکھو آج اس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

2002 میں 3 دن تک ہونے والے فسادات کے بارے میں انہوں نے کہا

 ہم اس وقت ریاستی حکومت میں تھے اور ہم نے فسادات کو روکنے کی پوری کوشش کی اور اس بات کو سپریم کورٹ نے بھی قبول کیا اور ساتھ ہی سپریم کورٹ کا بھی ماننا تھا کہ یہ فسادات ’’ منصوبہ بند‘‘ نہیں بلکہ ’’خود محرک‘‘ تھے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ گجرات کو فسادی ریاست کا ٹیگ دیا گیا تھا؟

 اس پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ہر وہ الزام لگانا چاہیے جس سے پوری دنیا میں گجرات کی بدنامی ہو سکتی ہے۔ چاہے اسے فسادی ریاست کا نام دینے کا ٹیگ کیوں نہ ہو۔

 تیستا سیتلواڑ نے ہماری پارٹی کے خلاف اتنے پولیس اسٹیشنوں میں ایف آئی آر درج کروائی تھیں کہ میڈیا کا دباؤ ختم ہوگیا تھا، لیکن آج سب کچھ واضح ہے۔ فسادات پر انہوں نے کہا کہ ایک بات سن لو، فسادات میں صرف مسلمان ہی نہیں مارے گئے۔ اس سے پہلے گودھرا میں 60 لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ میں نے خود اپنے ہاتھوں سے 16 دن کی بچی کو آگنی دیا تھا ۔

 ذکیہ جعفری کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ذکیہ جعفری اور اس کے این جی او کو اس وقت کی مرکزی حکومت اور کچھ سیاسی جماعتوں سے مدد مل رہی تھی۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں انہوں نے آخر میں کہا

 10-12 سال تک مودی جی کے خلاف فسادات بھڑکانے جیسے مضامین اخبارات میں لکھے جاتے رہے اور یہی نہیں جب بھی وہ بیرون ملک جاتے تو وہاں کے اخبارات میں آرٹیکل بھی لکھے جاتے تاکہ ان کی بدنامی کی جاسکتے ، لیکن آج میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ سچ کو ہمیشہ کے لیے دبا نہیں سکتے۔ آج حقیقت سب کے سامنے ہے!


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *