رائے پور: چھتیس گڑھ میں ہندو تنظیموں نے راجستھان کے اودے پور میں ایک ہندو درزی کے بہیمانہ قتل کیخلاف ہفتہ کو ریاست گیر بند کی کال کی تھی ۔ خیال رہے کہ ایک مقتول درزی نے نوپور شرما کی حمایت میں سوشل میڈیا پوسٹ لکھا تھا، جس سے طیش میں آکر دو لوگوں نے اس کی دوکان پہنچ کر تیز دھار دار اسلحہ سے سر دھڑ سے جدا کردیا ۔ اس واقعہ کے خلاف بند کی کال کے بعد آج یہاں کے بڑے شہروں میں زیادہ تر دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے، کہا جاتا ہے کہ ہندو تنظیموں نے اس بند کیلئے دوکانیں جبراً بند کروائیں، اور اپنے فطرت کے موافق مسلم مخالف نعرے بھی لگائے ۔ وہیں ضروری خدمات کو بند سے مستثنیٰ قراردیا گیا۔ رائے پور سمیت کچھ شہروں میں اسکول اور کالج بند رہے اور مختلف مقامات پر پبلک ٹرانسپورٹ خدمات بھی بند کی وجہ سے معطل کردی گئیں۔ ریاستی پولیس کے سینئر عہدیداروں نے کہا کہ ریاست کے کسی بھی حصے سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی اور بند عام طور پر پرامن رہا۔خیال رہے کہ ریاست میں چھتیس گڑھ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بھی وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی طرف سے بلائے گئے بند کی حمایت کی تھی۔ ہندو تنظیموں نے تاجروں سے اپنے ادارے بند رکھنے کی اپیل کی تھی۔ اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنوں کے ساتھ آج ریاست میں سڑک پر نکل آئے اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ادارے ، دوکان وغیرہ کو بند رکھیں۔ رائے پور، درگ، بلاس پور، مہاسمنڈ، کانکیر، دھمتری، بیمتارا، رائے گڑھ اور کوربا سمیت ریاست کے کئی شہروں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ہندو تنظیموں نے بھگوا جھنڈے لے کر پیدل اور موٹر سائیکل پر مارچ کیا اور ادے پور قتل عام کے مجرموں کو پھانسی کی سزا کا مطالبہ کیا۔ راجستھان کے ادے پور شہر میں ایک درزی کنہیا لال کو منگل کی سہ پہر دو افراد ریاض اخترعطاری اور غوث محمد نے تیز دھار دار اسلحہ کے وار کر کے ہلاک کر دیا جب اس نے بی جے پی کی معطل ترجمان نوپور شرما کے حق میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لکھی۔ سابق ایم ایل اے اور بی جے پی لیڈر سری چند سندرانی جنہوں نے رائے پور شہر کے ’جے استمبھ‘ چوک پر احتجاجی مظاہرے میں حصہ لیا،اپنے خطاب میں کہا کہ راجستھان میں کنہیا لال کے بہیمانہ قتل پر ہندؤں میں لوگوں میں غصہ ہے، ہم سب منظم ہیں، اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا، جو لوگ دہشت کا ماحول بنا رہے ہیں اور ہندوتوا کے لیے چیلنج بن گئے ہیں، انہیں منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ سندرانی نے دعویٰ کیا کہ اس واقعہ کے خلاف احتجاج میں دارالحکومت میں تمام دکانیں، اسکول، کالج اور یہاں تک کہ پیٹرول پمپ بھی بند کردیئے گئے۔انہوں نے کہا کہ بند کی حمایت کرکے چھتیس گڑھ کے لوگوں نے دکھایا ہے کہ اس طرح کے گھناؤنے جرم کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اسی دوران وی ایچ پی لیڈر گھنشیام چودھری نے کہا کہ ملک آئین سے چلے گا ’شریعت ‘سے نہیں۔ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ بند کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے دارالحکومت اور دیگر شہروں میں مناسب حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔دوسری جانب ریاست کی حکمراں جماعت کانگریس نے کہا ہے کہ ادے پور کے وحشیانہ واقعہ کی پورے ملک نے مذمت کی ہے لیکن بی جے پی جس طرح اس پر سیاست کر رہی ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ چھتیس گڑھ پردیش کانگریس کمیٹی کے کمیونی کیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ سشیل آنند شکلا نے کہا کہ ادے پور کا واقعہ وحشیانہ، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ پورا ملک اس کی مذمت کر رہا ہے۔ لیکن بی جے پی جس طرح اس واقعہ پر سیاست کر رہی ہے وہ انتہائی قابل مذمت اور گنگا جمنی تہذیب کیخلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے خلاف چھتیس گڑھ کو بند کرنا مناسب نہیں ہے۔ بند کے دوران بی جے پی، آر ایس ایس اور وی ایچ پی کے کارکن جس طرح سے انتہا پسندانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں، وہ سماجی ہم آہنگی کے خلاف ہے۔ دکانداروں پر اپنے ادارے بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا غلط ہے۔

Leave a Reply