اردو پنجابی کیلئے بنی نئی اساتذہ تقرری پالیسی منمانی اور غیر منصفانہ

تفریق پر مبنی اساتذہ تقرری پالیسی کے لئے وزیرا علی اروندکجریوال معافی مانگیں اور پرانی میرٹ لسٹ استعمال کرکے مثاثرہ امیدواروں کو راحت دیں: کلیم الحفیظ

نئی دہلی: (پریس ریلیز) دہلی مجلس اتحاد المسلمین کے صدر کلیم الحفیظ نے کمبائنڈ میرٹ پرمبنی نئی اردوپنجابی اساتذہ تقرری پالیسی میں منمانی کو لے کر دہلی حکومت کی شدید تنقید کی ہے انھوں نے کہا کہ نئی پالیسی ذریعہ اروند کجریوال حکومت مسئلے کا حل نکالنے کی جگہ منمانی کرکے دہلی میں اردو پنجابی اساتذہ کا بحران بنائے رکھنا چاہتی ہے دہلی حکومت کی پالیسی میں آخر ان امیدواروں کو راحت کیوں نہیں دی گئی جو اس تفریق پر مبنی پالیسی کا شکار ہوئے ہیں۔ اس پالیسی کو مستقبل میں نافذ کرنے کا اعلان کرنا منمانی پر مبنی ہے۔اروند کجریوال اور وزیر تعلیم منیش سسودیا نے اردو پنجابی کو لے کر جوپالیسی بنائی تھی وہ ناکام ہوچکی ہے دہلی میں اردو پنجابی اساتذہ کی 1500کے قریب اسامیاں خالی ہیں یہ سب غلط پالیسی کی وجہ سے ہواہے اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیرا علی اروند کجریوال کو اس معاملے میں معافی مانگنی چاہیے اور جن امیدواروں کا انتخاب صرف پہلے پیپر جنرل اسٹڈیز میں کم نمبرات کی وجہ سے نہیں ہوا جبکہ دونوں حصوں کے نمبرات کو ملا کر وہ میرٹ سے کہیں زیادہ نمبر لے کر آئے ہیں ایسے امیدواروں کو نئی پالیسی کے ذریعہ راحت ملنی چاہیے کیونکہ یہ اساتذہ سی ٹیٹ کوالیفائڈ ہیں اور سالوں سے اپنے مضامین پڑھارہے ہیں آخر غلط پالیسی کا نقصان اساتذہ اور اردو پنجابی پڑھنے والے طلبائکیوں اٹھائیں۔کلیم الحفیظ نے کہا کہ جنوری کے مہینہ میں ڈی ایس ایس ایس بی کے نتائج آئے تھے جن میں اردو کی 917پوسٹوں کے لئے صرف 177اورپنجابی کے لئے صرف 138امیدوار کامیاب ہوئے تھے 9فروری کو مجلس کی جانب سے اس پورے مسئلے پر دہلی حکومت کو بیدار کرنے اور آواز اٹھانے کا کام کیا گیاتھا اور پالیسی میں تبدیلی کی مانگ کی گئی تھی دہلی حکومت نے اپنی غلطی ماننے اور فیصلہ لینے میں 6مہینے کا وقت لگادیا اس سے طلباء کو اساتذہ نہیں ملے اس کی بھرپائی کون کرے گا؟


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *