نئی دہلی: (ملت ٹائمز) معروف ملی رہنما اور جماعت اسلامی ہند کے سابق امیر مولانا سید جلال الدین عمری کا طویل علالت کے بعد جا معہ نگر کے الشفا ہسپتال میں آج رات کو نو بجے انتقال ہوگیا۔ نماز ہ جنازہ جماعت اسلامی ہند کے احاطہ میں کل بروز سنیچر27 اگست 2022 کو صبح دس بجے ادا کی جائے گی ۔
مولانا جلال الدین عمری کی ولادت 1935ء میں جنوبی ہند تمل ناڈو کے ضلع شمالی آرکاٹ کے ایک گاو¿ں پتّگرم میں ہوئی، والد صاحب کا نام سید حسین تھا، وہ 87 برس کے تھے۔مولانا کا شمار عصر حاضر کے بڑے عالم دین میں ہوتا تھا ، فی الوقت جماعت اسلامی ہند کی شرعیہ کونسل کے چیئر مین تھے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے نائب صدر بھی تھی اور گذشتہ سال انہیں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی جانب سے چودھویں شاہ ولی اللہ ایوارڈ سے سرفراز کیاگیاتھا۔مرحوم کئی روز سے اسپتال میں داخل تھے ، ڈاکٹروں کی ٹیم کی نگرانی میں انہیں انتہائی نگہداشت والی یوٹ آئی سی یو میں رکھا گیا تھا۔
آپ 50 سے زائد کتابوں کے مصنف و بہترین مقرر تھے۔ابتدائی تعلیم گاو¿ں ہی کے اسکول میں حاصل کی۔ پھر عربی تعلیم کے لیے جامعہ دارالسلام عمر آباد میں داخلہ لے کر 1954ئ میں فضیلت کا کورس مکمل کیا۔ اسی دوران مدراس یونیورسٹی کے امتحانات بھی دیے اور فارسی زبان وادب کی ڈگری ’منشی فاضل‘ حاصل کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے (اونلی انگلش) پرائیوٹ سے پاس کیا۔
لگاتار تین میقات جماعت اسلامی ہند کے امیر رہے ، پہلی بار 2007 میں ان کا بطور امیر جماعت اسلامی ہند انتخاب ہوا۔ اس سے قبل نائب امیر کی ذمہ داری رہی ، مولانا کی پوری زندگی تحریک اسلامی کی ابیاری میں گزری۔اپ کا وطنی تعلق تمل ناڈو سے تھا لیکن زندگی کا بڑا حصہ شمالی ہند میں گزرا۔ طویل عرصہ تک تصنیفی اکیڈمی علی گڑھ میں خدمات انجام دیں۔آپ نرم دم گفتگو اور گرم دم جتسجو کی بہترین مثال تھے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔

Leave a Reply