نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر جناب نوید حامد نے معروف عالم دین، عظیم اسلامی محقق، سابق امیر جماعت اسلامی ہند مولانا جلال الدین عمری کے سانحہ ارتحال کو ملک و ملت اور علم و تحقیق کا عظیم خسارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے انتقال سے ایسا بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے جس حال اور مستقبل قریب میں پر ہونا مشکل نظر آ رہا ہے، انھوں نے مرحوم مولانا عمری کے پسماندگان اور لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عمری کے کام کو زندہ رکھتے ہوئے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
صدر مشاورت نوید حامد نے مولانا عمری کے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت سے سرپرستانہ تعلقات اور سپریم گائڈنس کا سربراہ اعلی ہونے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کو ذاتی طر پر بھی اور تنظیی طور سے مشاورت کو ہمیشہ مولانا عمری مرحوم کی رہنمائی حاصل رہی۔
صدر مشاورت نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہےکہ مولانا موصوف کی 88؍ سالہ زندگی سراپا جدوجہد اور حرکت و عمل عبارت تھی، اسلامی نظام حیات، سیاست، معاشرت کی تفہیم و تشریح میں انہوں نے اہم رول ادا کیا ہے، 1954 میں جامعہ دارالسلام عمر آباد سے فضیلت، مدراس یونیورسٹی سے فارسی میں منشی فاضل اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد سے ان کے علمی سفر شروع ہو کر تاحیات جاری رہا قریب چار درجن کتابیں ان کے علم و فضل پر زبردست شہادت ہیں، جماعت اسلامی ہند کے امیر، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر، ماہنامہ زندگی اور سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے اڈیٹر ہونے کے حوالے سے ان کی ایک شناخت اور بڑا کردار ہے، ان کی متحرک زندگی سے بہت سوں کو حوصلہ اور رہنمائی و روشنی ملی ہے، ان کے سانحہ ارتحال سے بہت سے ادارے سرپرستی سے محروم ہو گئے ہیں اور ان کی کمی بہت دنوں تک شدت سے محسوس کی جاتی رہے گی۔
جناب نوید حامد نے اپنی اور مشاورت کی طرف سے جماعت اسلامی ہند کے ذمےداران اور وابستگان سے بھی اظہار تعزیت کرتے ہوئے، مولانا مرحوم کے لیے بارگاہ الہی میں دعائے مغفرت کے ساتھ تمام لوگوں سے ایصال ثواب کی بھی اپیل کی ہے۔

Leave a Reply