ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کی پریس کانفرنس ، سیاسی قیدیوں کو فوراً رہا کرنے کا مطالبہ

نئی دہلی: (ملت ٹائمز) ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے مطابق ہندوستان میں سیاسی قیدیوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہو تا جا رہا ہے، جس کا مقصد حکومت مخالف آوازوں کو دبانا، جمہوریت کا گلا گھوٹنا اور دستوری آزادی کو سلب کر نا ہے۔ جیسے جیسے حکومت کی ناکامیاں منظر عام پر آرہی ہیں حکومت کی سراسمیگی اور بو کھلاہٹ میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے، جس کا نتیجہ اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہے۔ ڈاٹا کو چھپانے کی تمام کو ششوں کے باوجود اقتصادی بدحالی اظہر من الشمس ہے لیکن ان کو ششوں کے ذریعہ دراصل حکومت ایک طرف عوام کی توجہ بے انتہا مہنگائی اور بڑھتی ہو ئی بے روزگاری کی طرف سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری طرف ملک کو ہندو مسلم کے خانوں میں بانٹنے اور مخالف آوازوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دکھیلنے کام کر رہی ہے۔

 کالے قوانین جیسے یو اے پی اے،مکوکا، گجوکا، این ایس اے، افسپا وغیرہ کا غلط اور بے تہاشا استعمال دراصل طویل عدالتی پویس کی کاروائی کو ہی سزا میں تبدیل کر دیتا ہے جس کے نتیجہ میں سیاسی قیدیوں ،جن میں اکٹی وسٹس، صحافی، سوشل میڈیا ناقدین، طلباءرہنما، یونیورسٹی کے اساتذہ، مسلم ، دلت، قبائلی رہنما، آرٹی آئی اکٹی وسٹس اور کسان رہنما شامل ہیں کو ضمانت تک سے محروم کر دیا جا تا ہے۔

 ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے 19 ،20 ، 21 اگست کو پورے ملک میں عوامی دستخط مہم چلا کر ہزاروں دستخطیں حاصل کیں اور صدر جمہوریہ سے ایک میمورنڈم کے ذریعہ مطالبہ کیا کہ

۱۔تمام سیاسی قیدیوں کو جنھیں بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔

۲۔حکومت کو ہدایت کی جائے کہ وہ ملک میں سیاسی قیدیوں پر ایک قرطاس ابیض(White Paper) شائع کیا جائے۔

۳۔ تمام سیاسی قیدیوں کو جیل میں مدت قیام کے اعتبار سے بھرپور معاوضہ دیا جائے۔

۴۔پولیس کو جوابدہ بنایا جائے اور جن افسران نے غلط ڈھنگ سے اور جھوٹے الزامات کے تحت سیاسی ناقدین کو پھنسایا، ان کے خلاف مقدمہ قائم کر کے سخت سزائیں دی جائیں۔

۵۔ تمام کالے قونین جیسے یو اے پی اے، مغاوت قانون(124A)، این ایس اے، مکوکا، گجوکا، افسپا وغیرہ کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے جس کا استعمال سیاسی ناقدین کی آوازوں کو دبانے اور انھیں ہراساں کر نے کے لئے کیا جارہا ہے۔

 ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے 31 اگست کو دہلی کے وی کے کرشناسینن بھون میں ایک عوامی عدالت کا انعقاد کیا تاکہ عوامی انی شیٹو کے ذریعہ پولیس جن ثبوتوں اور دلائل کی بنیاد پر لا متنائی قید کے ذریعہ جن ہزاروںسیاسی قیدیوں کے بنیادی و انسانی حقوق کو پامال کر رہی ہے کا بے لاگ جائزہ لیا جاسکے۔

 عوامی عدالت کے ذریعہ کوشش کی گئی تھی کہ ان معاملات پر ایک متفقہ موقف اختیار کیا جائے، رائے عامہ ہموار کی جائے، عوامی شعور بیدار کیا جائے اور ایک قانونی دستاویز تیار کی جا ئے نیز سیاسی قیدیوں کے اہل خانہ کو یہ موقع دیا جا ئے کہ وہ اپنا درد بیان کر سکیں۔

اس اعتبار سے یہ پیپلز ٹربیونل انتہائی کا میاب رہا۔

 عوامی عدالت کی جیوری درج ذیل اہم افراد پر مشتمل تھی۔

 عالیجناب جسٹس ایس ایس پارکر، سینئر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف انڈیا پرشانت بھوشن، ایڈوکیٹ گیاتری سنگھ، ڈاکٹر سیدہ سعدین حمید، حقوق انسانی کارکن تپن بوس اور دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان۔

 جن سیاسی قیدیوں کے اہل خانہ نے شرکت کی اور اپنا درد بیان کیا ان میں عمر خالد، خالد سیفی، صفورازرگر، اطہر خان، پروفیسرہنی بابو، پروفیسر سائی بابا، شمیر اور جاوید محمد۔ ان کے علاوہ نتاشا نروال، گلفشان، گوتم نولکھا اور صدیق کپن کے کیسز پر بھی ٹریبونل میں گفتگو کی گئی۔

 جیوری کے مشاہدات:

 ۱۔ایک ہی چارج شیٹ میں کئی افراد کا ملوث کیا جانا صرف ٹرائل کی میعاد کو بڑھانے کے لئے کیا گیا اس طرح اس کے ذریعہ ایک بڑی سازش کا تصور پیدا کیا جارہا ہے تا کہ محرسین کو زیادہ دنوں تک قید کیا جا سکے نیز ضمانت کو مشکل بلکہ ناممکن بنا یا جا سکے۔

 ۲۔ضمانت کو اصول اور جیل کو استثنا ہو نا چاہیے۔

 ۳۔پینل کا خیال ہے کہ پولیس طاقت کے ذریعہ محروسین کو مجبور کر تی ہے کہ وہ پولیس کے انغارمرین کر وعدہ معاف گواہ بن جائیں اور انھیں مجبور کر تی ہے کہ وہ دیگر محروسین کے خلاف بیانات دے کر ان کو مجرم بنا نے میں مددگار بنیں یہ بے ہو دہ روایت ختم ہو نی چاہئے۔

 ۴۔ پینل نے تجویز کیا کہ پولیس کو جوابدہ بنا یا جائے اور ناکردہ جرائم میں جان بوجھ کر پھنسانے والے پولیس افسران کو سزا دلائی جائے جو معصوم اور بے گناہ افراد کو غلط اور بے بنیاد الزامات میں پھنساتے ہیں۔

 اہل خانہ کے پینل میں بیانات:

 ۱۔محروسین نے اہل خانہ اپنے اوپر بیتی جارہی بیتا کو بڑے درد بھرے انداز میں بیان کیا کہ ان کے اپنوں کو غلط، بے بنیاد اور سخت الزامات کے تحت گرفتار کر کے سماج میں انھیں مشکوک بنا دیا ہے۔

 ۲۔انہوں نے محروسین کے تحفظ اور ان کی ضروریات کے تعلق سے خدشات کا اظہار کیا ۔

 ۳۔جیل انتظامیہ کے غیر انسانی رویے کی ہر شخص نے شکایت کی۔

 ۴۔بعض لوگوں نے اس بات کی بھی شکایت کی کہ وہ ان کے اپنوں کو بہت دور دور جیلوں میں قید کر دیا گیا جس کی وجہ سے ان سے ملاقات ایک تکلیف دہ عمل ہے۔

 ۵۔ بعض لوگوں کی شکایت تھی کہ محروسین سے فون پر بات کرنا انتہائی دشوار ہو تا ہے۔ ایک تو کال کی مدت بہت مختصر ہو تی ہے۔ دوسری لائن بار بار خراب ہو تی رہتی ہے۔

 ویلفیئر پارٹی آف انڈیا اس عوامی عدالت کی تفصیلات کا ڈکیومنٹیشن کر کے متعلقہ اتھارٹیز تک پہنچائے گی۔

 ویلفیئر پارٹی آف انڈیا 15 اکتوبر سے31 اکتوبر ملک گیر سطح پر مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف عوامی مہم چلا رہی ہے۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *