غالب انسٹی ٹیوٹ میں محترمہ شالو اور ڈاکٹر جسیم الدین کی مشترکہ تصنیف ’پریم چند اینڈ دی عرب ورلڈ‘ کی رسم اجرا کی تقریب میں ماہر پریم چندیات پروفیسر اسد الدین کا اظہار خیال
نئی دہلی: (اسٹاف رپورٹر) اردو ہندی کے ناول وافسانہ نگار پریم چند کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کے ناول اور افسانوں کا ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں میں کیا گیاہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے، پریم چند کی آفاقیت کا یہ عالم ہے کہ ان کے بعض ناول اور افسانوں کا ترجمہ عربی میں بھی کیا گیاہے ، لیکن صرف چار پانچ افسانے اور ایک ناول کا ہی عربی ترجمہ کیوں؟ جب پریم چند نے تین سو سے زائد افسانے لکھے اور ان کا ترجمہ انگلش میں کیا جاچکاہے تو عربی میں بھی ان کے مزید افسانوں اور ناول کے ترجمے ہونے چاہئیں، ان خیالات کا اظہار ماہر پریم چندیات شعبۂ انگلش کے پروفیسر اسد الدین ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹیز اینڈ لینگویجزجامعہ ملیہ اسلامیہ نے کیا ، وہ غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام محترمہ شالو اور ڈاکٹر جسیم الدین ،گیسٹ فیکلٹی شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی کی مشترکہ تصنیف ’پریم چند اینڈ دی عرب ورلڈ‘ کی رسم اجراکی تقریب سے بحیثیت صدر خطاب کررہے تھے۔انھوں نے مزیدکہاکہ کسی بھی ادیب کی اصل زبان میں لکھی ہوئی تحریرکو سامنے رکھنا چاہیے ترجمہ کو نہیں ،کیوں کہ ترجمہ اصل تصنیف کی روح تک رسائی نہیں حاصل کرسکتاہے۔ظاہر ہے کہ پریم چند نے انگلش یا عربی میں نہیں لکھا ، بلکہ اردو اور ہندی میں لکھا تو انہی دونوں زبانوں کو سامنے رکھ کر عربی یا انگلش میں ان کے ناول یا افسانوں کے ترجمے ہونے چاہئیں۔تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر امیتابھ چکرورتی ڈین فیکلٹی آف آرٹس دہلی یونیورسٹی نے کہاکہ پریم چند کو ساری دنیا میں پڑھا جارہاہے ، اب عربی زبان میں بھی اہل عرب اور عربی داں حضرات ان کے ناول اور افسانوں کو عربی میں ترجمہ کررہے یہ ان کے ادب کی مقبولیت کی دلیل ہے ، مجھے خوشی ہے کہ ہماری دہلی یونیورسٹی کے دو نوجوان اسکالرس واساتذہ شالو اور جسیم الدین نے ایک نئی کتاب انگلش زبان میں لکھ پریم چند کے عرب میں مقبول ہونے کو بتانے کی کوشش کی ہے، اس کے لیے یہ دونوں قابل مبارکباد ہیں۔تقریب کے مہمان اعزازی پروفیسرنعیم الحسن اثری، صدرشعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی نے کتاب کی اشاعت پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستانی ادبا میں صرف پریم چند کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کے ادب سے عرب کے ادبا بھی متاثر ہوئے اور مشہور زمانہ ناول ’گئودان ‘ کاترجمہ عربی زبان میں کرکے عالم عرب میں پریم چند کے ادب کو متعارف کرایا، ہمیں خوشی ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ عربی وانگلش کے دو اسکالرس نے پریم چند کے امتیازی پہلو کو سامنے لانے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔میں امید کرتاہوں کہ آگے بھی اس طرح کا علمی کام جاری رہے گا۔تقریب دوسرے مہمان اعزازی مسٹر عبد الودو ساجد اڈیٹر انقلاب نے کہاکہ ڈاکٹر جسیم الدین اور محترمہ شالو اس نئی کتاب کو منظر عام پر لانے کے لیے قابل مبارکباد ہیں، انھوں نے بالکل نئے موضوع کا انتخاب کیا مجھے امید ہے کہ کتاب کہ مشمولات بھی اچھے ہوں گے، زندگی میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اسباب ووسائل کی کمی کے باوجود عزم وحوصلے سے آگے بڑھتے ہیں اور کچھ نیا کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں ۔ قبل ازیں غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے مہمانان کرام اور مصنفین کا استقبال کرتے ہوئے انھیں گلدستہ اور مومنٹو پیش کیا، انھوں نے غالب انسٹی ٹیوٹ کی ادبی سرگرمیوں کو بھی بیان کیا۔محترمہ شالو نے کتاب کے مشمولات کے بارے میں خطاب کیا، جب کہ ڈاکٹر جسیم الدین نے کلمات تشکر پیش کیے۔تقریب کی نظامت شعبۂ سنسکرت دہلی یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر مدھونے کی۔ اس موقع پر سامعین ومیڈیا اہلکار کی بڑی تعداد موجود تھی ، جن میں شاہ عالم اصلاحی نیوز اڈیٹر انقلاب، ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب، شمس تبریز ملت ٹائمز، مولانا فیروز اختر قاسمی، اے این شبلی، آزاد ہند ایکسپریس، عبد الاحد قاسمی، دھرمیندرگوتم، یوگیش جھا بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

Leave a Reply