مذہب تبدیل کرنے والے دلتوں کو درج فہرست ذات کا درجہ دینے کی جانچ کے لیے مرکز نے کمیشن تشکیل دیا

نئی دہلی: لائیو لاء کی خبر کے مطابق مرکز نے جمعرات کو ان لوگوں کو درج فہرست ذات کا درجہ دینے کے معاملے کی جانچ کرنے کے لیے ایک کمیشن مقرر کیا جو پہلے دلت تھے لیکن اب اپنا مذہب تبدیل کر کے ان مذاہب میں داخل ہوچکے ہیں جن کا آئین کی دفعہ 341 کے تحت صدارتی احکامات میں ذکر نہیں ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درج فہرست ذات کا درجہ صرف ہندو، سکھ اور بدھ مت کے لوگوں کے لیے دستیاب ہے۔

سابق چیف جسٹس آف انڈیا کے جی بالا کرشنن اس کمیشن کی سربراہی کریں گے جس میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے ریٹائرڈ افسر رویندر کمار جین اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی رکن پروفیسر سشما یادو بھی شامل ہیں۔

کمیشن اس بات کے مضمرات کا جائزہ لے گا کہ نئے افراد کو درج فہرست ذات کے زمرے میں شامل کرنے سے، پہلے سے موجود لوگوں پر کیا اثر پڑے گا۔

تین رکنی کمیشن ان تبدیلیوں کا بھی جائزہ لے گا جو دوسرے مذہب میں داخل ہونے پر درج فہرست ذات کے افراد کے رسم و رواج، روایات، سماجی اور دیگر حیثیت کے امتیازات میں ہوتی ہیں۔

سماجی انصاف اور بااختیار بنانے کی مرکزی وزارت نے جمعرات کو جاری کردہ اپنے نوٹیفکیشن میں کہا کہ یہ معاملہ ’’اہم اور تاریخی طور پر پیچیدہ سماجی اور آئینی مسئلہ‘‘ ہے جو اسے عوامی اہمیت کا معاملہ بناتا ہے۔

مرکز نے کہا ’’اس کی اہمیت، حساسیت اور ممکنہ اثرات کے پیش نظر، اس کی تعریف کے حوالے سے کسی بھی قسم کی تبدیلی ایک تفصیلی اور قطعی مطالعہ اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع مشاورت کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور کمیشن آف انکوائری ایکٹ، 1952 کے تحت کسی کمیشن نے اس معاملے میں انکوائری نہیں کی ہے۔‘‘

یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب سپریم کورٹ نے اگست میں ایک عرضی پر مرکز سے جواب طلب کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 1950 کے آئین (شیڈولڈ کاسٹ) آرڈر میں ترمیم کی گئی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ صرف ہندوؤں، بدھسٹوں اور سکھوں کو ہی درج فہرست ذات تصور کیا جائے گا۔

غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن نے یہ درخواست 2004 میں دائر کی تھی۔

این جی او کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل پرشانت بھوشن نے 2007 میں جاری ہونے والی جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ دوسرے مذاہب میں بھی دلتوں کے ساتھ وہی امتیاز برتا جاتا ہے جیسا کہ ہندو مذہب میں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اگرچہ عیسائیت اور اسلام ذات پات کے نظام یا اچھوت کو تسلیم نہیں کرتے ہیں، لیکن ہندوستان میں زمینی حقیقت مختلف ہے۔‘‘

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق2011 میں نیشنل کمیشن فار شیڈیولڈ کاسٹس نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ اس نے دلت عیسائیوں اور دلت مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی سفارش کی ہے، بشرطیکہ وہ دو شرائط کو پورا کریں، اگر وہ اپنی روایات اور رسم و رواج کو جاری رکھیں جیسا کہ انھوں نے تبدیلی مذہب سے پہلے رکھا تھا، اور اگر انھیں اچھوت ہونے کی وجہ سے سماجی تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *