شاہجہاں آباد محض شہر یا آبادی کا نام نہیں ، تہذیب و تمدن اور شاندار تاریخ کا نام ہے: شریف حسین قاسمی

 لال قلعہ صرف مغلوں کے لیے نہیں بلکہ ہندوستان کے لیے ایک امیج کے طور پر قائم ہے: ظہیر حسین جعفری

اردو اکادمی، دہلی کے زیر اہتمام توسیعی خطبہ بہ عنوان ’’شاہجہان آباد: گزشتہ اور حال‘‘ کا انعقاد

نئی دہلی:  اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے ’’دہلی کی تاریخ و ثقافت‘‘ کے عنوان سے دس خطبات پر مشتمل توسیعی خطبات کی ایک سیریز کا سلسلہ جاری ہے، جس میں مختلف ذرائع جیسے دہلی کے تاریخی واقعات اور دہلی کی تہذیب و ثقافت کو ظاہر کرنے والے خطبات پیش کیے جاتے ہیں۔ اسی سریز کے تحت 21؍اکتوبر کو چوتھا توسیعی خطبہ بہ عنوان’’ شاجہاں آباد:گزشتہ اور حال‘‘ کا اہتمام اردو اکادمی دہلی کے قمر رئیس سلور جوبلی آڈیٹوریم ، کشمیری گیٹ میں کیا گیا۔ جس میںاردو و فارسی ادب کے ممتاز اسکالر اور دہلوی تہذیب و تمدن کی نمائندہ شخصیت پروفیسر شریف حسین قاسمی نے توسیعی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ موضوع اپنے آپ میں بہت بڑا ہے ، اس مختصر وقت میں اس کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا ہے۔دراصل کئی جلدوں میں کتاب کا یہ موضوع ہے۔میں نے کوشش کی ہے کہ جو میری نگاہ میں دہلی کی اہم جگہیں ہیں، ان پر مختصراً گفتگو کروں۔ عالم میںانتخاب شاہجہاں آباد ہے، اس طویل عرصے میں کافی تبدیلیاں رو نما ہوئیں۔ صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی شاہجہاں آباد کی یادیں آج بھی باقی ہیں۔ شاہجہاں آباد محض ایک شہر یا آبادی کا نام نہیں ہے، یہ ایک تہذیب، ایک تمدن اور شاندار تاریخ کا نام ہے۔اگر یہ محض ایک شہر ہوتا تو قرون وسطی میں کئی بار اسے لوٹا گیا، برباد کیا گیا تو اس کے نتیجے میں اسے صفحۂ ہستی سے مٹ جانا چاہیے تھا۔پروفیسر قاسمی نے لال قلعہ اور دیگر عمارتوں کے تعلق سے سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اورنگزیب پچیس برسوں تک لڑتا رہا، اسے خطرہ لاحق تھا کہ کوئی دہلی پہ حملہ کرسکتا ہے۔اس خوف سے اس نے سوچا لال قلعہ کو محفوظ کیا جانا چاہیے۔تو اس نے لال قلعہ کے دونوں مرکزی دروازوں کے سامنے دو عمارتیں تعمیر کرا دیں۔ہمارے وزیر اعظم یوم آزادی پر جہاں سے تقریر کرتے ہیں ، وہ اورنگزیب کی عمارت پر کھڑے ہوکر تقریر کرتے ہیں۔وہ شاہ جہاں کی بنائی عمارت نہیں ہے۔جب شاہجہاں کو اس اوٹ کی تعمیر کا علم ہوا تو اس نے کہا میں نے قلعہ کے روپ میں دلہن بنائی تھی ، اورنگزیب نے اسے گھنگھٹ پہنا دیا۔لال قلعہ کی تعمیر کے دس برس بعد 1648میں شاہجہاں آباد کو باقائدہ بڑے پیمانے پر بسانے کا کام شروع ہوا۔ فصیل بند اس شہر کو نصف دائرے کی شکل میں بنایا گیا۔ اس فصیل میں چھوٹے بڑے 14دروازے اور 14کھڑکیاں تھیں۔یہ فصیل اب کہیں کہیں باقی ہے۔آپ آج بھی شاہجہاں آباد پر نظر ڈالیے تو احساس ہوگا کہ یہ شہر بنیادی طور پر مسجدوں، مندروں، گرجا گھروں اور گرو دواروں کا شہر ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ وقت کے ساتھ ساتھ نام تبدیل کیے جاتے ہیں اور آج تک یہ ہو رہا ہے، یہ کوئی عیب نہیں ہے۔انگریز آئے تو کئی بازاروں کے نام بدل دیے۔ دیکھئے مغلوں نے کبھی نام تبدیل نہیںکیا، بلکہ انہوں نے نئے شہر بسائے۔انہیں کوئی نام رکھنا ہوتا تھا تو نیا شہر بسا دیتے تھے، شاہجہاں آباد نیا شہر تھا اور یہاں ہر مذہب کے ماننے والے رہتے تھے۔ ہمایوں نیا شہر بنانا چاہتا تھا۔ اندر پرستھ وہ بدلا نہیں گیا وہ آج بھی موجود ہے۔ شاہجہاں آباد میں باغات کی بھرمار تھی۔مورخ نے دہلی میں 41باغات کا ذکر کیا ہے۔19ویں صدی ہمہ گیر زوال کا دور ہے، انگریز روپے دیتے تھے اور وہ کھاتے تھے، خود بہادر شاہ سامان بیچ کر زندگی گزار رہے تھے۔ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جن بازاروں میں جن چیزوں کی پہلے دکانیں تھیں، انہی چیزوں کی دکانیں آج بھی اس علاقے میں موجود ہیں۔

شعبۂ تاریخ، دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری  نے اپنے  صدارتی خطبے میں کہاکہ 19ویں صدی کی کتابوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ یہ چیزیں بھی دیکھنے کی ہیں کہ جو زوال کی داستان ہے ، اسے نظر انداز کیا گیا ہے۔ عروج کی داستان ہمیں معلوم ہے۔ جنرل ویلیم کے اور مڈسن کی کتابوں میں دہلی کی تباہی کی داستان بھی موجود ہے۔ لال قلعہ صرف مغلوں کے لیے نہیں بلکہ ہندوستان کے لیے ایک امیج کے طور پرابھی بھی قائم ہے۔لال قلعہ کو جو مرکزیت حاصل ہے، جو اہمیت حاصل ہے،وہ ہندوستانیوں کے مزاج میں ہے۔دہلی میں کتنی عمارتیں ہیں لیکن پرچم وہیں پھہرایا جاتا ہے۔ دراصل اسے مرکزیت حاصل ہے اور ذہنوں پر ایک طرح کی حکومت ہے۔

اردو اکادمی دہلی کے وائس چیئرمین حاجی تاج محمد نے کہاکہ دہلی کی تاریخ اور ثقافت کے حوالے سے سیریز کا سلسلہ جاری ہے ، میں ظہیر حسین جعفری اور شریف حسین قاسمی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے استقبال کرتا ہوں ۔ میں وزیر اعلی اروند کیجریوال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ ان کی کوششوں کے سبب ہی اردو اکادمی دہلی متحرک و فعال ہے۔ اردو اکادمی دہلی کے سکریٹری محمد احسن عابد نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہاکہ کچھ عرصے قبل یہ سلسلہ شروع ہوا، کیوں کہ دہلی کے پس منظر کے حوالے سے نئی نسل کو معلومات ہونی چاہئے اور یہ بات ہمارے لیے باعث اعزاز رہی ہے کہ دہلی کی اہم شخصیت شریف حسین قاسمی نے ہماری دعوت کو قبول کیا۔ میں اس موقع پر تمام مدعوئین کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ کو خوش آمدید کہنا چاہتا ہوں۔

اختتامی گفتگو کرتے ہوئے محمد احسن عابد نے کہاکہ قاسمی صاحب نے شاہجہاں آباد کے تعلق سے پرمغز اور سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ اردو اکادمی دہلی نے کیا کام کیا ہے، مستقبل میں اس کابھی احاطہ کیا جائے گا، جس میں خصوصاً یہاں کی اشاعت اور پروگرام پر توجہ دی جائے گی۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاہنواز ہاشمی نے انجام دیے۔

پروگرام میں اردو اکادمی کے ممبران اسرار قریشی اور نکہت پروین نے شرکت کی جب کہ شرکا میں ڈاکٹرریاض عمر،شعیب رضا فاطمی،ڈاکٹر عقیل احمد، ڈاکٹر جاوید حسن،فرید وارثی، خان رضوان، امیر حمزہ ، فرحان بیگ ، صغیر اختر،محمدساجد ، ابوسفیان وغیرہ  شامل تھے۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *