امت شاہ نے ہریانہ کے وزیر کو آٹھ منٹ کی تقریر کے دوران چار مرتبہ ٹوکا، کہا – ’یہ وہ جگہ نہیں جہاں لمبی تقریریں کی جائیں!‘

نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے ہریانہ کے وزیر داخلہ انل وج کی برسرعام سرزنش کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ این ڈی ٹی وی پر شائع رپورٹ کے مطابق امت شاہ نے مقررہ وقت سے زیادہ دیر تک تقریر کرنے پر انل وج کی سرزنش کی۔ یہ معاملہ ہریانہ کے سورج کنڈ میں منعقدہ چنتن شیویر میں پیش آیا، جہاں امت شاہ سمیت بی جے پی کے کئی سینئر لیڈر اور بی جے پی حکومت والی ریاستوں کے کئی وزرائے اعلیٰ موجود تھے۔

تقریب کے دوران امت شاہ نے ساڑھے 8 منٹ کی تقریر کے دوران وج کو 4 مرتبہ ٹوکا۔ خیال رہے کہ انل وج کو تقریر ختم کرنے کے لیے 5 منٹ کا وقت دیا گیا تھا لیکن وہ 8 منٹ بعد بھی نہیں رکے۔ شیڈول کے مطابق پہلے انل وج کو استقبالیہ پیش کرنا تھا، اس کے بعد ریاست کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کو اہم نکات پر بات کرنی تھی، ان دونوں لیڈروں کی تقریر کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ کو اپنی تقریر کرنی تھی۔

امید کی جا رہی تھی کہ وج اس پروگرام میں اپنی شرکت کے لیے امت شاہ سے اظہار تشکر کریں گے اور اپنی تقریر ختم کر دیں گے لیکن وج نے ہریانہ کی تاریخ، سبز انقلاب میں اس کی شراکت، اولمپکس میں ریاست کی کارکردگی اور ریاستی حکومت کی طرف سے بنائے گئے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے جیسے مسائل کے بارے میں بات کرنا شروع کی۔

امت شاہ انل وج سے کچھ فاصلے پر بیٹھے تھے۔ چنانچہ پہلے تو انہوں نے انہیں تقریر ختم کرنے کا اشارہ کیا لیکن جب وہ پھر بھی باز نہ آئے تو شاہ نے بالآخر ان کے پاس ایک نوٹ بھجوایا، جس میں تاکید کی گئی کہ وہ اپنی تقریر جلد ختم کریں لیکن جب اس کے بعد بھی وج نہیں رکے تو امت شاہ نے اپنا مائیک آن کیا اور ایک دو بار انگلی سے آواز پیدا کرتے ہوئے وِج کو تقریر ختم کرنے کا اشارہ کیا لیکن اس سب کے بعد بھی وج تقریر کرتے رہے۔

آخر کار امت شاہ نے کہا ”انل جی! آپ کو صرف 5 منٹ کا وقت دیا گیا تھا لیکن آپ اب تک ساڑھے 8 منٹ سے زیادہ بول چکے ہیں۔ اب جلدی سے اپنی بات ختم کریں۔ یہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں آپ کو اتنی لمبی تقریر کرنے کی ضرورت ہو۔”


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *