نئی دہلی – کاٹھمنڈو: (ملت ٹائمز) بھارت میں مسلمانوں کے خلاف سرگرم شدت پسند تنظیموں نے نیپال کا ماحول بھی خراب کرنا شروع کردیا ہے ، یہ دعوی نیپال کے مسلمانوں کا ہے ۔ تازہ معاملہ نیپال کے مہوتری ضلع کا ہے جہاں کچھ شدت پسند ہندوؤں نے شوبھا یاترا کے دوران مسلم اکثریتی محلوں اور مسجد کے پاس جاکر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے، اشتعال انگیز نعرہ لگایا ہے اور مسجد کے میناروں سے اسلامی جھنڈا اتار کر بھگوا جھنڈا لہر ا دیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک مسجد میں خنجر بھی ذبح کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔
ملت ٹائمز کو ملنے والی تفصیلات کے مطابق معاملہ گذشتہ 25/26 اکتوبر کا ہے جب شوبھا یاترا کے دوران مہوتری ضلع کے گنیشور تھانہ کے پراری گاؤں میں ہندو سمراٹ نیپال نام ایک تنظیم سے وابستہ کارکنان نے مسجد کے پاس جاکر اشتعال انگیز نعر ے لگائے ، مسجد میں خنزیر ذبح کردیا ، مسلمانوں نے جب اس پر اعتراض جتایا تو شدت پسندوں نے پولس کے سامنے فائرنگ بھی کردی ، ملت ٹائمز کو ملی جانکاری کے مطابق شدت پسندوں کی فائرنگ میں پانچ مسلمان شہری زخمی ہیں جن کا علاج جاری ہے ۔ دوسری طرف ہندو سمراٹ نیپال کے کارکنان کا الزام ہے کہ وہ چھت پوجا کی ایک ریلی نکال رہے تھے جس کو مسلمانوں نے روک دیاتب ماحول خراب ہوا ، مسلمانوں نے اس طرح کے سبھی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا ہے ۔
ملت ٹائمز سے بات کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے بتایاکہ نیپال میں ہندو مسلمان جیسے احساسات نہیں پائے جاتے ہیں لیکن بھارت کی بجرنگ دل جیسی تنظیم یہاں کے کچھ نوجوانوں کو اکساکر ماحول خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے ، مقامی باشندوں نے بھارت کے شدرن نیوز چینل پر بھی الزام عائد کیا کہ اور کہاکہ اس چینل پر نیپال کے مسلمانوں کے تعلق سے لگاتار جھوٹی اور فرضی خبریں شائع کی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہاں کا ماحول خراب ہورہاہے ۔ نیپال میں فرقہ وارانہ تشدد اور اسلاموفوبیا کے فروغ کیلئے مکمل طور پر سدرشن نیوز چینل ذمہ دار ہے ۔






