فضل المبین ڈھاکہ
ہماری آزادی کو 75 سال ہوگئے۔ آزادی کا امرت مہوتسو اور جشن منانے کا ہمیں موقع ملا، اس بات پر ہم جتنا خوشی کا اظہار کریں وہ کم ہے۔ سارے ہندوستانی ایک دوسرے کو دلی مبارکباد دیں کیوں کہ آزادی کی لڑائی سب نے مل کر لڑی اور انگریزوں کے سامراج کو ختم کرنے کے لیے نہ جانے کتنے ہندوستانیوں نے اپنے خون سے اس کہانی کو سرخی عطا کی ۔
سیکڑوں ہزاروں علماء کرام نے اپنے جان کا نذرانہ پیش کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ سب بھلا دئیے گئے تاریخ مٹا دی گئی اگر تاریخ آزادی میں کسی عالم مسلم رہنما کا نام لیا جاتا ہے تو وہ صرف واحد شخص ہیں مولنا ابو الکلام آزاد دیگر ہزاروں ، لاکھوں علماء کرام کو فراموش کر دیا گیا، لیکن شکر ہے کہ مولانا آزاد کو آج کی حکومت یاد رکھے ہوئی ہے اور آج انہیں کے یوم پیدائش پر یوم تعلیم منایا جاتا ہے ۔
دنیا میں بہت کم ایسی شخصیتیں ہوتی ہیں جو بیک وقت صحافی بھی ہوں، سیاست داں بھی ہوں، مفکر بھی ہوں مدبر بھی ہوں، مفسربھی ہوں،امامت کبری کے اہل بھی ہوں، سیادت و قیادت کے اعلی مقام پر بھی فائز ہوں لیکن مولانا محی الدین ابولکلام آزاد ایسی شخصیت تھی جن میں یہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں بیک وقت وہ صحافی بھی تھے، قرآن کے مفسربھی تھے، اچھے مقرر بھی تھے، بلند قامت کے سیاست داں بھی تھے ۔ ان میں مومن کی تمام خوبیاں اور اوصاف موجود تھیں وہ مسلمانوں کی زوال پذیر سوچ سے کافی فکرمند بھی تھے۔ وہ علماء سے سیاست و قیادت کی توقع رکھتے تھے جو مدرسہ اور مسجد تک محدود ہوکرگئے تھے وہ علامہ اقبال کی طرح مدارس سے شاہین کے پیدا ہونے کے متمنی تھے۔ آزادی ہندوستان کے زبردست متوالے تھے ۔
آج افسوس کہ ہم ہماری نئی نسلیں مولانا آزاد کو بھی فراموش کرنے لگی مولانا آزاد کے ہم کارناموں کو بھول گئے ، انہوں نے وزیر تعلیم رہتے ہوئے جو کارہائے نمایاں انجام دیا تھا وہ سب کے سب بھلا دیئے گئے حتی کہ: موجودہ حکومت ، اب کے لیڈران صرف سوشل میڈیا پر ہی مولانا آزاد کو یاد کرتے نظر آتے ہیں ۔
ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ مولانا آزاد کی قربانیوں کو ، جامع مسجد کی سیڑھیوں سے کی گئی ان تقریر ، بطور صحافی ان کے ذریعے لکھی گئی تحریر ، جنگ آزادی کے لیے ان کے ذریعے کی گئی تشہیر کو بھلانا بہت آسان بھی نہیں ہے ، یا یوں کہئے : ہندوستان میں جب تک محب اردو رہیں گے تب تک مولانا آزاد بھی یاد کیے جاتے رہیں گے ، خاص کر جب ہمارے بیچ کا صحافی اردو کا سچا ہمدرد مولانا آزاد کی فکر و نظریات كا حامل جب کسی اونچائیوں کو پہنچتا ہے ہندوستان کے کسی ایوان میں بھی جاتا ہے تو اسے اپنی زبان اپنے رہنماؤں کی فکر ہوتی ہے ۔
جی ہاں یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے : بہار کے رکن قانون ساز کونسل روزنامہ ہمارا سماج کے مدیر جناب ڈاکٹر خالد انور صاحب پر جنہوں نے مولانا آزاد کی فکریات و نظریات ، ان کی بیش بہا قربانیوں کو نئی نسل تک پہنچانے کا ایک عہد کرتے ہوئے مولانا آزاد کی یوم پیدائش کے موقع پر ان کے نام ایک شام سجانے کا فیصلہ لیا ہے تاکہ نئی نسل مولانا آزاد سے واقف ہوں ان کی خوبیوں ان کے کارناموں جانیں ۔
جناب ڈاکٹر خالد انور نے مشرقی چمپارن کے ڈھاکہ میں مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش کے موقع پر یعنی 11 نومبر 2022 کو یوم تعلیم کے موقع پر آل انڈیا مشاعرہ و کوی سمیلن کا انعقاد کیا ہے تاکہ اردو زبان کے فروغ ہو اور اسکی تشہیر ہو ۔
آج جہاں ایک طرف مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے عبادت گاہوں تاریخی عمارتوں کو مسمار کیا جا رہا ہے ، مسلمانوں کے قائدین ، رہنماؤں کو بھلایا جا رہا ہے اُسی طرح آج اردو زبان کو بھی ختم کرنے کی ناپاک سازش و کوشش ہو رہی ہے ، اب ایسے میں ایک سیاستدان جو اردو کا سچا محافظ ہے اردو کی شمع کو روز کی کرنوں کی طرح روشن کر رہا ہے اور پھر اسے نئی نسلوں تک پہنچانے کے لیے اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے مشاعرہ کا انعقاد کرہا ہے کیونکہ موجودہ دور میں اب صرف مشاعرہ ہی ایسی تقریب رہ گئی ہے جس میں ہند مسلمان یکجا ہو کر ایک دوسرے کے سماجی اور تہذیبی اثرات قبول کرتے ہیں ۔ اس لیے جہاں تک ہندستانی قومیت کے مفاد کا تعلق ہے اور جہاں تک اردو کے بین الاقوامی مزاج کی بحالی کا سوال ، یہ مشاعرے بلا شبہ ایک عظیم قومی اور لسانی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
ہم قارئین سے اس پروگرام کی کامیابی کے لئے دعا کی اپیل کرتے ہیں ساتھ ہی قرب و جوار لوگوں سے بڑی تعداد میں شرکت کی بھی گزارش کرتے ہیں۔

Leave a Reply