یک سالہ ڈپلوما کورس کا پہلا سمسٹر دوسال میں، ایم اے کا سیشن بھی التوا کا شکار
حیدرآباد-پٹنہ-دہلی: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی فاصلاتی نظام تعلیم کے ذریعہ مختلف کورسزکراتی ہے۔جہاں مختلف زبان اورمضامین میں ایم اے کرایاجاتاہے وہیں ڈپلوماکے یک سالہ کورسزبھی جاری ہیں۔طلبہ یہ کورسزاپنے کیریئرکے لیے کرتے ہیں،لیکن مولاناآزادیونیورسیٹی کے فاصلاتی نظام تعلیم کی صورت حال اتنی بدترہے کہ ایک سالہ ڈپلوماکورس جسے ایک سال میں مکمل ہوجاناچاہیے،کاابھی تک صرف فرسٹ سمسٹرکاامتحان ہوسکاہے۔فاصلاتی نظام تعلیم کے ایک طالب علم انورشعیب نے بتایاکہ2020کے سیشن کے ڈپلوماان ماس کمیونی کیشن کاابھی صرف فرسٹ سمسٹرکاامتحان ہوسکاہے،جسے2021میں مکمل ہوجاناچاہیے تھا،لگتاہے کہ2023تک یہ سیشن چلے گاجوشرمناک ہے۔یہی نہیں،اب تک اس کے سکینڈسمسٹرکی تمام کتابیں بھی طلبہ کومہیانہیں کرائی جاسکی ہیں،نیومیڈیاکے نام سے ایک سبجیکٹ کی کتاب طلبہ کوابھی تک دستیاب نہیں کرائی گئی،پھرسکینڈسمسٹرکے لیے نہ تواسائمنٹ دیے گئے ہیں اورنہ پروجیکٹ ورک دیاگیاہے۔یعنی ایک سالہ ڈپلومامکمل کرنے کے لیے یونیورسیٹی تین سال کاوقت لگائے گی؟۔یہ طلبہ کے کیریئرکے ساتھ انتہائی شرمناک کھلواڑہے۔یہی نہیں،2019کے ایم اے سیشن کابھی یہی حال ہے،دوسالہ ایم اے کورس کافائنل نتیجہ2022میں بھی نہیں آسکاہے۔
یونیورسیٹی کورونااورلاک ڈاﺅن کاضروربہانہ کرے گی،لیکن سبھی جانتے ہیں کہ جولائی ،اگست2021سے ساری تعلیمی سرگرمیاں تمام یونیورسٹیوں میں شروع ہوگئی تھیں،جہاں آف لائن امتحان مشکل تھاوہاں آن لائن امتحان کانظم کیاگیا،لیکن اس وقت بھی مولاناآزادنیشنل اردویونیورسٹی سوئی رہی،یونیورسٹی اگرچاہتی تووقفہ وقفہ سے آف لائن یاآن لائن امتحان کراکر2021میں ہی سیشن مکمل کراسکتی تھی،لیکن ابھی تک فاصلاتی مرکزکے ذمہ داروں کی طرف سے مجرمانہ غفلت بر تی جارہی ہے،جس کی واضح مثال پہلے پیراگراف میں دی گئی۔ایک اور طالبہ فوزیہ جہاں نے سوال کیاہے کہ یہ لاپرواہی مولاناآزادکے نام کی بدنامی ہے یاخراج عقیدت؟،ابھی زوروشورسے مولاناآزادکایوم پیدائش منایاگیا،لیکن ان کے نام سے منسوب یونیورسٹی طلبہ کے ساتھ اورتعلیم کے ساتھ کھلواڑکررہی ہے ۔ایک اورطالب علم انس عالم نے سوال اٹھایاہے کہ جب یونیورسیٹی طلبہ کے کیریئرکے ساتھ اس طرح کھلواڑکرے گی توطلبہ مانوکے فاصلاتی نظام تعلیم سے کیسے فائدہ اٹھاسکتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ اب طلبہ مولاناآزادیونیورسٹی سے بدظن ہوگئے ہیں،اورامتحانات میں ان کی کم حاضری اسی کانتیجہ ہے۔کیوں کوئی دوسال کاکورس چارسال میں اورایک سال کاڈپلوماتین سال میں کرے گا؟طلبہ وطالبات نے چانسلراوروائس چانسلرسے سخت اقدام اٹھانے اورفاصلاتی مرکزکے ذمہ داروں کی جواب دہی طے کرنے اورخاطرخواہ کارروائی کی اپیل کی ہے تاکہ آئندہ طلبہ کاکیریئرذمہ داروں کی غفلت کی نذرنہ ہوجائے۔مولاناآزادیونیورسیٹی کے فاصلاتی مرکزپراعتمادکمزورہوگیاہے،وی سی محترم کوچاہیے کہ اس کاوقاربحال کریں اورجلدازجلدتمام سیشن کووقت پرمکمل کرنے کی سخت ہدایت دیں بصورت دیگرفاصلاتی مرکزکے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔اردوکے ہمدردوں اوراردوشخصیات کوبھی اس لاپرواہی اورکھلواڑکے خلاف آوازاٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ اردواداروں کی غفلت سے عاجزہوکراردوکوکیریئربنانے سے گریزکرنے پرمجبورنہ ہوں۔

Leave a Reply