اردو کو تحلیل کرکے ایکتا کی بات کرنا نامناسب: ڈاکٹر جانکی پرساد شرما

خسرو فاﺅنڈیشن اورآئی آئی سی سی کے اشتراک سے ’اردو ہندی کے تخلیقی رشتے‘ کے عنوان سے سمینار

  نئی دہلی: (نمائندہ) خسروفاﺅنڈیشن اورانڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے اشتراک سے ’اردو ہندی کے تخلیقی رشتے‘ کے عنوان سے ایک سمینار کا انعقاد کیا گیا ، جس میںمہمان خصوصی کے طور پر شریک معروف ادیب و مصنف ڈاکٹر جا نکی پرساد شرما نے اپنی گفتگو میںکہاکہ یہ سوچنا ضروری ہے کہ اردو ہندی کے رشتے کیوںہمیں ثابت کر نے پڑرہے ہیں،یہ ضرورت ہی کیوں پیش آئی ،جویہ چیز ثابت کر نی پڑرہی ہے ،لہذا یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میںایسے ماحول میںتعلیم حاصل کی جس میں قطعی تفریق کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے مدرسے میں ٹوپی اوڑھ کر نعتِ شریف پڑھنے کی خاطر مجھے اردو سیکھنے کاذوق و شوق پیدا ہوا۔ مجھے فخر حاصل ہے کہ میری ذہنی تربیت اچھے استادوں کی نگرانی میں ہوئی۔ اردو ہندی ایکتا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں ان دونوں زبانوں کی ایکتا کا حامی ہوں لیکن اس بات کا بالکل بھی حامی نہیں کہ آپ اردو کو تحلیل کرکے ایکتا کی بات کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے بہت ساری چیزیں ضروری ہیں اسی طرح میں مانتا ہوں کہ اردو رسم الخط اور اردو ادب بھی جمہوریت کے تحفظ کیلئے لازمی ہیں۔انہوںنے تلسی داس جی کی تحریر کردہ مقدس کتاب رام چرتر مانس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عربی و فارسی کے بہت سارے الفاظ بہت خوبصورت انداز میں پیش کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک ادب میں اردو ہندی کے رشتے ہیں لیکن اردو داں سے غافل ہیں۔ اردو ادب کے لوگوں کو بھی لوک ادب پر توجہ دینی چاہیے کیوں کہ اردو ہندی کا ادب لوک مشترکہ ہے۔ قبل ازیں سیمینار کے روح رواں خسرو فاو¿نڈیشن کے چیئرمین پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے سبھی مہمانان کا استقبال کیا اور اپنی گفتگو میں کہا کہ اردو ہندی کی پیدائش خانقاہ میں ہوئی اور حضرت امیر خسرو کے ذریعے یہ پروان چڑھی۔ پروفیسر واسع نے مزید کہا کہ زبانوں کو مذہب کے ساتھ نہ جوڑا جائے کیوں کہ زبانیں سمواد کا ذریعہ ہوتی ہیں وِواد کا ذریعہ نہیںاور اردو ہندی ہندوستانی زبانیں ہیں۔

 صدارتی خطبے میں دہلی اردو اکیڈمی سابق وائس چیئرمین پروفیسر خالد محمود نے جانکی پرساد جی کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ موصوف اردو ہندی خدمت کےلئے ہمہ وقت کوشاںرہتے ہیں، ان کی ابتدا اردو ماحول میں ہوئی لیکن آج ہندی، سنسکرت اور دیگر زبانوںمیں ان کو مہارت حاصل ہے۔ آخر میں خسرو فاو¿نڈیشن کے ڈائریکٹر اور سینٹر کے چیئرمین سراج الدین قریشی نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جب کہ تقریب کو کامیاب بنانے میں فاو¿نڈیشن کے ڈائریکٹر روہت کھیڑا،پروفیسر تسنیم فاطمہ، ڈاکٹر سید اقبال، حاجی محمد شمیم احمد، مسٹر ابراہیمی و دیگر نے اہم کردار ادا کیا۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *