ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
ٓازادی کے بعد سے اب تک ملک کی سیاست کئی مراحل سے گذری ہے۔ ابتدائی سیاسی منظرنامے پر کانگریس کے سوا کوئی دوسری قابل ذکر سیاسی قوت موجود نہیں تھی ،کمیونسٹ گروپ یا جن سنگھ ہی ہوا کرتے تھے ،جن کو عموما عوامی ووٹ کی تائید حاصل نہیں ہوتی تھی ۔چنانچہ مسلمانوں، دلتوں اور اونچی ذات کے ہندوؤں کا ووٹ بڑی تعداد میں کانگریس کو ہی ملتا تھا۔کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کےابھرنے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ 1975 میں پہلی بار کانگریس کو اس وقت سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جب بہار کے معروف عوامی رہنما جے پرکاش نارائن نے کانگریس کی مطلق العنان حکومت میں جاری بدعنوانی ،بے روزگاری اور اقتصادی مورچوں پر حکومت کی من مانی کے خلاف ایک زبردست عوامی تحریک کا آغاز کیا ۔تقریبا ایک کروڑ لوگوں کے ساتھ دلی کوچ کر کے حالیہ زمانے میں جین زی کی طرز پر اندرا گاندھی کی حکومت کو بے دخل کرنے کی کوشش کی۔اندرا گاندھی نے اس سے ایک روز پہلے ہی ملک میں پہلی بار داخلی ایمرجنسی نافذ کر کے ملک کے تمام سیاسی و سماجی لیڈران کو راتوں رات جیل رسید کر کے اس تحریک کو توڑ دیا ۔مگر پھر یہ تحریک سڑکوں سے نکل کر جیلوں میں پنپنے لگی۔1977میں ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد ہونے والے انتخابات میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کے اتحاد نےجنتاپارٹی کے نام سے اپنی علیحدہ علیحدہ سیاسی شناخت قائم رکھتے ہوئے متحدہ طور پر انتخاب لڑا اور کانگریس کو آزاد بھارت کی تاریخ میں پہلی بار شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔یہاں ملک کی سیاست کے پہلے دور کا خاتمہ اور دوسرے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جہاں پہلی بار کانگریس کو شکست فاش ہوئی وہیں آر ایس ایس کے سیاسی شعبے بھارتیہ جن سنگھ کو بھی پہلی بار اقتدار میں شریک ہونے کا موقع ملا ۔گویا جے پرکاش کی تحریک نے آر ایس ایس کو عوامی سطح پر قابل قبول بننے میں بڑی مدد کی۔ جنتاپارٹی سرکار چونکہ اقلیتی سرکار تھی اور الگ الگ سیاسی نظریات کے لوگ اس حکومت میں شریک تھے اس لیے اس حکومت کا استحکام ہمیشہ ہی مشکوک رہا ، بالآخر 28ماہ کے اندر حکومت گرا دی گئی، دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کو کمزور کر کے گرانے میں سب سے بڑا ہاتھ خود آر ایس ایس بالفاظ دیگر جن سنگھ کا ہی تھا کہ جس نے دوہری رکنیت کی متنازع سوال پر خود کو جنتا پارٹی سے الگ کر کے حکومت گرا دی تھی۔ نتیجے میں سال بھربعد ہی بھارتیہ جن سنگھ کو درکنار کر بھارتیہ جنتا پارٹی وجود میں آئی۔ اس مرحلے میں بھارتیہ جنتاپارٹی ملک کے سیاسی منظر نامے پر ایک قابل لحاظ قوت کے ساتھ سامنے آئی ۔ہر چند کے وہ اس وقت انتخاب میں کامیاب نہیں ہو سکی ۔ ۱۹۸۰ میں کانگریس ایک بار پھر اقتدار میں آگئی لیکن اب قومی سطح پر اس کے کئی متوقع اور مضبوط متبادل بھی سامنے ا ٓچکے تھے ۔اس دوران لوک سبھا میں مسلم نمائندگی میں دھیرے دھیرے کچھ اضافہ ہوتا رہا جہاں 1952 میں 11 مسلم لوک سبھا ممبران تھے وہیں 1980 کے انتخابات میں یہ تعداد بڑھ کر 49 ہو چکی تھی یہ سبھی مسلمان عموما کانگریس کے ٹکٹ پر ہی کامیاب ہوتے تھے اس ابتدائی زمانے میں قد ٓاور مسلم رہنما بھی لوک سبھا تک پہنچ جاتے تھے ۔مسلم لیگ کے بھی دو تین ارکان رہا کرتے تھے ،لیکن آبادی کے تناسب سے یہ تعداد عموما چار سے چھ فیصد ہی رہتی تھی صرف 1977 اور 1980 میں بالترتیب آٹھ اور نو فیصد رہی،جبکہ مسلم آبادی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق 10 فیصد سے کم کبھی نہیں رہی۔ واضح رہے کہ اس زمانے تک آر ایس ایس کی سیاسی جماعت کو عوامی رسائی حاصل نہیں ہوئی تھی ۔دریں اثنا ڈھائی سال کے عرصے کے سوا بلا شرکت غیرے کانگریس ہی اقتدار میں رہی۔
ملک کی سیاست کا تیسرا مرحلہ 1980 سے شروع ہوتا ہے اس دوران کانگریس ایک بار پھر پوری طاقت کے ساتھ اقتدار میں تو رہی لیکن جنتا پارٹی کے ٹوٹنے کی وجہ سے اور بھارتی جنتا پارٹی کے منظر نامے پہ آ جانے کے بعد کانگریس کوریاستی سطح پر بہت سے سیاسی حریفوں سے مقابلہ کرنا پڑا ،ان میں سب سے مضبوط حریف قومی سطح پر جنتا دل ثابت ہوا ،جس نے ایک بار پھر کانگریس کو اقتدارسے بے دخل کر دیا ۔لیکن ملک کو سیاسی عدم استحکام کے غار میں بھی دھکیل دیا ۔جنتا دل کے وشو ناتھ پرتاپ سنگھ محض 11 مہینے ہی وزیراعظم رہ سکے اور وہ بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی 85 سیٹوں کے دم پر، اس طرح جے پی کے بعد وی پی جیسا دوسرا سیکولر سیاسی لیڈر آر ایس ایس کو عوامی رسائی سے آگے بڑھا کر حکمرانی کے اہم ترین منصب تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوا ۔ 1989 کے بعد سے لوک سبھا اور صوبائی اسمبلیوں میں ایک جانب مسلمانوں کی نمائندگی تیزی سے کم ہونی شروع ہوئی وہیں دوسری جانب بی جے پی اقتدار پر اپنا تسلط قومی سطح سے ریاستی سطح تک مضبوط کرتی چلی گئی ۔یہی وہ زمانہ ہے جب ملک کی بیشتر ریاستوں میں خود کو سیکولر کہنے والی جماعتوں نے بھی بی جے پی سے بھرپور استفادہ کیا۔ 1990 میں بہار میں لالو پرساد یادو کی پہلی حکومت بی جے پی کی باہری حمایت سے ہی قائم ہوئی تھی۔ اس کے بعد ملک میں ممتا بنرجی ،جی للتا ، مایاوتی ،چندرا بابو نائڈو، ایم کرونا ندھی ، بیجو پٹنائک ،جارج فرنانڈیزاور نتیش کمار جیسے قدآور سیاستدان وہ مثالیں ہیں جن کے اقتدار کی بنیاد میں آر ایس ایس شامل رہا ۔کچھ تو آج بھی ساتھ ہیں ،حالانکہ ابتدا میں بی جے پی نے خود کہیں بھی حکومت سازی کی کوشش نہیں کی لیکن انہی لیڈران کی تائیدکر کے ہر ریاست میں اپنی قوت میں اضافہ کیا ۔اتر پردیش میں ملائم سنگھ یادو بھی مختلف مواقع پر بی جے پی سیاست کے معترف رہے ہیں۔ تقریبا یہی صورتحال بعد میں شمال مشرقی ریاستوں میں بھی پیش آئی ۔یاد رہے کہ اس عرصے میں مسلم سیاسی جماعتوں میں مسلم لیگ کے علاوہ محض ایک سیٹ پر 1984 کے بعد مسلم مجلس اتحاد المسلمین نظر آتی ہے گویا کوئی مبینہ ’’ووٹ کٹوا ‘‘ مسلم سیاسی جماعت بھی موجود نہیں تھی ،جبکہ یہی وہ زمانہ ہے کہ جب ۱۹۸۹ کےبعد سیاسی عدم استحکام کے دوران بی جے پی نے پالن پور تجویز پاس کر کے بابری مسجد کے قضیے کو اپنے ایجنڈا میں شریک کیا اور رتھ یاترا کے ذریعے عوامی تحریک کا آغاز کیا ۔بابری مسجد شہادت کے بعد لبراہن کمیشن کے روبرو پیش ہوتے ہوئے اس وقت بی جے پی کے صدر لال کرشن ایڈوانی نے اعتراف کیا تھا کہ’’ بی جے پی کے پاس اقتدار تک پہنچنے کے لیے کوئی مستقل ووٹ بینک نہیں تھا اس لیے ان کے لئےہندوتوا کی سیاست گرم کر کے ہندوووٹ کو متحد کرنا ضروری تھا ‘‘۔جہاں ایک طرف بی جے پی مذہبی منافرت پر مبنی سیاست کو لے کر آگے بڑھی وہیں دوسری جانب سیکولر سیاسی جماعتیں محض ذاتی حصول اقتدار کی خاطر تقسیم درتقسیم کا شکار تھیں ۔ہندو بیکلیش کے بہانے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ نہیں دے رہی تھیں، نتیجے میں ملک کے اقتدار میں مسلمانوں کی نمائندگی بھی کم ہو رہی تھی نیزسماجی طور پر بھی مسلمان بتدریج حاشے کی طرف دھکیلے جا رہے تھے ،جس کا لازمی اثر ان کی اقتصادی اور تعلیمی حیثیت پر بھی پڑ رہا تھا۔اسی مرحلے میں دو سال کے وقفے کے بعد 1991 میں ایک بار پھر کانگریس کو حکومت سازی کا موقع تو ملا مگر یہ پہلا موقع تھا جب کانگریس کو اقتدار میں رہنے کے لیے واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی اور پھر آج تک حاصل نہیں ہوئی۔ 1992 میں نرسمہاراؤ کی حکومت کے دوران بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہونے والے 1996 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو پہلی بار اپنا وزیراعظم بنانے کا موقع ملا ۔پہلے 13 دن ،پھر تیرا مہینے کی سرکار اور پھر اٹل بہاری باجپئی کے ذریعے قائم شدہ این ڈی اے کی ایک مضبوط سرکار ۔اس سرکار نے ہرچندکہ بہت اعتدال سے کام لیا اور اپنے دیرینہ ایجنڈے کو پس پشت ڈال دیا ،مگر عوامی و سماجی سطح پر آر ایس ایس کو قبول عام عطا کرنے میں بہت مدد کی ۔ملک کے سامنے بی جے پی کو ہی ایک مضبوط قومی متبادل کے طور پر پیش کر دیا ۔ 2004 تا ۲۰۱۴کانگریس کی اقلیتی سرکاریں نہ صرف اس سیاسی تبدیلی کا کوئی موثر مقابلہ نہیں کر سکیں بلکہ اے کے انٹونی جیسے اہم کانگریسی رہنمانے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر پارٹی کو مسلمانوں سے کنارہ کشی کا مشورہ بھی دیا ۔ پھر دیگرسیکولر سیاسی جماعتوں نے بھی مسلمانوں کا دامن جھٹک دیا اور ملک میں مذہبی شناخت پر مبنی سیاست اپنے عروج کو پہنچ گئی۔
ملک کی سیاست کا چوتھا مرحلہ 2014 سے شروع ہوتا ہے کہ جب آر ایس ایس کا نظریہ ملک میں پہلی بارواضح اکژیت کے ساتھ اقتدار پر فائزہو گیا ۔وشو ہندو پریشدکے اس وقت کے صدر اشوک سنگھل نے واضح طور پر اعلان کیا کہ’’ ملک میں 800 سو سال بعد ہندوؤں کی سرکار آئی ہے ‘‘اس بیان پر ملک کی سیکولر یا مذہبی جماعتوں نے کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا ۔گزشتہ 11 سال سے یہ نظریہ ملک کا حاکم ہے اور پنے قول و فعل کے ساتھ شدت سے اسے نافذ کر رہا ہے۔
ملک کا سیاسی منظر نامہ ابھی اسی چوتھے دور سے گزر رہا ہے ۔پانچویں دور کا کافی عرصہ انتظار کرنا پڑ سکتا ہے بھلے ہی مرکز میں سرکار بدل کیوں نہ جائے ۔اس دوران صرف لوک سبھا اور اسمبلیوں میں مسلمانوں کی نمائندگی ہی کم نہیں ہوئی بلکہ بابصیرت مسلم سیاسی اذہان کی شمولیت بھی تقریبا صفر ہو گئی ہے ۔سیکولر سیاسی جماعتوں سمیت کسی بھی پارٹی میں سیاسی بصیرت رکھنے والے مسلمانوں کے لیے اب کوئی جگہ باقی نہیں بچی ہے۔ سیاسی جماعتیں دانستہ طور پر مسلم سیاسی اذہان کو نظر انداز کرتی ہیں ۔ان کے نزدیک مسلمانوں کی نمائندگی (قیادت نہیں) کے لیے مقامی طور پر طاقت رکھنے والے مسلمان ہی کافی ہیں۔ پھر وہ طاقت خاندانی وراثت کی ہو ، دولت کے ذریعے حاصل کی گئی ہو یا بازووں کے ذریعے ،یا پھر کسی فلم ،کھیل یا مشاعرے کے دوران بہت زیادہ نام و نمود کے ذریعے ملی ہو ۔ممبر پارلیمنٹ ہوں یا ممبر اسمبلی یا ممبرکارپوریشن ہر جگہ یہی صورتحال نظر آتی ہے ۔حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ملک میں سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے مسلمان یکسر ختم ہی ہو گئے ہوں۔ چنانچہ اپنے گرد و پیش میں مسلم نمائندگی کا جائزہ لیں تو ان میں سے اکثر وہ حضرات ہیں جن کو ملک و ملت کے معاملات کا نہ تو کوئی علم ہے اور نہ ہی کوئی احساس ۔ ایک یا دو سیاسی شخصیات اگرنظر ٓاتی بھی ہیں تو ان کا حشر بھی سامنے ہے ۔ایسے میں ان سیاسی جماعتوں سے مسلمانوں کو کم ٹکٹ دینے کا شکوہ بھی عبث نظر آتا ہے۔
یہ امرحیرت انگیز ہے کہ سیکولرسیاسی جماعتیں اور ان میں شامل مسلم نمائندےمسلمانوں کو یہ مشورہ بلکہ حکم دیتے ہیں کہ بی جے پی کو شکست دینا مسلمانوں کا ہی فرض عین ہے۔ مسلمان بھی پچھلے 45 سال سے اپنا یہ فرض منصبی پوری تندہی کے ساتھ ادا کر رہے ہیں ۔اس کے لیے اپنی تعمیر و ترقی کی ہر راہ کومسدودکرنے پر بھی کوئی اظہار تاسف نہیں کرتے، لیکن یہی مسلمان نمائندے سیکولر جماعتوں سے نہیں پوچھ سکتے کہ ہماری تمام تر کوشش کے باوجود بی جے پی کو اتنی طاقت کیسےحاصل ہو ئی ۔یہ سوال نہیں پوچھا جاتا کہ بتدریج بی جے پی کے اقتدار کو تقویت عطاکرنے میں سیکولر سیاسی جماعتوں کا کیا رول رہا ہے۔ ملک میں موجودہ مذہبی بنیادوں پر جاری سیاست کو مہمیز عطا کرنے میں سیاست دانوں ،صحافیوں،سماجی کارکنوں صنعت کاروں واعلی افسروں اور دیگر غیر مسلم مذہبی رہنماؤں نے کیا کیا مدد کی ہے، یا پھر اسے روکنے کے لیے انہوں نے کیا اقدامات کیے ہیں ؟ خود مسلمانوں کے غیر سیاسی ارباب حل و عقد بھی اس جانب کوئی توجہ ابھی تک نہیں دے رہے ،وہ بھی’’ فسطایئت کو شکشت دو‘‘ کے نعرہ کی ہی گردان کرتے نظر آتےہیں۔دنیا کی اتنی بڑی اور مضبوط جمہوریت میں یہ سیاسی طریقہ کار کس حد تک مفید ہو سکتا ہے اس کا تجربہ ملک اور ملت دونوں ہی کر چکے ہیں ۔لیکن پھر بھی اپنی روش بدلنے کو تا حال کوئی آمادہ نظر نہیں آتا ۔
ملک میں سیاست کا پانچواں مرحلہ اس وقت تک ممکن نظر نہیں آتاکہ جب تک ملک میں نئی سیاسی صف بندی نہیں ہوتی۔ مروجہ سیاسی جماعتیں اور رہنما جو علاقائی ،خاندانی یا برادری واد کی سیاست کے ذریعے بی جے پی کو تقویت دے رہی ہیں ،ان کو سامنے سے ہٹنا ہوگا ۔سیکولر جمہوری نظام کے مدنظر ایمانداری اور ساجھے داری کی بنیاد پر ایک نئے سیاسی ڈھانچے کی تشکیل کے بغیر یہ مملن نہیں لگتا۔






