معین الدین ، سیتا مڑھی
ہم دہائیوں سے ایک ایسی سیاسی بساط پر مہرے بنے ہوئے ہیں جس کے قواعد ہم نے طے نہیں کیے۔ فرقہ پرست سیاست کو روکنے کے نام پر ہم نے سیکولر کہلانے والی پارٹیوں کے لیے اپنا ووٹ، اپنا یقین، اپنا اعتماد سب کچھ قربان کر دیا۔ مگر بدلے میں ہمیں ملا کیا؟ کچھ وعدے، چند دلاسے، اور ایک طویل سیاسی دھوکہ۔
لالو یادو کا دیا ہوا نعرہ “MY اتحاد” — یعنی مسلم یادو اتحاد — بظاہر ایک طاقتور سیاسی مساوات معلوم ہوتی تھی، مگر درحقیقت یہ یادوں کی بالادستی اور مسلمانوں کی تابع داری کا ایک فارمولا تھا۔ آج جب وہی یادو طبقہ کھلے عام کہتا ہے کہ “ہم مسلم امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے چاہے وہ تجسوی یا اس کے اتحادی سے ہی کیوں نہ ہو”، تو حقیقت پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس اتحاد میں “M” صرف نام کا تھا، طاقت ہمیشہ “Y” کے ہاتھ میں رہی۔ یہ کیسا اتحاد تھا جس میں ایک طبقہ بادشاہ بنا اور دوسرا ہمیشہ رعیت؟ یہ سوال اب ملت اسلامیہ ہند کو خود سے پوچھنا ہوگا۔
فرقہ پرستوں کو روکنے کی تگ و دو: نتیجہ صفر سے نیچے
ہم نے بی جے پی اور سنگھ پریوار کو روکنے کے لیے دہائیوں تک قربانیاں دیں، سیاسی اتحادوں میں ذاتی وقار کی قربانی دی، مگر نتیجہ “صفر” نہیں بلکہ “صفر سے بھی نیچے” نکلا۔ کیونکہ ہم نہ صرف اپنی سیاسی طاقت سے محروم ہوئے بلکہ اپنے بیانیے سے بھی۔ ہمارے رہنما کہتے ہیں کہ اگر ہم نے سیاست کو “کلمہ” پڑھانے کی کوشش کی تو فرقہ پرست مزید متحد ہو جائیں گے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ کب کے متحد ہو چکے ہیں! اب ان کی یکجہتی ہماری سرگرمیوں کا ردعمل نہیں بلکہ ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ سیکولر پارٹیوں نے اس خوف کو ہمارے دل میں بٹھا دیا تاکہ ہم ہمیشہ ان کے سائے میں رہیں، ان کے “ووٹ بینک” بنے رہیں، مگر کبھی اپنی حیثیت کے ساتھ سیاسی میدان میں نہ اتریں۔
سیکولرزم کا جھوٹا لبادہ اور حقیقت کا چہرہ
آج جو پارٹیاں خود کو سیکولر کہتی ہیں، وہ ہمیں اپنی جاگیر سمجھ بیٹھی ہیں۔ انتخاب کے دنوں میں مسجدوں کے قریب آ کر تصویریں بنواتی ہیں، حجاب والی بہنوں سے ہاتھ ملاتی ہیں، اور قرآن کے نام پر جذباتی تقریریں کرتی ہیں۔ مگر اقتدار ملنے کے بعد وہی پارٹیاں مسلمانوں کی آواز دبانے، ان کے مسائل کو پس پشت ڈالنے، اور ان کی نمائندگی ختم کرنے میں پیش پیش رہتی ہیں۔ یہی وہ “نرم فرقہ پرستی” ہے جو “سخت فرقہ پرستی” سے زیادہ خطرناک ہے۔
سورن اقتدار کا کھیل
ایک غلط فہمی ہمیشہ عام رہی ہے کہ ہندو 82 فیصد ہیں۔ لیکن اگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھیں تو “ہندو سماج” دراصل ایک متحد طبقہ نہیں بلکہ مختلف ذاتوں کا بکھرا ہوا مجموعہ ہے۔ ان میں سے “سورن” — یعنی برہمن، ٹھاکر، بنیا، کشواہا — مجموعی طور پر محض 14 سے 15 فیصد ہیں،
لیکن اقتدار، حکومت، اور انتظامیہ کے ہر بڑے ستون پر انہی کا قبضہ ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جس نے “ہندو اتحاد” کا نعرہ دے کر دلتوں اور پسماندہ طبقات کو اپنے پیچھے لگا لیا، لیکن حقیقی اقتدار ان کے ہاتھ میں کبھی نہیں آنے دیا۔
دلتوں کے زخم اور مسلمانوں کی ذمہ داری
فرقہ پرست پارٹیاں الیکشن کے وقت دلتوں کو “ہندو” کہہ کر ساتھ لیتی ہیں، مگر الیکشن کے بعد انہیں پھر اسی “چھوا چھوت” اور نفرت کی اندھی کھائی میں دھکیل دیتی ہیں۔ صدیوں سے دلت اس ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور بدقسمتی سے آج بھی ان کے مسائل “ہندو اکثریت” کے شور میں دب جاتے ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان اور دلت اپنے زخموں کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک مشترکہ درد کے طور پر دیکھیں۔ کیونکہ اقتدار پر قابض طبقے کو مسلمانوں سے نہیں، دلتوں سے زیادہ خوف ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ جب تک ملک میں مسلمان موجود ہیں، وہ دلتوں کو مکمل طور پر غلام نہیں بنا سکتے۔ اسی لیے پہلے مسلمانوں کو کمزور کیا جا رہا ہے تاکہ کل دلتوں کو ان کی “اصلی جگہ” پر واپس دھکیل دیا جائے۔ یہی وہ خفیہ منصوبہ ہے جسے سمجھنا اب وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے کہ مسلمان اپنی سیاسی حکمتِ عملی کو بدلیں۔ ہمیں اپنے حقوق کے لیے کسی کے دروازے پر نہیں جانا چاہیے بلکہ اپنا دروازہ خود تعمیر کرنا ہوگا۔ ہمیں صرف ووٹ دینے والے نہیں بلکہ قیادت کرنے والے بننا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم دلتوں، پسماندہ طبقات، اور دیگر مظلوم اقوام کے ساتھ زمینی سطح پر رشتہ بنائیں۔ ان کے دکھ کو سمجھیں، ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور ایک نیا انصاف پر مبنی سیاسی محاذ کھڑا کریں۔ یہ محاذ صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی اور فکری بھی ہو۔
ہمیں انہیں بتانا ہوگا کہ اصل دشمن وہ نہیں جو ان کے ساتھ رہتا ہے بلکہ وہ ہے جو ان کے نام پر اقتدار حاصل کر کے انہیں ہمیشہ نیچا دکھاتا رہا۔ اب وقت ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ ہم کھلونا نہیں، ایک زندہ اور باوقار قوم ہیں۔ ہم کسی کے ووٹ بینک نہیں، بلکہ سیاسی توازن کا مرکز ہیں۔ ہم اگر متحد ہوں تو اقتدار کے ترازو کا پلڑا پلٹ سکتا ہے۔ ہم اگر بیدار ہوں تو یہ ملک ایک نئی سمت اختیار کر سکتا ہے۔ ہمیں یہ یقین رکھنا ہوگا کہ سیاسی بیداری عبادت سے کم نہیں اور جب ہم اپنی سمت خود متعین کریں گے تو نہ کوئی “فرقہ پرست” ہمیں کمزور کر سکے گا نہ کوئی “سیکولر جاگیردار” ہمیں دھوکہ دے سکے گا۔






