شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
سیرت نبوی کا ایک اہم اور مشہور واقعہ معراج کا ہے ، جو مشہور روایت کے مطابق رجب میں پیش آیا ، ابھی ابھی یہ مہینہ گذرا ہے ، معراج کے موقع پر جو باتیں پیش آئیں ، ان میں ایک اہم بات یہ تھی کہ جب آپﷺ اس سفر آسمانی سے واپس ہوئے اور اگلی صبح اپنی چچازاد بہن حضرت ام ہانیؓ سے اس کاذکر فرمایا تو انھوں نے عرض کیا کہ آپ یہ قصہ اہل مکہ سے نہیں کہیں ؛ کیوں کہ وہ آپ کا مذاق اُڑائیں گے ، حضرت اُم ہانی کو خوب اندازہ تھا کہ یہ حقیقت ناشناس لوگ اللہ تعالیٰ کے نظام غیبی کو سمجھنے سے قاصر ہیں ، جب وہ اس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ آپﷺ کے پاس اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے تو بھلا اس بات کا کیا یقین کریں گے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم سے راتوں رات مکہ مکرمہ سے بیت المقدس اور بیت المقدس سے عالم بالا پر لے جائے گئے ؛ اس لئے انھوں نے سوچا کہ اہل مکہ کی طرف سے تمسخر کا ایک دروازہ کھل جائے گا ۔
لیکن چوں کہ نبی کے لئے یہ بات ضروری ہوتی تھی کہ ان کو جن غیبی حقائق کو ظاہر کرنے کا حکم دیا جائے ، وہ ان کو ظاہر کر دیں ؛ اس لئے آپ ﷺ کعبۃ اللہ تشریف لے گئے اور اس سفر آسمانی کا اہل مکہ کے سامنے ذکر فرمایا ، ہوا وہی جس کا اندیشہ تھا ، لوگوں نے ٹھٹھا کیا ، مذاق اُڑایا ، خود ہنسے ، دوسروں کو ہنسایا ، تمسخر اور استہزاء کے تیر پر تیر پھینکے ، آخر کچھ دشمنان اسلام کو خیال ہوا کہ یہ حضرت ابو بکرؓ کو اسلام کی دعوت سے دُور کرنے کا بہترین موقع اورمناسب وقت ہے ؛ چنانچہ انھیں خبر دی گئی ، پہلے ان سے حجت تمام کرنے کے لئے پوچھا گیا کہ اگر کوئی شخص کہے کہ ایک ہی رات میں اس نے مکہ سے بیت المقدس تک کا سفر طے کیا ہے تو کیا اس پر یقین کروگے ؟ حضرت ابو بکرؓ نے حسب توقع جواب دیا کہ یہ تو بالکل ہی ناقابل یقین بات ہے ، مکہ والوں کے لئے اس سے زیادہ خوشی کی کوئی بات نہیں تھی ، انھیں یقین ہو گیا کہ اب ہم محمد ﷺ سے ان کے سب سے بڑے مددگار اور غمگسار کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔
اس لئے انھوں نے اب ان سے کہا کہ یہ کسی اور کا نہیں ؛ بلکہ آپ کے رفیق خاص محمد (ﷺ) کا بیان ہے ، حضرت ابو بکرصدیقؓ نے فرمایا : اگر محمد ﷺ نے یہ بات کہی ہے تو پھر یہ بات درست ہے ؛ کیوں کہ ہم نے کبھی اپنی آنکھوں سے فرشتہ کو نہیں دیکھا ؛ لیکن ہم آپ کے کہنے کی وجہ سے اس پر یقین رکھتے ہیں ، تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس غیبی سفر کا یقین نہیں کریں ، پھر ہوا یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے اور بیت المقدس کے درمیان پردے اُٹھا دیے گئے ، سارے مناظر آپ کی نگاہوں کے سامنے آگئے ، حضرت ابو بکرؓ لوگوں کی زبان بندی کے لئے سوالات کرتے گئے ، اور آپ ﷺ ان کا جواب دیتے رہے ، یہاں تک کہ معترضین کی زبانیں گنگ ہو گئیں ؛ لیکن جن کے دل مریض تھے اور جنھوں نے تہیہ کر رکھا تھا کہ وہ کفر ہی پر قائم رہیں گے اور سچائی کو قبول نہیں کریں گے ، ان کی ضد نے انھیں تاریکی سے روشنی کی طرف آنے نہیں دیا، یہ ایک بہت بڑا کردار ہے جو سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ نے قیامت تک آنے والی اُمت کے لئے نمونہ کے طور پر پیش کیا ہے ، ان کے اسی عمل نے انھیں’’ صدیق‘‘ کا لقب دلایا ، اور اسی باعث اُمت آپ کو صدیق اکبر کے نام سے یاد کرتی ہے ۔
یہ واقعہ زبان زد عام وخاص ہے، اور جن لوگوں کو تھوڑی بہت دینی معلومات بھی ہیں ، وہ بھی اس سے واقف ہیں ، جلسوں میں بارہا یہ واقعہ ذکر کیا جاتا ہے ، اور لوگ محبت وعقیدت کے کانوں سے سنتے ہیں؛ لیکن کم لوگ ہیں جو اس واقعہ کی گہرائی پر غور بھی کرتے ہیں ، اس واقعہ سے ہم ایمان کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے ، ان میں ایک عقل و فہم بھی ہے ، یہ عقل ہی کا کرشمہ ہے کہ انسان فضاء کی بلندیوں کو ناپ رہا ہے ، اس نے چاند اور مریخ پر اپنے قدم رکھ دیے ہیں ، اور سمندر کی اَتھاہ گہرائیوں کو فتح کر لیا ہے ؛ اسی لئے اسے اپنی عقل پر بہت ناز ہے ، وہ سمجھتا ہے کہ ہمیں عقل کے فتویٰ پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے ، عقل جس بات کو قبول کرے ، وہ قابل قبول ہے ، اور جو بات عقل کے لئے ناقابل قبول ہو ، وہ ایک واہمہ ہے ، جس چیز کو انسان اپنی آنکھوں سے یا اپنی مشینوں سے دیکھ سکے ، وہ موجود ہے ، اور انسان کی آنکھیں جن چیزوں کا ادراک نہ کر سکیں ، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔
لیکن اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ عقل اور مشاہدہ کی سرحدیں جہاں ختم ہوجاتی ہیں ، وہاں سے اللہ تعالیٰ کا غیبی نظام شروع ہوتا ہے ، اسی غیبی نظام کے تحت ہم خدا پر ، وحی کے نظام پر ، انبیاء و ملائکہ پر ، جنت و دوزخ پر اور آسمانی کتابوں پر یقین رکھتے ہیں ، بحیثیت مسلمان ہمارا یقین ہے کہ آنکھیں غلط دیکھ سکتی ہیں ، زبان چکھنے میں غلطی کر سکتی ہے ، ہاتھوں کا ادراک غلط ہوسکتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ کان سننے میں غلطی کر جائے ؛ لیکن جو بات اللہ نے فرمائی ہے اور جو بات اللہ کے رسول نے کہی ہے ، وہ غلط نہیں ہو سکتی ، یہ اٹوٹ یقین ہی ایمان کی بنیاد ہے ، کوئی شخص کس قدر بھی پابند ِصلاۃ ہو ، زکوٰۃ ہی نہیں صدقہ وخیرات بھی دیتا ہو ، اس نے بار بار حج بھی کئے ہوں ، لوگوں کے ساتھ اس کا رویہ بھی بہتر ہو ؛ لیکن جو باتیں یقینی طور پر دین کے سرچشموں یعنی قرآن وحدیث سے ثابت ہوں ، اگر ایسے کسی چھوٹے سے چھوٹے امر کا انکار کر دے تو اعمال کی اس کثرت کے باوجود انسان دولت ِایمان سے محروم ہو جاتا ہے ۔
اسی لئے قرآن مجید نے بار باروضاحت کی کہ کسی عمل کے جائز وناجائز ہونے کا معیار یہ نہیں ہے کہ انسان اس کی مصلحت کو سمجھ جائے ، اور عقل اس کا ادراک کر لے ؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ اور اس کے رسول کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو کسی مسلمان مرد یا عورت کو اس معاملہ میں کسی بات کا اختیار باقی نہیں رہتا ، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا ، وہ گمراہ ہوگا، (الاحزاب: ۳۶)اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جو احکام دئیے ، ان کی عقلی حکمت ومصلحت کا ذکر نہیں فرمایا ؛ حالاںکہ خدائے حکیم کا کوئی حکم حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوسکتا ؛ کیوں کہ احکام شریعت کو اس لئے ماننا ہے کہ وہ اللہ کا حکم ہے ؛ اس لئے نہیں کہ یہ ہماری عقل کے مطابق اورہماری مصلحتوں سے ہم آہنگ ہے ، مثلاً اسلام سے پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ تجارت کے ذریعہ
نفع حاصل کرنے اور سود لینے کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ، سود دینے والے کا پیسہ ایک مدت تک سود لینے والے کے پاس رہتا ہے ، وہ اسی مدت کا عوض سود کی شکل میں حاصل کرتا ہے ، تاجر بھی اپنا پیسہ لگا کر مال خرید کرتا ہے ، اور اس کا مال فروخت ہونے میں ایک مدت لگ جاتی ہے ، گویا وہ جو کچھ نفع لیتا ہے ، وہ اسی مدت کا معاوضہ ہوتا ہے ، قرآن مجید اس کی تردید کرنے کے لئے تجارت اور سود کے معاشی فوائد و نقصانات پر روشنی ڈال سکتا تھا ؛ لیکن قرآن مجید نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا ، اور فیصلہ سنا دیا کہ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ؛ کیوں کہ اللہ نے تجارت کو حلال رکھا ہے اور سود کو حرام : اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا (البقرۃ :۲۷۵)
اسی طرح اہل مکہ کہا کرتے تھے کہ یہ کیا بات ہے کہ انسان اپنے ہاتھوں سے جانور ذبح کرے تو وہ حلال ، اور جو جانور مردار ہو ، جس کو اللہ نے مارا ہو وہ حرام ؟ یہ بات ظاہر ہے کہ ذبح کئے ہونے جانور سے فاسد خون نکل جاتا ہے ، اور وہ انسان کی صحت کے لئے نقصاندہ نہیں ہوتا ؛ جب کہ مُردار کے جسم میں فاسد خون رک جاتا ہے ، اور اس سے طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں ، اس اعتراض کا یہ جواب دیا جا سکتا تھا ؛ لیکن قرآن مجید نے ان حکمتوں اور مصلحتوں پر کوئی گفتگو نہیں کی اور صاف طور پر کہہ دیا کہ اللہ کا حکم ہے کہ جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھاؤ : فَكُلُوْا مِمَّا ذُ كِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ(الانعام : ۱۱۸۲) اور جس کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو ، اسے مت کھاؤ : اَ لَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُ كِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ (الانعام : ۱۱۹)اور اللہ تعالیٰ نے جب محرمات کا ذکر فرما یا اور اس میں مردار کو شامل رکھا ، (المائدۃ : ) قرآن مجیدنے اپنے اس اُسلوب کے ذریعہ ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اگرچہ عقل اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ، اور اسلام اس سے فائدہ اُٹھانے کی ترغیب دیتاہے ؛ اسی لئے قرآن مجید نے بار بار سوچنے ، سمجھنے اور فکر کرنے کی دعوت دی ہے ؛ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان عقل کو اپنا معبود بنا لے ، اورجن چیزوں کے بارے میں اللہ کا فیصلہ موجود ہے ، ان کےبارے میں بھی عقل کو حاکم تصور کرنے لگے ، بہ قول علامہ اقبال ؒ :
صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے
جو عقل کا غلام ہو ، وہ دل نہ کر قبول
اس وقت مغربی تہذیب کی عالم اسلام اور مسلم نوجوانوں پر جو یلغار ہے ، اس کی دو بنیادیں ہیں ، ایک یہ کہ جو بات عقل میں آئے ، اسے قبول کرو ، اور جس بات کو ہماری عقل قبول نہیں کرتی ، اسے خاطر میں نہیں لاؤ ، چاہے وہ بات مذہبی صحیفہ ہی میں کیوں نہ آئی ہو ، یہ کیا بات ہے کہ مرد کو طلاق کا حق ہو اور عورت کو نہ ہو ، یہ کیا ظلم ہے کہ مرد تو ایک سے زیادہ نکاح کرے اور عورتوں کو اس کی اجازت نہیں ہو ، یہ کیسا انصاف ہے کہ بیٹے کے مقابلہ میں بیٹی کو آدھا حصہ ملے ، ایسا کیوں ہے کہ مردوں اور عورتوں دونوں ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہوتے ہیں اوردونوں ہی کے چہرے میں کشش رکھی گئی ہے ؛ لیکن مردوں کے لئے تو پردہ ضروری نہ ہو اورعورتوں کے لئے ضروری ہو ، اس کا کیا فائدہ ہے کہ قربانی کے لاکھوں جانور ایک ہی دن تہہ تیغ کر دیے جائیں ، بجائے اس کے کہ مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی پسماندگی کو دُور کیا جائے ، حج کے سفر پر کیوںکثیر رقم خرچ کر دی جاتی ہے ؟ یہ اور اس طرح کے کتنے ہی سوالات ہیں ، جو اس بنیاد پر اُٹھائے جاتے ہیں کہ انسان کی عقلِ کوتاہ جب تک کسی بات کو قبول نہ کر لے ، وہ اس کو قابلِ قبول نہیں سمجھتا ۔
دوسری بنیاد ہے ، شہوت پرستی ، انسان کو جو بات اچھی لگے ، وہ اس کے مطابق عمل کرے ، ان کے نزدیک خدا کے قانون کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ انسان کی خواہش میں رکاوٹ پیدا کرے ، انسان کو شریعت کا نہیں لذت کا غلام ہونا چاہئے ، جس بات سے انسان کو لذت حاصل ہو ، انسان اس کو کرنے کے لئے آزاد ہے ، آج مغربی دنیا میں کیسے کیسے ناشائستہ اورغیرفطری کاموں کو جواز بخشا جا رہا ہے ، ہم جنس سے تعلق کی اجازت ، ایک ہی جنس کے لوگوں کا آپس میں نکاح ، عریانیت کی عمومی اجازت ، سود کی حوصلہ افزائی ، ان سب کا حاصل یہی ہے کہ انسان کی خواہش پر کوئی کنٹرول نہیں ہونا چاہئے ، وہ اپنی خواہشات پرعمل کے لئے آزاد ہے ، اور خود اپنی مرضی کا مالک ہے ۔
مغربی تہذیب کی یہ دونوں بنیادیں دراصل اسی تصور پر مبنی ہیں کہ انسان کو نظام غیبی کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے ؛ بلکہ حق وباطل اور صحیح وغلط کے سارے فیصلے خود کرنا چاہئے ۔
واقعہ معراج کے موقع سے حضرت ابو بکر ؓ کا اُسوہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی نسلوں کا مزاج بنائیںکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور اس کے حکم کو اپنی عقل سے بالا تر سمجھیں ، وہ اس بات کا یقین کریں کہ حق وباطل کا پیمانہ نہ انسان کی عقل ہے نہ وہ مصلحت ہے جو احاطہ دماغ میں آجائے ، نہ اس کی خواہش ومرضی ہے ، نہ اس کا معیار لذت ہے کہ جو چیز باعث لذت ہو اسے لے لیا جائے ، اور جو چیز لذت اندوزی میں حارج ہو ، اُسے ٹھکرا دیا جائے ، جب تک ہم مسلمانوں کی نئی نسل کی یہ سوچ نہیں بنائیں گے ، مغرب کی طرف سے تہذیبی ارتداد ، فکری انحراف اور تشکیکی انداز ِفکر کی جو بیماری لانے کی کوشش کی جار ہی ہے ، ہم اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے ۔
★★★






