وقت کی اہمیت وافادیت اکابر کی نگاہ میں

20

محمد مامون الرشید، سیتامڑھی 

یہ بات کسی سے مخفی نھی ھیکہ خالق کائنات کی تخلیقات میں کچھ چیزیں ایسی ھیں جنکی قدردانی کرنےمیں انسان کی کامیابی مضمر ھے ،انہیں میں سےایک وقت بھی ھے،جسکےبارے میں کہاگیا “الوقت اثمن من الذھب”(وقت سونے سے زیادہ قیمتی ھے)اور انسان کی موت وحیات اسی پر معلق ھے،وقت کا قدرداں ہی اپنے زمانے کا سکندر بنتاھے،اورجس نےبھی وقت کو ہمیشہ اپنے عمل کے ساتھ مربوط رکھا ھےاسی کو وقت نےمستقبل میں اپنی آنکھوں پر بٹھاکر راہ ترقی کا مزہ چکھایاھے،چنانچہ وقت کی قدردانی ھی کانتیجہ ھےکہ ائمہ اربعہ نے لوگوں کو سیدھی راہ دکھاکرامام کی حیثیت حاصل کی اور علامہ زمحشری وجرجانی رحمت اللہ علیہ علم تفسیر کےاندر قرآن فہمی میں اپنی مثال آپ رکھتے ھیں،امام صحاح ستہ نےدرس حدیث میں کمال حاصل کرکےامت کوایک انعام دیاھے،پھرہم ماضی قریب میں نظر ڈالتے ھیں، توبرصغیر میں علم و حدیث کی نشرواشاعت کےداعی ومبلغ شیخ “عبدالحق “محدث دہلوی رحمت اللہ علیہ سات سال کی عمر میں تمام علوم سے فراغت حاصل کرکےدہلی میں مسنددرس حدیث پر درس دیتےنظرآتےھیں تودوسری طرف شاہ عبدالعزیز رحمت اللہ علیہ پندرہ سال کی عمر میں فراغت پانےکےبعد درس وتدریس میں مشغول ھوگئے، فقیہ العصرمولانا “رشید احمد گنگوہی” رحمت اللہ علیہ کے علمی انہماک ومطالعہ کا یہ عالم تھا کہ انکے نزدیک مطالعہ سے بڑھ کر کوئی شئے مرغوب نہیں تھی،محدث لاثانی علامہ “انور شاہ کشمیری” رحمۃ اللہ علیہ بارہ سال کی عمر میں فتوے دینےلگےتھے مطالعہ کا یہ عالم تھا کہ کئی راتیں ایسی گزریں کہ ان راتوں میں پہلو بستر سےجدا رھا،”مولانا اشرف علی تھانوی “رحمت اللہ علیہ نےکم وبیش ایک ھزار کتابوں کی تصنیف کی اور حکیم الامت کے نام سےمشہور ھوئے، مفتی اعظم پاکستان “مفتی محمد شفیع صاحب “رحمت اللہ علیہ نے بھی بہت ساری کتابوں کی تصنیف کی -اورموجودہ دورمیں جوعلماء دینی خدمت انجام دے رہے ھیں انہوں نے بھی وقت کی اہمیت وافادیت کا پورا خیال رکھاھے، جس بناپر آج علمی حلقوں میں انکا شہرہ ھے، مثلا “مفتی تقی عثمانی “صاحب وخالد سیف اللہ رحمانی صاحب
اور انکےعلاوہ بہت سی ایسی شخصیات نظرآتی ھیں جن سے دنیا فیضیاب ھورھی ھے،کیونکہ سورج وقت کے دامن میں اور ستاروں کے گریباں میں ھے، شہر وبیاباں محل وجھونپڑی ہرجگہ چھایا ھواھے موت کے گھاٹ بھی اتار تاھے، اور زندگی بھی بخشتاھے، جلانےوالی آگ بھی ہے اورباغوں کا باغ بھی وہ ساکن بھی ہے متحرک بھی، وقت مثل برف ھے،جس طریقے سے برف پگھلتے پگھلتے اپنے وجود کو کھو کرپانی میں تبدیل ھوجاتاھے
اسی طریقے سے وقت کی ناقدری کرنے والے لوگوں کی کوئی عزت وفضییلت نہیں رھتی -حاصل یہ ھیکہ جس نے بھی وقت کی قدرومنزلت کوپرکھاھے وقت نے اسکے قدم بوس ھوکر اسے عزت وعظمت بخشاھے،لیکن افسوس صدافسوس کہ ھمارے نزدیک وقت کی کوئی اہمیت نہ رھی -یہی وجہ ھیکہ وقت کا ایک بڑا حصہ لغویات وفضولیات میں صرف ھوجاتاھے اوراسکااحساس تک نہیں ھوتاجس کا نتیجہ خسران مستقبل کو مستلزم ھے،جسکا کوئی حاصل نہیں اسلئے ہمیں چاھیئے کہ ھم اکابرواسلاف کےنقش قدم پرچلتے ھوئے وقت کی اہمیت وفضیلت کوسمجھیں، اور حتی الامکان اپنی زندگی کو نظام الاوقات کےمطابق گذارنے کی سعی کریں،
وماتوفیقی الا باللہ آمین