گجرات الیکشن، کانگریس پر امید اور بی جے پی کے دانتوں تلے پسینہ

4

معاذ مدثر قا سمی، مرکزالمعارف ممبئی
کا فی ہما ہمی اورسیاسی چے می گوئیوں کے بعد بلآخر گجرات الیکشن کی تا ریخ کا اعلان ہوچکا ہے۔ جو دو مراحل میں نو اور چودہ دسمبر کو ہونا طے پایا ہے۔ یہ الیکشن اس معنی کرکے زیادہ اہمیت کا حامل کہ یہ کانگریس اور بی جے پی کیلئے کرو یا مرو کا سوال بن چکا ہے۔ دونوں طرف سے ووٹروں کو اپنے پا لیں میں کرنے کیلئے بھر پور کوشش کے ساتھ ساتھ طرح طرح کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔ لیکن مودی حکومت کے تین سالہ دور میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور روز مرہ کی ضروری اشیا کی آ سمان چھوتی قیمت نے اس وقت حکمراں پارٹی کے دانت تلے پسینہ نکال دیا ہے۔ تو دوسری طرف بائس سال کے لمبے عرصے سے حکومت سے دور کانگریس پارٹی کافی فعال اور امیدوں سے پر نظر آرہی ہے۔
جس طرح سے کانگریس کے نائب صدر امریکی دورے کے بعد سے ایک نئے تیور کے ساتھ حکمراں پارٹی کو مختلف محاذ پر جارحانہ انداز مین گھیرتے نظر آرہے ہیں اور عوام کے دلوں کی عکاسی کرتے ہوے حکومت کی ناکامیوں کو ایک نئے انداز میں اجا گر کر رہے ہیں اور جس طرح اسے عوام کی بھر پور تا ئید حاصل ہورہی ے کانگریس کے حوصلے مزید تر بلند ہوگئے ہیں۔ حالیہ گجرات کے تین دوروں میں جس طرح سے انکو عوامی یمایت ملی ہے اور مزید برآں او بی سی لیڈر الپیش ٹھاکر کا کانگریس میں شمولیت کے ساتھ ساتھ پاٹیدار آندولن کے لیڈر ہاردک پٹیل اور دلت لیڈر جگنیش کا کانگریس کی طرف میلان کانگریس کو کامیابی کا یقین دلا رہا ہے۔
ًبی جے پی اس الیکشن کو کسی بھی صورت میں جیتنے کا عزم کرچکی ہے اور یہ اس کیلئے ضروری بھی ہے کیوں کہ اسی گجرات ماڈل کا ہوا کھڑا کرکے بی جے پی لوک سبھا الیکشن میں تاریخی جیت رقم کی تھی۔مگر کھوکھلے دعوں ہمہ جہت نا کامیوں اور نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی مار کی بناء پر آج یہی سر زمیں نے اسکے قدموں مین بیڑی ڈالنے کا من بنا لیا ہے۔ کیوں کہ یہی دیکھا جا رہا ہیکہ اسے ہر طرف عوامی ناراضگی اور غضب کا سامنا ہے۔اسی بنا پر وہ مختلف ہتھکنذوں کے ذریعہ ووٹرس کو اپنے پالے میں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ چنانچہ جناب وزیر اعظم مودی نے بھی جو وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان ہوجانے کے بعد اس در کو بھلا بیٹھے تھے لگاتار تین چار دورے کرکے مختلف اسکیموں اور پراجیکٹوں کا آغاز کرکے عوامی غضب کو ٹھنڈا کرنے کی نکام کوشش کی۔ جب اس سے دال گلتی نظر نہ آئی تو خود کو بد عنوانی سے پاک کہنے والی پارڈی اپنی مخالف تحریک کے لیڈروں کے خرید و فروخت کا سلسلہ شروع کردیا اور اسے بری طرح ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔
جہاں کانگریس کیلئے گجرات کی فضا سازگار معلوم ہورہی ہے وہیں اسے پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوے بھرپور ہوشمندی کا ثبوت دینا پڑے گا کیوں کہ بہت سی سیکولر پارٹیاں مختلف دعووں کے ساتھ اس میدان میں اترکر ووٹوں کی تقسیم ہونے کا باعث بنینگیں۔
جس طرح عام آدمی پارٹی پچاس سیٹوں پر اور سماجوادی پارٹی نے کانگریس کی حمایت کے ساتھ تقریبا پانچ سیٹوں پر لڑنے کا اعلان کیا ہے تو بہتر یہی ہوگا کہ ان تمام پارٹیوں سے ملکر اتحاد کی صورت قائم کی جائے تاکہ اس کھیل کو بگڑنے سے بچایا جاسکے ۔ یہ اس لیئے بھی ضروری ہے کیوں کہ گجرات الیکشن کے نتائج کا سیدھا اثر آنے والے دو ہزار انیس کے لوک سبھا ایکشن پر پڑیگا۔