مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ہم دین کی حفاظت کیلئے بیدار ہوجائیں: عبیداللہ خان اعظمی کانفرنس تاریخی ہوگی

5

  اس کو اختلافی بناکر متحدہ طاقت و قیادت کو کمزور نہ کریں ڈاکٹر عبیداللہ خان کی حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی سے امارت شرعیہ میں ملاقات

پٹنہ : 9؍اپریل (نمائند)

  ’’دین بچاؤ دیش بچائو کانفرنس‘‘ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے دین کی ایک ایک جز کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری بنتی ہے ۔ ساتھ ہی ملک میں فرقہ پرست طاقتیں آج حاوی ہورہی ہیں، ان سے ہمارے دین اورملک دونوں کو ہی خطرہ لاحق ہوچکا ہے، وہ آئین میں طرح طرح کی ترمیم کر کے ہماری مذہبی آزادی کو متاثر کر نا چاہتی ہیں۔لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم متحد ہوجائیں اور ایسی طاقتوں کو کرارا جواب دیں۔ہمیں چاہئے کہ مسلک کو بالائے طاق رکھ کر ہم دین اور ملک کی حفاظت کیلئے ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہوجائیں۔ یہ باتیں آج سابق ایم پی مشہور عالم دین حضرت مولانا عبید اللہ خان اعظمی نے امارت شرعیہ پھلواری شریف میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج جب شریعت میں مداخلت شروع ہوچکی ہے تو ایسے وقت میں مسلمانوں کو غفلت سے بیدار ہونا ضروری ہے ۔ ’’دین بچائو دیش بچائو کانفرنس ‘‘ اسی مقصد کے تحت منعقد کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم کو مبارکباد دینا چاہوں گا کہ جب ملک انتہائی نازک حالات سے گزر رہا ہے ۔ مذہب کے نام پر نفرت پھیلائی جارہی ہے، طلاق ثلاثہ جیسے سیاہ بل کو لایا گیا ہے، ایسے وقت میں امیر شریعت نے مسلمانوںکو بیدار کرنے کے مقصد سے ایک زبردست تحریک چلائی ہے اور اس کا آغاز ’’دین بچائو دیش بچائو کانفرنس‘‘ سے ہونے جارہا ہے۔یہ تحریک پورے ملک کو نئی سمت عطا کرے گی۔مولانا اعظمی نے کہا کہ جب تک ہم میں اتحاد نہیں ہوگا ، ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ ہمیں چاہئے کہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ہم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں اور فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف آواز بلند کریں۔ ہم دین کی حفاظت کیلئے بیدار ہوں ۔اسی مناسبت سے15اپریل کو گاندھی میدان میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں کثیر تعداد میں شرکت کر کے اپنے ایمانی جذبے کا مظاہرہ کریں۔ڈاکٹر عبیداللہ خان اعظمی نے امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب سے امارت شرعیہ میں ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔انہوں نے کانفرنس کی تیاریوں کے بارے میں بھی جائزہ لیا۔انہوں نے کانفرنس کو مزید بہتر بنانے کے لئے مفید مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ یہ کانفرنس ہراعتبار سے تاریخی ہوگی، اس لئے ملت کے افراد اس کو اختلاف کا شکار بناکر متحدہ طاقت کو کمزور کرنے کی غلطی نہ کریں۔
مولانا اعظمی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں خود اس کانفرنس میں شرکت کروں گا۔انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی ، سماجی اور فلاحی تنظیموں کو بھی آپس میں اتحاد کر کے ایک محاذ بنانا چاہئے اور اپنے اپنے علاقے میں طے شدہ پروگرام کے مطابق کام کرنا چاہئے۔ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو ہم اپنے مذہب کی حفاظت کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا میں چند طاقتیں چاہتی ہیں کہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ان کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنا دیں اور دین کی حفاظت کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو شریعت میں طرح طرح کی مداخلت شروع ہوجائے گی اور دین کی شکل ہی بدل دی جائے گی۔مولانا نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ 15اپریل کو گاندھی میدان میں ہونے والی دین بچائو دیش بچائو کانفرنس میں کثیر تعداد میں شرکت کریں اوراس کانفرنس کو کامیابی وبامقصد بناکر پورے ملک کو یہ پیغام دیں کہ اب مسلمان اپنے مذہب اور ملک دونوں کی حفاظت کے لئے بیدار ہوچکے ہیں۔اب ان کا استحصال نہیں ہوسکتاہے ۔ کانفرنس پورے ملک کے لئے راہ عمل طے کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں